ہم نے بہت ڈومور کر لیا اب دنیا کرے ، جہاد صرف ریاست کا حق ہے : جنرل باجوہ

ہم نے بہت ڈومور کر لیا اب دنیا کرے ، جہاد صرف ریاست کا حق ہے : جنرل باجوہ

راولپنڈی( مانیٹرنگ ڈیسک228نیوز ایجنسیاں) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں لیکن کہا جارہا ہے کہ ہم نے بلاتفریق کارروائی نہیں کی، ہم نے بہت ’ڈو مور‘ کر لیا اب دنیا کی باری ہے۔ہمارے دین میں واضح حکم ہے کہ جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے اور یہ حق ریاست کے پاس ہی رہنا چاہیے لہذا بھٹکے ہوئے لوگ جو کررہے ہیں وہ جہاد نہیں فساد ہے ۔ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہو گا، جمہوری روایات کی مضبوطی ہم سب کی مضبوطی ہے، پاکستان کی طاقت کا اصل سرچشمہ نوجوان ہیں، آئندہ کی باگ ڈور انہوں نے ہی سنبھالنی ہے ۔امریکہ سے امداد نہیں عزت اور احترام اور اعتمادچاہتے ہیں، ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے، پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنا ہو گا۔ وطن پر نثار ہونے والے شہدا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلام پیش کرتا ہوں، فوج قوم کے تعاون کے بغیر کچھ نہیں، پاک فوج ہر مشکل وقت میں آپ کیساتھ ہے۔جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں52 ویں ’یوم دفاع‘ کے سلسلے میں منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ’آج میں شہدائے وطن کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں، شہدا کا خون ہم پر قرض ہے، جو قومیں اپنے شہدا کو بھول جاتی ہیں تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ ’دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ نظریاتی ہے جس میں کامیابی کے لیے قوم کا جذبہ اور تعاون ضروری ہے، فوج دہشت گردوں کو ختم کرسکتی ہے لیکن انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ہو، جذبے کا تعلق صرف جنگ سے نہیں قومی ترقی کے ہر پہلو سے ہے۔‘آرمی چیف نے کہا کہ ’دہشت گرد جو کچھ کر رہے ہیں وہ جہاد نہیں فساد ہے، میں بھٹکے ہوئے لوگوں سے بھی کہوں گا کہ وہ جہاد نہیں فساد کر رہے ہیں جس سے وطن اور خود ان کے لوگوں کو سب سے زیادہ نقصان ہورہا ہے، دشمن جان لے کہ ہم کٹ مریں گے مگر ملک کے ایک، ایک انچ کا دفاع کریں گے، ہم نے بہت نقصان اٹھالیا ہے، اب دشمن کی پسپائی کا وقت ہے۔‘ ’ہم اپنے ملک کے جھنڈے کے سبز اور سفید دونوں رنگوں پر نازاں ہیں، اپنے یقین، اپنے ایمان اور اپنی روایات کے لیے ہمیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، قومی اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہم یہ برداشت نہیں کرسکتے کہ کوئی بھی مذہب، فقہ، ذات یا لسا نیت کی بنیاد پر ہماری بنیادیں کھوکھلی کرے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، لیکن ان قربانیوں کے باوجود کہا جارہا ہے کہ ہم نے بلاتفریق کارروائی نہیں کی، اگر پاکستان نے اس جنگ میں کافی نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی بھی ملک نے بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان کا ہی کمال ہے، ہم اس مسلط کردہ جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔‘جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’عالمی طاقتیں اپنی ناکامیوں کا ہمیں ذمہ دار نہ ٹہرائیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہماری بقا کی جنگ ہے، ہم نے بہت ڈو مور کرلیا اب میں دنیا سے کہتا ہوں کہ ڈو مور۔‘انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کی ان تدابیر پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے جہاں وہ بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن میں ان تمام ملک دشمن عناصر کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم پوری توجہ کے ساتھ ان کے گھناؤنے عزائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔دشمن کی ان کوششوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پاک۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو نشانہ بنایا جائے اور اس طرح پاکستان کے عوام کے مستقبل کے ساتھ ساتھ پاک، چین دوستی پر بھی ضرب لگائی جائے۔