اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (20)

اسلام آباد ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ۔۔۔ناموس رسالتﷺ (20)

میلاد النبیؐ کی تقریب سے خطاب ، کراچی 25جنوری 1948 ء ، کرتے ہوئے واشگاف انداز میں کہا کہ: مَیں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ لوگوں کا ایک طبقہ جو دانستہ طور شرارت کرنا چاہتا ہے ، یہ پروپیگنڈہ کر رہا ہے کہ پاکستان کے دستور کی اساس شریعت پر استوار نہیں کی جائے گی۔ آج بھی اسلامی اصولوں کازندگی پر اسی طرح اطلاق ہوتا ہے جس طرح تیرہ سو برس بیشتر ہوتا تھا۔

نواب بہادر یار جنگ پاکستان کے بانیان کی فہرست میں ایک معتبر نام اور قائداعظمؒ کے معتمد علیہ ساتھی ہونے کی حیثیت سے قائد اعظم کی موجودگی میں آل انڈیا مسلم لیگ اجلاس منعقدہ کراچی ، دسمبر 1943ء میں پاکستان کے مقصد وجود کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ : "اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ وہاں قرآنی نظام حکومت قائم ہو۔ یہ ایک انقلاب ہو گا، یہ ایک نشاۃِ ثانیہ ہو گی ، یہ ایک حیات نو ہو گی جس میں خوابیدہ تصورات اسلام ایک مرتبہ پھر جاگیں گے اور حیات اسلامی ایک مرتبہ پھر کروٹ لے گی۔ پلاننگ کمیٹی آپ کے لئے جو دستوری اور سیاسی نظام مرتب کرے گی ، اس کی بنیاد یں اگر کتاب اللہ اور سنت رسولؐ پر نہیں ہیں تو وہ شیطانی سیاست ہے اور ہم ایسی سیاست سے خداکی پناہ مانگتے ہیں۔"

پاکستان کے پہلے وزیراعظمؒ قائد ملت جنابِ لیاقت علی خان مارچ 1949ء کو پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظمؒ کے تصور کو درج ذیل الفاظ میں اجا گر کرتے ہیں : " میں ایوان کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ بابائے ملت قائداعظم ؒ نے اس مسئلہ کے متعلق اپنے جذبات کا متعدد موقعوں پر اظہار کیا تھا اور قوم نے ان کے خیالات کی تائید غیر مبہم الفاظ میں کی تھی۔ پاکستان اس لیے قائم کیا گیا کہ اس برصغیر کے مسلمان اپنی زندگی کی تعمیر اسلامی تعلیمات و روایات کے مطابق کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ وہ دنیا پر عملاًواضح کر دینا چاہتے تھے کہ آج حیاتِ انسانی کو جو طرح طرح کی بیماریاں لگ گئی ہیں ان سب کے لیے اسلام اکسیر اعظم کا حکم رکھتا ہے۔"

جو لوگ پاکستان کو مغربی تھیوکریسی سے تشبیہ دینے کی کوششیں کر رہے تھے اُن کو مغربی تھیوکریسی اور نظریہ پاکستان کے واضح فرق سے آ گاہ کرتے ہوئے کہا کہ : "جناب والا ! میں نے ابھی یہ عرض کیا تھا کہ اختیارات کے حقیقی حامل جمہور ہیں۔ چناں چہ قدرتی طور پر "تھیوکریسی " کے لغوی معنی " خدا کی حکومت " ہیں اوراس اعتبار سے تو کل کائنات "تھیوکریسی " ہوئی کیوں کہ کا ئنات کا کون سا گوشہ ایسا ہے جہاں اسے قدرت حاصل نہیں، مگر اصطلاح میں تھیو کریسی کلیسا کی حکومت کو کہتے ہیں ، یعنی بر گزیدہ پادریوں کی حکومت جو محض اس بناء پر اختیار رکھتے ہوں کہ وہ ایسے اہل تقدس کی طرف سے خاص طور پر مقرر کیے گئے ہیں جو اپنے مقام مقدس کے اعتبار سے ان حقوق کے دعویدار ہیں اور میں اس امر پر جتنا بھی زور دوں کم ہوگا کہ یہ تصور اسلام سے قطعاًبعید ہے۔ اسلام ملائیت یا کسی حکومت مشائخ کو تسلیم نہیں کرتا۔ اس لیے اسلام میں تھیوکریسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر کوئی اب بھی پاکستان کے نظام حکومت کے ضمن میں "تھیوکریسی " کا ذکر کرتا ہے تو وہ یا تو شدید غلط فہمی کا شکار ہے یا شرارت سے ہمیں بدنام کرنا چاہتا ہے۔"

اسی خطاب میں آگے چل کر قراردار مقاصد کی ایک اور شق کی وضاحت کرتے ہوئے یوں مخاطب ہوتے ہیں کہ : ‘‘قراداد مقاصد میں یہ دفعہ بھی درج ہے کہ مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات و مقتضیات کے مطابق ، جو قرآن مجید اور سنت رسول ٓ میں متعین ہیں ، ترتیب دے سکیں۔یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ اگر مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی زندگی اپنے مذہب کی تعلیمات کے مطابق بنالیں تو اس پر کسی غیر مسلم کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

