7 ۔ ستمبر یوم تحفظ ختمِ نبوت ) یومِ قراردادِ اقلیت

7 ۔ ستمبر یوم تحفظ ختمِ نبوت ) یومِ قراردادِ اقلیت

آج 7 ۔ستمبر ہے ٹھیک 42۔ سال قبل ) 1974ء میں ( پاکستان کی قومی اسمبلی نے لاہوری و قادیانی مرزائیوں کے خلاف مسلمانوں کی جدوجہدکو تسلیم کرتے ہوئے ایک قرار دادِ اقلیت کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا اِس سے پہلے پاکستان میں مرزاغلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر کہنا جرم تھا لیکن 7 ۔ ستمبر 1974 ؁ء کے بعد مرزا قادیانی اور اُس کے ماننے والوں کو مسلمان کہنا جرم قرار دیا گیا اور اس آئینی قرار دادِ اقلیت پر اُس رکن اسمبلی نے بھی دستخط کئے تھے جس نے 1973 ؁ء کے آئین کی تشکیل کے وقت اختلاف کرتے ہوئے اس پر دستخط نہیں کئے تھے گویا یہ قرار دادِ اقلیت 1973 ؁ء کے آئین سے بھی زیادہ متفق علیہ ہے ۔

ہندوستان کے تمام مکاتب فکر نے مرزا غلام احمد قادیانی کے کفریہ عقائد ونظر یات کا بغور جائزہ لینا شروع کیا تمام مکاتب فکر دستوری خاکے 22 ۔ نکات میں ترمیم کرکے تئیسواں 23) واں (نکتہ منظور کر چکے تھے کہ لاہوری و قادیانی مرزائیوں کو ملک کی ساتویں اقلیت قرار دیا جائے۔

*1953ء میں تمام دینی جماعتیں تین مطالبات پیش کر چکی تھیں۔ظفر اللہ خاں سے وزارت خارجہ کا قلمدان واپس لیا جائے *مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور سول وفوج کے کلیدی عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹایا جائے۔یہ تین مطالبات ملک کی مذہبی قیادت نے کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوت کے مشترکہ پلیٹ فارم سے اہل اقتدار کو پیش کئے ۔مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے مسترد کردئیے گئے ،مطالبات کی منظوری کے لئے پرامن تحریک چلی، تحریک مقدس تحفظ ختمِ نبوت کو ریاستی طاقت سے کچل دیا گیا۔مال روڈ سمیت لاہور ،ملتان،کراچی ، سیالکوٹ،گوجرانوالہ ،ساہیوال اور دیگر شہروں میں دس ہزار فرزندانِ اسلام کے سینے گو لیوں سے چھلنی کر دئیے گئے تب سید عطا ء اللہ شاہ بخاری نے فرمایا کہ ’’ میں اس تحریک کے ذریعے ایک ٹائم بم چھپا کر جا رہا ہوں جو اپنے ٹائم پر ضرور پھٹے گا میں زندہ رھاتوخود دیکھ لوں گا ۔ورنہ میری قبر پر آکر بتا دینا !

اُدھر تحریک ختمِ نبوت اپنے مدارج طے کرتی رہی اور احرارو ختمِ نبوت کا قافلۂ سخت جان ہمت سے آگے بڑھتا رھا تاآنکہ 29 ۔مئی 1974 ؁ء کو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء عزیز اپنے سیاحتی سفر سے بذریعہ ٹرین واپس آرہے تھے ،کہ چناب نگر ) سابق ربوہ ( ریلوے اسٹیشن پر قادیانی غنڈوں نے ان پر اس لئے حملہ کردیا کہ طلباء نے ٹرین پر جاتے ہوئے اسٹیشن پر ’’ختمِ نبوت زندہ باد‘‘کے نعرے لگا ئے تھے۔پھر کیا تھا ایک آگ لگ گئی اور شاہ جی کا خواب شر مندہ تعبیر ہونے لگا ۔مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی میزبانی میں حضرت مولاناسید محمد انور شاہ کشمیری ؒ کے شاگرد خاص حضرت مولانا سیدمحمد یوسف بنوریؒ کی امارت وقیادت میں 1953ء کی طرح تمام مکاتب فکر اور بعض سیاسی زُعما ایک ہوگئے ۔

