وزیراعظم کا چترال کی ضلعی حکومت کیلئے 20 کروڑ روپے گرانٹ اور یونیورسٹی کے قیام کا اعلان، عوامی نقصان کی سیاست نہیں چاہتے، اللہ تعالیٰ مخالفین کو ہدایت دے: نواز شریف

وزیراعظم کا چترال کی ضلعی حکومت کیلئے 20 کروڑ روپے گرانٹ اور یونیورسٹی کے ...
وزیراعظم کا چترال کی ضلعی حکومت کیلئے 20 کروڑ روپے گرانٹ اور یونیورسٹی کے قیام کا اعلان، عوامی نقصان کی سیاست نہیں چاہتے، اللہ تعالیٰ مخالفین کو ہدایت دے: نواز شریف

  

چترال (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے چترال میں یونیورسٹی کے قیام اور ضلعی حکومت کیلئے 20 کروڑ روپے گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سال جون میں لواری ٹنل بھی مکمل ہو جائے گی۔ سیاسی مخالفین روزانہ مخالفانہ بیان دے رہے ہیں لیکن ہم عوام کو نقصان پہنچانے والی سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے بیانات دینے والوں کو عوام جواب دے رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ ایسے لوگوں کو ہدایت نصیب فرمائے جس پر شرکاءہنس پڑے تو وزیراعظم نے کہا کہ آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟ یہ تو بہت اچھی دعا ہے۔

پاکستان کا وہ برانڈ جس کی بیٹریاں دفاعی ادارے بھی استعمال کرتے ہیں کیونکہ ۔ ۔۔

چترال میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میں یہاں صرف اور صرف لواری ٹنل دیکھنے آیا ہے اور اس کے نام پر ووٹ مانگنے نہیں آیا۔ آج تک چترال کے نوجوانوں کیلئے وعدے اور دعوے تو بہت کئے گئے لیکن کبھی کسی نے کچھ دیا نہیں۔ پہلے وزیراعظم تھا تب بھی آیا، آج بھی وزیراعظم ہوں آج بھی آیا ہوں اور 2018ءسے پہلے بھی آﺅں گا۔ ان کا کہنا تھا کہ لواری ٹنل کی بنیاد 1955ءمیں رکھی گئی تھی جو آج تک مکمل نہیں ہوئی۔ ہم نے اپنی حکومت میں اس پر 10 ارب روپے خرچ کئے ہیں اور اب یہ جون 2017ءمیں مکمل ہو جائے گی، تب اس کا فتتاح کرنے کیلئے بھی آﺅں گا۔

وزیراعظم نے چترال میں یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد چترالی عوام لاہور اور بڑے شہروں کے پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہونے لگیں گے۔ یہ یونیورسٹی میں اپنی نگرانی میں بنواﺅں گا۔ مجھے خوشی ہے کہ چترال کے عوام اب اردو سمجھنے لگ گئے ہیں۔ انہوں نے چترال میں 250 بستروں کا ہسپتال بنانے، گولن گول سے چترال تک 125 کے وی اے کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے اور کم از کم 100 دیہات میںبجلی فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ چترال اب خوشحالی کی منزلیں طے کرے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ چترال میں لواری ٹنل پر 27 ارب روپے کے علاوہ 17 ارب روپے سڑکوں کی تعمیر و ترقی کیلئے بھی خرچ کئے جا رہے ہیںاور چترال کی سڑکیں موٹروے سے کم نہیں ہوں گی۔ انہوں نے ضلعی حکومت کیلئے 20 کروڑ روپے گرانٹ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے کبھی کوئی ایسا اعلان نہیں کیا جس پر عمل نہ ہو سکتا ہو۔ جتنے بھی منصوبوں کا اعلان کیا ہے وہ 2018ءتک مکمل ہو جائیں گے اور جو رہ جائیں گے انہیں 2018ءکے بعد مکمل کیا جائے گا۔

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

وزیراعظم نے سیاسی مخالفین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ مخالفین روز مخالفانہ بیان دیتے ہیں اور ٹی وی پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہیں لیکن ان کی باتوں کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتے کیونکہ عوام انہیں جواب دے رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے کل کراچی میں بھی انہیں جواب دیا ہے اور پنجاب کے عوام بھی دے رہے ہیں۔ میرا خواب ہے کہ ہم سب مل کر پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کریںاور یہی وجہ ہے کہ ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کو کھلے دل سے تسلیم کیا اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ تعاون کیا اور کسی کے خلاف کوئی بغض نہیں رکھا لیکن اگر کوئی تعاون نہیں لینا چاہتا تو ہم پھر بھی اس کے تعاون کیلئے تیار ہیں۔ اگر ہمارے دل میں کوئی بغض ہوتا تو خیبرپختونخواہ میں ہماری حکومت ہوتی۔ میں مخالفین کیلئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت نصیب فرمائے۔ وزیراعظم کی جانب سے ایسا کہے جانے پر جلسے کے شرکاءہنس دئیے جس پر وزیراعظم نے کہا ” آپ ہنس کیوں رہے ہیں؟ یہ تو بہت اچھی دعا ہے۔“

مزید :

چترال -اہم خبریں -