جناب والا!حکومت ایک غیر جانبدار تماشائی کی حیثیت سے اس امر پر اکتفانہیں کرے گی کہ مسلمانوں کواس مملکت میں صرف اپنے مذہب کو ماننے اور اس پر عمل کرنے کی اجازت ہو ، کیوں کہ حکومت کے اس طریق عمل کا مطلب ہو گا کہ جو مقاصد پاکستان کے مطالبہ کے محرک تھے ، ان ہی کی خلاف ورزی ہو حالانکہ یہ مقاصد اس مملکت کا سنگ بنیاد ہونے چاہییں جسے ہم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔یہ مملکت ایک ایساماحول پیدا کرے گی جو ایک حقیقی اسلامی معاشرہ کی تعمیرمیں ممد و معاون ہو۔ اس کامطلب یہ ہے کہ مملکت کو اپنی مساعی میں مثبت پہلو اختیار کرنا ہو گا۔

ژ"جناب والا! آپ کو یاد ہوگا کہ قائداعظمؒ اور مسلم لیگ کے دوسرے رہنماؤں نے ہمیشہ یہ واضح اور غیر مبہم اعلانات کئے کہ پاکستان کے قیام کے لئے مسلمانوں کے ہاں اپنا طریق زندگی اور ضابطہ اخلاق موجود ہے۔ انہوں نے بار بار اس امر پر بھی زور دیا کہ اسلام کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ خدا اور بندہ کے درمیان ایک ایسا تعلق قائم ہو جسے مملکت کے کاروبار میں کسی قسم کا دخل نہ ہو، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں عمرانی اخلاق کے متعلق مخصوص ہدایات ہیں اور اسلا م روز مرہ پیش آنے والے مسائل کے متعلق معاشرہ کے طرز عمل کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام صرف ذاتی عقائد اور اخلاق کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے پیروؤں سے توقع کرتا ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کریں جس کا مقصد حیات صالح ہو۔یونانیوں کے برخلاف اسلام نے جو صالح زندگی کا تصور پیش کیا ہے اس کی اساس لازماً روحانی اقدار پر قائم ہے۔ ان اقدار کو اہمیت دینے انہیں نافذ کرنے کے لئے مملکت پر لازم ہو جاتاہے کہ و ہ مسلمانوں کی سرگرمیوں کی اس طریقہ پر ہم نوائی کریں کہ ایک ایسا نیا عمرانی نظام قائم ہو جائے جو اسلام کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہو ، جن میں جمہوریت ، حریت، رواداری اور عمرانی عدل شامل ہیں۔ ان کا ذکر تو میں نے تمثیلاًکیا ہے کیوں کہ وہ اسلامی تعلیمات جو قرآن اور سنت نبوی ؐ پر مشتمل ہیں محض اس پر ختم نہیں ہو جاتیں۔ کوئی مسلمان ایسا نہیں ہو سکتا جس کا اس پر ایمان نہ ہو کہ کلام اللہ اور اسوۂ رسولؐ ہی اس کے روحانی فیضان کے بنیادی سر چشمے ہیں۔"

16۔ابلاغ انسان کی وہ وجہ خصوصیت ہے جس کے باعث وہ ساری مخلوق سے ممتاز اور جداگانہ حیثیت کامالک ہے کیونکہ ابلاغ کے جووسائل انسان کو میسر ہیں وہ کسی اورمخلوق کومیسرنہیں۔ ابلاغ دراصل اپنے مافی الضیمر کوآگے پہنچانے کانام ہے انسان کوزبان ،تکلم، علم اورعقل کی بہترین صفات ودیعت کی گئی ہیں۔ انسانی معاشروں کے فروغ اورتنوع میں انسان نے مختلف زبانیں ایجاد کیں،اظہارکے مختلف پیرائے اختیار کئے اورایک دوسرے سے خطاب کے متنوع اسالیب وضع کئے، جودراصل ابلاغ ہی کاوسیلہ ہیں۔ سورۂ رحمان میں "علمہ البیان " اور سورۂ علق میں اللہ تعالیٰ نے ابلاغ ہی کے دوموثرترین ذرائع بیان اورقلم کا ذکر فرمایا ہے۔ جب اپنی جانب سے لکھی ہوئی ہدایت کا تذکرہ فرمایا( تو ہم نے تختوں میں ان کے لئے ہر قسم نصیحت اور تفصیل لکھ دی)۔ قرآن مجید میں 77 مقامات پرابلاغ کالفظ مختلف صیغوں اور اندازمیں مستعمل ہواہے۔ حتی کہ ہردورمیں ہرنبی کو جوبنیادی ذمہ داری سونپی گئی وہ "ابلاغ" ہی کی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام، حضرت ہود علیہ السلام، حضرت صالح علیہ السلام ،حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت شعیب علیہ السلام اوردیگر متعدد انبیا علیم الصلوۃ والسلام نے اپنی بعثت کامقصد "ابلاغ" (وماعلی الرسول الاالبلاغ) ہی بتایا، قرآن مجید نے نبی کریمؐ کومخاطب کر کے فرمایا ’’فانا علیک البلاغ وعلینا الحساب‘‘ خود قرآن مجید کے متعلق بھی فرمان الٰہی ہے کہ ’’ہذا بلاغ للناس‘‘(یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لئے)۔ (جاری ہے)

مزید : اداریہ