دیکھتے ہی دیکھتے تحریک نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،دیوبندی ،بریلوی،اہلحدیث،حتیٰ کے شیعہ کمیونٹی کے مراکز ختمِ نبوت زندہ باد کی فضا سے گونج اٹھے ،حکومت نے بتھیرے جتن کئے لیکن تحریک دن بد ن زور پکڑتی گئی۔بالآخر 22 اراکین قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیرمسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے حوالے سے قرار داد پیش کی اور ان سب کی نمائندگی حضر ت مولانا شاہ احمد نورانیؒ نے کی 15 اراکین قومی اسمبلی نے بعد میں تائید مزید کی۔13 ۔دن فریقین ) مسلم۔قادیانی( کے مؤقف کوپوری طرح سنا گیا اور قومی اسمبلی میں درج ذیل بل ترمیم پیش کیا گیا :

ہر آگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعد ازاں درج اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔

لہٰذا بذریعہ حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے ۔

1 ۔ مختصر عنوان اور آغاز نفاذ

) 1 ( یہ ایکٹ آئین ) ترمیم دوم ( ایکٹ 1974 ؁ء کہلائے گا۔

) 2 ( یہ فی الفور نافذ العمل ہوگا ۔

2 ۔ آئین کی دفعہ 106 میں ترمیم :اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں جِسے بعدازیں آئین کہا جائے گا،دفعہ 106 کی شق ) 3 ( میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ’’اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص ) جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں( ‘‘درج کئے جائیں گے۔

3 ۔ آئین کی دفعہ 260 میں ترمیم :آئین کی دفعہ 260 میں شق نمبر2 کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی ،یعنی ’’شق نمبر 3 : جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم ،جو آخری نبی ہیں،کے خاتم النبین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مفہوم میں یا کسی قسم کا نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کونبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے ،وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے ۔‘‘

بیان اغراض ووجوہ

جیسا کہ تمام ایوان کی خصوصی کمیٹی کی سفارش کے مطابق قومی اسمبلی میں طے پایا ہے ،اس بل کا مقصد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں اس طرح ترمیم کرنا ہے تاکہ ہر وہ شخص جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا دینی مصلح تسلیم کرتا ہے ،اسے غیر مسلم قرار دیا جائے۔

دستخط

عبدالحفیظ پیرزادہ

وزیر انچارج

اِس تاریخی قرار داد کی متفقہ طور پر منظوری کے بعد وزیر اعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوان میں اِس قرار داد کی منظوری کے حوالے سے تاریخی خطاب کیا جو الگ سے پڑھنے بلکہ سمجھنے کے قابل ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے ،خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے ۔ بھٹو مرحوم جب اپنی زندگی کے آخری ایام اسیری اڈیالہ جیل میں گزار رہے تھے تو انہوں نے ڈیوٹی آفیسر کرنل رفیع الدین سے کہا تھا کہ :

’’احمدیہ مسئلہ ! یہ ایک مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی بار کچھ نہ کچھ کہا ۔ایک دفعہ کہنے لگے : رفیع ! یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں جو یہو دیوں کو امریکہ میں حاصل ہے ۔یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ایک بار انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے ۔اس میں میرا قصور ہے ؟ ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع الدین ! کیا احمدی آج کل یہ کہہ رہے ہیں کہ میر ی موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بد دعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کو ٹھری میں پڑا ہوں؟ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ بۂی اگران کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہرا تے ہیں تو کوئی بات نہیں ۔پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہ گار ہوں اور کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گنا ہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کردے۔بھٹو صاحب کی باتوں سے میں اندازہ لگا یا کرتا تھا کہ شاید انہیں گناہ وغیرہ کا کوئی خاص احساس نہ تھا لیکن اس دن مجھے محسوس ہوا کہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔

) ’’بھٹو کے آخری 323 دن ‘‘از کرنل رفیع الدین(

7 ۔ستمبر کی اس قرار دادِ اقلیت کیبعد لوئر اور اپر کورٹس نے اِس قرار داد کے حق میں کئی تاریخی فیصلے دئیے ، 1984 ؁ء میں قائد تحریک ختمِ نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد ؒ کی قیادت میں تحریک چلی اور صدر محمد ضیاء الحق مرحوم نے اسلامی شعائر کے استعمال سے قادیانیوں کو روکنے کے لئے امتناع قادیانیت ایکٹ جاری کیا جو بعد میں تعزیرات پاکستان کا حصہ بنا۔

مزید : ایڈیشن 1