‘مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آرمی چیف نے کہا کہ ‘بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر موجود لاکھوں نوجوانوں کی پرامن جدوجہد پاکستان یا آزاد کشمیر سے دراندازی کی محتاج نہیں، یہ امر بھارت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ اس مسئلے کے دیرپا حل کے لیے پاکستان کے خلاف گالی اور کشمیریوں کے خلاف گولی کے بجائے سیاسی و سفارتی عمل کو ترجیح دے۔ ’پاکستان اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کے لیے اپنی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتی۔ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے اور ہمیں لا الہ الااللہ کا وارث ہونے پر فخر ہے۔ قومی اتحاد آج وقت کی اہم ضرورت ہے اور ہمارا دشمن جان لے ہم کٹ مریں گے لیکن ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے۔ ہم اس جنگ کو جو ہم پر مسلط کی گئی ہے اسے منطقی انجام تک پہنچائیں گے عالمی طاقتیں ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تواپنی ناکامیوں کاذمیدار ہمیں نہ ٹھہرائیں۔ بلوچستان کے غیور عوام پرفخر ہے، انہوں نے دہشتگردوں اور علیحدگی پسندوں کویکسرمسترکردیا۔ سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے۔ ہم دشمن کی تدابیر پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں اور دشمن بلوچستان کیحالات خراب کرنا چاہتا ہے لہذا بلوچستان کو اسی طرح خون دینے کو تیار ہیں جیسے اس کے بیٹوں نے دیا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنانے کا عمل بند کیا جائے اور بھارت کو سمجھ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد درانداز کی محتاج نہیں ہے۔ کشمیریوں کی حمایت سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا ۔حالیہ پاک امریکہ کشیدہ تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ افغانستان کو اپنی بساط سے بڑھ کر سہارا دینے کی کوشش کی ہے لہذا امریکہ سے امداد نہیں عزت کے ساتھ تعلقات چاہتے ہیں امریکی امداد نہیں عزت اور احترام اور اعتماد چاہتے ہیں ۔ ہمارے سکیورٹی تحفظات کو بھی مد نظررکھنا ہوگا۔ پاکستان امن پسند ملک ہے اور ہم جنگ کے خلاف اور برابری کی بنیاد پر تعلقات چاہتے ہیں ہم سے زیادہ وسائل رکھنیوالے ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے لہذا خدا نخواستہ پاکستان ناکام ہوا تو خطہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا۔ اب ہماری کامیابی اور دشمن کی پسپائی کا وقت ہے، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے جسے آنے والی نسلوں کے لئے جیتنا ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ آج کا پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک روشن مثال ہے، ہمیں بلوچستان کی غیور عوام پر فخر ہے جنہوں نے دہشت گردوں کو مسترد کر دیا، پاک چین دوستی باہمی احترام کی درخشاں مثال ہے، سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کا سرمایہ اور امن کی ضمانت ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے، پاکستان نے چالیس سال کی بدامنی کے باوجود وحدت کو سنبھالے رکھا، ہم جنگ اور دہشتگردی کیخلاف ہیں، کشمیر میں کھلی ناانصافی اور بھارت کا کردار سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے دشمن کو تنبیہ کی کہ کنٹرول لائن پر منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنانے کے عمل کو بند کیا جائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کو اپنی بساط سے بڑھ کر سہارا دینے کی کوشش کی اور نیک نیتی کیساتھ افغانستان میں مذاکرات کی کوشش کی۔جنرل باجوہ نے بتایا کہ بارڈر پر 2600 کلو میٹر پر باڑ لگا رہے ہیں، اپنی سرزمین کو کسی دوسرے کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

