حزب اللہ اور داعش کی ڈِیل ایران اور قطر کی سرپرستی میں ہونے کا انکشاف

حزب اللہ اور داعش کی ڈِیل ایران اور قطر کی سرپرستی میں ہونے کا انکشاف

ریاض(این این آئی) لبنان میں عرسال کے میدانی علاقے میں حزب اللہ اور داعش تنظیم کے درمیان طے پائے جانے والے سمجھوتے کے بارے میں نئی تفصیلات کا علم ہوا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق اس سمجھوتے کے تحت داعش تنظیم کے 600 جنگجوؤں کو لبنان شام سرحد سے کوچ کر کے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور کی جانب منتقل ہو جانا تھا۔ معاہدے میں شامل شرائط میں لاپتہ لبنانی فوجیوں کے انجام کے بارے میں انکشاف اور داعش کے زخمیوں کے بدلے 3 جنگجوؤں کی لاشوں کا تبادلہ (مذکورہ لاشوں میں ایک ایرانی فوجی محسن حجی کی ہے جب کہ بقیہ دو شامی حکومت کے جنگجوؤں کی ہیں) اور احمد معتوق نامی قیدی کی رہائی شامل ہے۔عرسال کی بلدیہ کی نائب سربراہ ریما کرنبی نے اس حوالے سے تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ داعش کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کی منتقلی کے لیے 17 بسیں فراہم کی گئیں۔ ان میں 4 بسوں میں خواتین اور بچے سوار تھے جب کہ 13 بسیں داعش کے جنگجوؤں سے بھر گئیں۔حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے واضح کیا تھا کہ داعش کے ساتھ معاہدے میں 670 شہریوں، 26 زخمیوں اور داعش کے 308 مسلح ارکان کا انخلاء شامل تھا۔

مزید : علاقائی