پولیس کے روایتی چھاپے‘ پکڑے جانیوالے 4 مردود خواتین مقدمہ سے ڈسچارج

پولیس کے روایتی چھاپے‘ پکڑے جانیوالے 4 مردود خواتین مقدمہ سے ڈسچارج

  

ملتان (خبر نگار خصوصی) جوڈیشل مجسٹریٹ ملتان نے پولیس کے روایتی(بقیہ نمبر28صفحہ12پر )

چھاپے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پکڑے جانے والے 4 مردوخواتین کو مقدمہ سے ڈسچارج کرنے کا حکم دیا ہے۔فاضل عدالت میں پولیس تھانہ چہلیک نے ملزموں محمدایاز،جعفر،کنیزمائی اور سائرہ بی بی کو عدالت پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیاکہ چوری کے مقدمہ میں اشتہاری ملزم محمد رفیق کی پل موج دریا پر واقع مکان پر موجودگی کی اطلاع پرچھاپہ مارا تومذکورہ اشتہاری فرار ہوگیا لیکن مذکورہ چاروں ملزم حرام کاری کی تیاری میں مصروف تھے اور گل وگیر تھے جنہیں گرفتارکیا گیا ہے۔فاضل عدالت نے قراردیا کہ مقدمہ کے ریکارڈ سے پتہ چلتاہے کہ خواتین کی بدکاری کے لئے خرید وفروخت کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے اور پولیس نے جس جگہ پر چھاپہ مارا ہے وہ عوامی مقام بھی نہیں ہے اور چھاپہ مارنے کے لئے وارنٹ بھی حاصل نہیں کئے گئے اورعلا قہ کے کسی معزز شخص کو بھی کارروائی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔اور اس صورتحال کودرست نہیں کہاجاسکتاہے فاضل عدالت نے مزید قراردیا کہ مقدمہ میں ملزموں کے خلاف کوئی ثبوت بھی موجود نہیں ہے اور نہ ہی قانونی کارروائی مکمل کی گئی ہے جو پولیس کی بدنیتی کو واضح طورپر ظاہر کرتی ہے۔اس لئے ملزموں کو جیل بھجوانے کی استدعا مسترد کی جاتی ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -