ایس ایس پی آپریشنز کا جوڈیشل کمپلیکس کا اچانک دورہ

ایس ایس پی آپریشنز کا جوڈیشل کمپلیکس کا اچانک دورہ

  

پشاور( کرائمز رپورٹر ) سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز پشاور عباس مجید خان مروت نے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے پشاورجوڈیشل کمپلیکس کااچانک دورہ کیاجنہوں نے موجودہ صوتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیتے ہوئے ایس او پیز بھی جاری کردیئے خصوصاً مین گیٹ پر ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس اہلکاروں کو ہائی الرٹ رہنے کے احکامات دیئے اس موقع پر ایس پی ہیڈ کوارٹرز،ایس پی سکیورٹی اور دیگرسینئر افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔بعدازاں ایس ایس پی آپریشنز نے سٹی سرکل میں ناکہ بندیوں کا دورہ کیا اور موجودہ صورتحال کے مطابق ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹس کا استعمال لازمی قرار دیتے ہوئے ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا۔تفصیلات کے مطابق برروز منگل ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید خان مروت نے جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کیا اس موقع ایس پی ہیڈ کوارٹرز،ایس پی سکیورٹی بھی ان کی ہمراہ تھے جنہوں نے ایس ایس پی صاحب کو سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور نفری اور سیکورٹی انتظامات کے بارے آگاہ کیا ایس ایس پی آپریشن کو بتایاگیاکہ جوڈیشل کمپلیکس کی سیکورٹی پر مجموعی طورپر105 پولیس جوان تعینات کئے گئے ہیں جن میں ایک انسپکٹر ،دو اسسٹنٹ سب انسپکٹرز،چھ ہیڈکانسٹیبلز اور لیڈی کانسٹیبلز بھی شامل ہے اسی طرح جوڈیشل کمپلیکس میں داخل ہونے والے افراد کی جامہ تلاشی بھی لی جاتی ہے جبکہ انہیں داخلی راستوں پر نصب واک تھرو گیٹس سے بھی گزرنا پڑتاہے جوڈیشل کمپلیکس کی عمارت کے چاروں اطراف میں مشتبہ افراد پر کڑی نظر رکھنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کئے گئے ہیں جس سے کمپلیکس کی مانیٹرنگ کی جاتی ہے اس کے علاوہ سراغ رساں کتوں کے ذریعے عمارت کی کلیئرنس معمول کے مطابق کی جاتی ہے پولیس جوان ہروقت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہائی الرٹ رہتے ہیں عدالتوں کی سیکورٹی پر تعینات پولیس اہلکارایس ایس پی آپریشن سے ملے اور ان کو موجودہ سکیورٹی صوتحال سے آگاہ کرتے ہوئے ایس او پیز ایشو کئے اور موجودہ صوتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا خصوصاً مین گیٹ پر ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس اہلکاران کو انتہائی الرٹ اور چوکس رہنے کے احکامات صادر کئے بعدازا ایس ایس پی آپریشنز نے سٹی سرکل میں ناکہ بندیوں کا دورہ کیا اور موجودہ صورتحال کے مطابق ہیلمٹ اور بلٹ پروف جیکٹس کا استعمال لازمی قرار دیتے ہوئے ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -