خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ مواصلات وتعمیرات کااجلاس

خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ مواصلات وتعمیرات کااجلاس

  

پشاور( پاکستان نیوز)خیبرپختونخوا اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ مواصلات وتعمیرات کاایک اجلاس کمیٹی کے چیئرمین وایم پی اے افتخار علی مشوانی کی زیر صدارت منگل کے روز اسمبلی سیکرٹریٹ کے کانفرنس روم پشاو میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران واراکین اسمبلی نوراسلم ملک، راجہ فیصل زمان ،محمد شیراز خان کے علاوہ محکمہ مواصلات کے ایڈیشنل سیکرٹری ،چیف انجینئر نارتھ، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ قانون اور ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ مواصلات وتعمیرات سے متعلق مختلف امور پرتفصیلی بحث کی گئی اور اس ضمن میں کئی اہم فیصلے بھی کیے گئے ۔اجلاس کی کاروائی میں کمیٹی کے چیئرمین کے سوموٹو نوٹس پر بحث کا آغاز کیا گیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیاگیا کہ ضلع مردان بغدادہ اورگوجر گڑھی روڈ ،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گوجرگڑھی، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول شیردل خا ن کلے او رشمسی پل سمیت ٹکر کلے تاخاوی کلے روڈ کے تعمیر اتی کام میں انتہائی ناقص میٹریل کااستعمال کیاگیاہے جبکہ مذکورہ ترقیاتی سکیموں کی نکاسی آب اور پلاننگ بھی معیار کے مطابق نہیں کی گئی ۔کمیٹی کے شرکاء نے فیصلہ کیا کہ قائمہ کمیٹی محکمہ مواصلات کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ ضلع مردان کی ان تمام ترقیاتی سکیموں کا دورہ کرکے مکمل تحقیقات کرے گی اور ذمہ داران کا تعین کرے گی۔ کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ مذکورہ ترقیاتی سکیموں میں غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف بھرپور محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے ۔کمیٹی نے محکمہ مواصلات کے حکام کو ہدایت کی کہ وہ صوبے میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبے عوامی امنگوں کے عین مطابق اور اعلیٰ معیار کو یقینی بناتے ہوئے بروقت مکمل کریں ۔دریں اثناء قائمہ کمیٹی برائے محکمہ امداد ،بحالی وآبادکاری کااجلاس کمیٹی کے چیئرمین وایم پی اے محمد علی کی زیر صدارت اسمبلی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے ممبران ایم پی اے بخت بیدار ، یاسین خلیل اور صاحبزادہ ثناء اللہ سمیت محکمہ امداد ،بحالی وآبادکاری، محکمہ قانون کے متعلقہ افسران ،اسسٹنٹ کمشنر واڑی اوراسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ امداد بحالی وآبادکاری سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے اور اس ضمن میں بعض فیصلے بھی کیے گئے ۔کمیٹی کے ممبران نے اس امر پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ بار بار طلب کرنے کے باوجود سابقہ ڈی سی اپر دیر بغیر کوئی عذر پیش گئے اجلاس سے غیر حاضر ہیں ۔کمیٹی نے سیکرٹری محکمہ اسٹبلیشمنٹ کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ اجلاس میں ان کی شرکت کو یقینی بنائیں کیونکہ صوبائی اسمبلی صوبے کا اعلیٰ ترین آئینی ادارہ ہے اور صوبہ بھر کے تمام سرکاری ملازمین سرکاری امور کے سلسلے میں قائمہ کمیٹی کو جوابدہ ہیں ۔قائمہ کمیٹی نے ڈی سی دیر اپر کے عملے کی جانب سے دیر کے زلزلہ متاثرین کو دھونس اور زبردستی نیب کے دفتر لے جاکران سے یہ بیان دلوانے کہ انہیں پوری امدادی رقم وصول ہوئی جوکہ حقیقت کے برعکس ہے پر سخت تشویش کااظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر واڑی اور دیر خاص کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ڈی سی دفتر کے ماتحت عملے کو فوری طورپر اس عمل سے روکیں ورنہ کمیٹی متعلقہ افراد کے خلاف بھر پور کاروائی کی سفارش کرے گی۔ متعلقہ حکام نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ اس سلسلے میں کمیٹی کی ہدایات پرعمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔ کمیٹی نے ایم پی اے بخت بیدار کے سوال پر محکمہ امداد بحالی وآبادکاری کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں ڈائریکٹر یٹ آف سول ڈیفنس میں حالیہ بھر تیوں ،میرٹ لسٹ اور دیگر تفصیلات کاریکارڈ کمیٹی کے سامنے پیش کرے۔ قائمہ کمیٹی نے سابقہ اور موجودہ ڈی سی دیر اپر کی عدم موجودگی کی بناء پر ایم پی اے صاحبزادہ ثناء اللہ کے اٹھائے گئے سوال پر کاروئی کمیٹی کے آئندہ اجلاس تک مؤخر کردی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -