سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی طرف سے واپڈا کو 1984ء میں الاٹ کی گئی سرکاری رہائش گاہوں کی تفصیلات طلب کرلیں

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی طرف سے واپڈا کو 1984ء میں الاٹ کی گئی سرکاری رہائش ...
سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی طرف سے واپڈا کو 1984ء میں الاٹ کی گئی سرکاری رہائش گاہوں کی تفصیلات طلب کرلیں

  

اسلام آباد (صباح نیوز) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی طرف سے واپڈا کو 1984ء میں الاٹ کی گئی سرکاری رہائش گاہوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت کو بتایا جائے کہ یہ رہائشگاہیں کن قواعد و ضوابط اور شرائط کے تحت دی گئی تھیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت کو متعلقہ دستاویزات جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے ایک ملازم کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔

پاکستان کا وہ برانڈ جس کی بیٹریاں دفاعی ادارے بھی استعمال کرتے ہیں کیونکہ ۔ ۔۔

جسٹس اعجاز افضل خان اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بدھ کے روز کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو ملازم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مکانوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے قوانین کے رول 4 کے تحت جس مکان میں وہ رہ رہے ہیں اس کے اہل ہیں۔ ہائیکورٹ نے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ نہیں کیا۔ وفاقی حکومت کی طرف سے سید نایاب گردیزی پیش ہوئے تو انہوں نے بتایا کہ آئیسکو ملازمین واپڈا کے ملازمین نہیں رہے کیونکہ آئیسکو ایک کمپنی بن چکی ہے اور 2002ء میں نئے قوانین آنے کے بعد واپڈا کو الاٹ کئے گئے سرکاری مکانات آئیسکو کے ملازمین کو نہیں دیئے جا سکتے اور نہ ہی واپڈا اپنے ملازمین کو یہ مکانات ازخود الاٹ کر سکتا ہے۔ متعلقہ وزارت ہی سرکاری رہائشگاہیں الاٹ کر سکتی ہے۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ 2002ء کے قوانین کے بعد جو ملازمین ریٹائر ہو رہے ہیں ان کے مکانات وفاقی حکومت اپنی تحویل میں لے کر دیگر ملازمین کو الاٹ کر رہی ہے۔ ابھی تک 15 سے زائد مکانات واپس لئے جا چکے ہیں لیکن آئیسکو کے عدالت میں موجود ملازم کو جو مکان الاٹ کیا گیا ہے وہ قواعد و ضوابط کے خلاف دیا گیا کیونکہ وہ الاٹیز کے زمرے میں نہیں آتا اور نہ ہی وفاقی ملازم ہے اس لئے وہ اس رہائشگاہ کے لئے اہل نہیں ہے۔ اس نے غیرقانونی طور پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اسی بنیاد پر اسے مکان خالی کرنے کا نوٹس دیا گیا ہے۔

باپ کے گھر کی مرمت کرتے نوجوان کو ایک کمرے میں 40 برس سے پڑی ایسی خوفناک چیز آگئی کہ دیکھ کر پیروں تلے زمین ہی نکل گئی، کبھی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ۔۔۔

اس موقع پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی چیزوں کو مال غنیمت سمجھ لیا جاتا ہے جب آئیسکو کے ملازمین وفاقی حکومت کے ملازمین نہیں ہیں تو یہ حکومت کی رہائشگاہیں کیسے رکھ سکتے ہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ ان رہائشگاہوں کا کرایہ ادا کرتے ہیں اور 2016ء تک حکومت کو کرائے کی ادائیگی کی گئی ہے جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ نے ادائیگیکر دی ہے تو ہم حکومت کو کہہ دیں گے کہ وہ آپ کی بقایا رقم واپس کر دے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ مجموعی طور پر کل کتنی رہائشگاہیں واپڈا کو دی گئی تھیں اور اب تک کتنی واپس لی گئی ہیں اور جب یہ رہائشگاہیں واپڈا کو دی گئیں تو کن قواعد و ضوابط اور شرائط کے تحت دی گئیں جس پر وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ وہ واپڈا سمیت تمام محکموں کو الاٹ کی گئی رہائشگاہوں کی تفصیلات عدالت میں جمع کروائیں گے تاہم انہیں وقت دیا جائے۔ عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر متعلقہ دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروائیں جبکہ کیس کی مزید سماعت عید کی چھٹیوں کے بعد کی جائے گی۔

مزید :

اسلام آباد -