ٹی ایم اے احمد پور شرقیہ اور پنجاب بنک کے درمیان رسیدوں کا کیس‘ 52 لاکھ کا فراڈ

ٹی ایم اے احمد پور شرقیہ اور پنجاب بنک کے درمیان رسیدوں کا کیس‘ 52 لاکھ کا ...

  

احمدپورشرقیہ (نامہ نگار) ٹی ایم اے کی منتقلی جائیداد ٹیکس برانچ کے 52 لاکھ روپے کے غبن و فراڈ کیس کی محکمانہ تحقیقات مکمل ہوگئیں۔ مرکزی ملزم احمد حسن نے تمام الزام ٹی ایم اے حکام پر عائد کردیا۔ بنک کی جعلی مہریں لگانے کا الزام ۔ فراڈ کیس نیا رُخ اختیار کرگیا۔ رقم بازیاب نہ ہوسکی۔ (بقیہ نمبر7صفحہ12پر )

تفصیلات کے مطابق دی بنک آف پنجاب میں بلدیہ احمدپورشرقیہ کے اکاؤنٹ ہیں جس میں سرکاری وصولی جمع کروائی جاتی ہے اور منتقلی جائیداد ٹیکس برانچ میں 52 لاکھ روپے کا فراڈ پایا گیا ۔ جس کی تحقیقات کی گئیں اور بلدیہ حکام نے بتایا کہ ان کے پاس رسیدات موجود ہیں اور رقم بنک آف پنجاب میں جمع کراتے رہے ہیں۔ جبکہ بنک کے ملازم اور مبینہ ملزم احمدحسن سے جب بنک حکام کی تحقیقاتی ٹیم نے تفتیش کی تو اس نے کہا کہ رسیدات پر جعلی مہریں ہیں جو بلدیہ کے عملے نے لگائی ہیں۔ اس سلسلے میں حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ملزم احمد حسن بنک ملازمت سے قبل ورک چارج پر اسی بلدیہ میں ملازم رہا ہے اور پھر ایک ٹی ایم او کی گارنٹی پر بنک میں ملازمت ملی اور ملازمت کے 15 یوم بعد ہی فراڈ کیس شروع ہوگیا اور 8 ماہ میں 52 لاکھ روپے کا فراڈ سامنے آچکا ہے اور اس سلسلہ میں مزید یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بلدیہ کے اکاؤنٹنٹ قاضی نعیم نے اکاؤنٹس کی پڑتال کیوں نہیں کی اور ٹی ایم او چودھری ارشد ورک نے تحصیل آفیسر فنانس کا اضافی چارج بھی دوران عرصہ فراڈ میں اپنے پاس کیوں رکھا ہوا ہے اور بلدیہ حکام خصوصاً اکاؤنٹس برانچ ہر ماہ بنک سے ری کنسیلیشن رپورٹ کو اپنے ریکارڈ سے ٹیلی کرتی ہے تویہ 8ماہ تک فراڈ سامنے کیوں نہیں آیا اور اس پر گھپلے میں مبینہ طور پر ٹی ایم اے حکام بھی ملوث ہین۔ جسکی تحقیقات FIA کے ذریعے کرانے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ تاہم بنک ملازم احمد حسن کا ملتان تبادلہ کرادیا گیا ہے۔

فراڈ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -