ٹی وی ریموٹ کا جھگڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا، تفصیلات سامنے آگئیں

ٹی وی ریموٹ کا جھگڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا، تفصیلات سامنے آگئیں
ٹی وی ریموٹ کا جھگڑا سپریم کورٹ پہنچ گیا، تفصیلات سامنے آگئیں

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی سپریم کورٹ میں ایک ٹی وی ریموٹ خراب کئے جانے کے کیس کا فیصلہ کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اتنا چھوٹا ہے کہ اسے کنزیومر کورٹس کی سطح پر حل کیا جانا چاہئے تھا۔

نجی ویب سائٹ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق محمد اکرم ملک نامی ایک وکیل نے اپنے ٹی وی کا ریموٹ خراب کرنے پر ایک مکینک کے خلاف صارف عدالت سے رجوع کیا ۔ درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ احسان رقیب نامی مکینک نے اس کے ٹی وی کا ریموٹ ٹھیک کرنے کے بجائے برے طریقے سے خراب کر دیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ معاملہ حل کرنے کیلئے صارف کورٹ کو 45 دن کا وقت بھی دیا تاہم صارف عدالت اس مسئلے کو حل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی جس کے بعد پٹیشنر نے اس حقیقت کے باوجود کہ سپریم کورٹ میں ایک کیس کی اوسط لاگت 75,306 روپے ہے، درخواست دائر کر دی اور دلچسپ امر یہ ہے کہ جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کو نمٹایا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار ایڈووکیٹ محمد اکرم ملک نے موقف اختیار کیا کہ اس نے ایک غیر ملکی کمپنی کا ٹی وی ریموٹ مرمت کرنے کیلئے دیا تھا لیکن مکینک احسان رقیب نے اسے بری طرح خراب کر دیا۔ دوسری جانب احسان نے موقف اختیار کیا کہ اس نے خراب ریموٹ کے بدلے نیا ریموٹ دینے کی پیشکش کی لیکن اکرم ملک نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ وہ ریموٹ چین میں بنایا گیا ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار اور ملزم کی جانب سے دئیے گئے دلائل پر ججز سمیت کمرہ عدالت میں موجود دیگر افراد بھی حیران رہ گئے۔

رپورٹ کے مطابق اسی دوران کمرہ عدالت میں موجود ایک اور وکیل جو ایک دوسرے کیس میں موبائل کمپنی کی نمائندگی کر رہا تھا، نے مکینک کی جانب سے ریموٹ کنٹرول خراب کئے جانے پر 5000 روپے دینے کی پیشکش کی جس پر یہ معاملہ ختم کر دیا گیا۔ بعد ازاں درخواست گزار نے وکیل کی جانب سے ملنے والے 5000 روپے ایدھی فاﺅنڈیشن کو عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

مزید :

اسلام آباد -