آرمی چیف خطاب

راولپنڈی(صباح نیوز) جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب ہوئی ، تقریب کے مہمان خصوصی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تھے۔خصوصی تقریب کا انعقاد یادگار شہدا راولپنڈی میں ہوا،تقریب میں شہداکوسلام پیش کرتے ہوئے انہیں شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا، تقریب میں علاقائی لباس میں ملبوس بچوں نے ملی نغموں پر ٹیبلو پیش کیے ،تقریب میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ا،پوزیشن لیڈر خورشید شاہ، سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق سمیت ارکان پارلیمینٹ وفاقی وزراء خرم دستگیر ، خواجہ محمد آصف ، احسن اقبال، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، مشاہد اللہ، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب ، سینیٹر مشاہد حسین سید ، ایئر چیف مارشل سہیل امان ، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل ذکاء اللہ ، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور، سابق آرمی چیف جنرل (ر ) اشفاق پرویز کیانی ، جنرل (ر) راحیل شریف اور ممتاز شخصیات پاکستان میں چین کے سفیر سن وی ڈونگ نے شرکت کی، تقریب میں شہدا کے اہل خانہ نے بھی شرکت کی۔ تقریب کے پہلے حصے میں چھ ستمبر 1965 ؁ کی جنگ کے شہداء کی یادگار پر پھول چڑھائے گئے اور شہداء کی قربانیوں کے لیے خراج عقیدت پیش کیا گیا تقریب کے آغاز میں قومی ترانہ بجایا گیا۔شہداء کو خراج عقیدت کے دوران تقریب میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے،بیشتر شرکاء خاصکر شہداء کے عزیز واقارب اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکے، اور ان کے آنکھوں سے آنسو چھلک گئے،تقریب کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا پہلے حصے میں شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کیا گیا، جبک اس دوران ملی نغموں سے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کیا گیا، دوسرے حصے میں شہدا کی داستان پیش کی گئی اور پاکستان کی 70 سالہ تاریخ سے متعلق دستاویزی فلم دکھائی گئی ،مقبوضہ کشمیر میں جاری حق خود ارادیت کے دوران کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے بھارتی مظالم کواجاگر کیا گیااور کشمیری عوام کو اپنا حق دینے کا مطالبہ کیا گیا جو ملی نغمے کی صورت میں پیش پیش کیا گیا اس دوران کشمیرمیں بھارتی مظالم کی ویڈیو کلیپس بھی دکھائے گئے ،اس حصے میں دشمن کی 1965 میں ملک پر رات کے اندھیرے پر یلغار جس میں دشمن بھارت کو پسپائی اور شکست ہوئی کی ویڈیو ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی اس حصے میں افغانسان پر مسلط کی گئی جنگ کے دوران افغان پناہ گزینوں کی پاکستان آمد کا بھی خصوصی تذکرہ کیا گیا اور پاکستان کے خلاف دشمن کے عزائم او ر قوم کی حمائت سے مسلح افواج کی مختلف فوجی آپریشنز میں کامیابیو ں کی بھی عکاسی کی گئی اور مختلف گیت بھی پیش کئے گئے جس کی تقریب کے شرکاء نے داد دی،تقریب کے آخری اور تیسرے حصے میں امید اور حوصلوں کی بات کی گئی،اس حصے میں ملک کے روشن مستقبل کی عکاسی کی گئی جس میں خصوصی نغمہ پیش کیا گیا اس کے علاوہ سی پیک پر خصوصی ویڈیا پیکیج دکھایا گیا جس میں اس اہم منصوبے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا، اس دوران ملک کا روشن مستقبل نوجوان نسل کے آگے بڑھنے کے منصبوبے دکھائے گئے،اس طرح خصوصی تقریب کے پہلے حصے میں پاکستان کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے والے شہدا کو خراج عقیدت، دوسرے حصے میں شہدا کی داستان پیش کی گئی،تیسرے حصے میں ملک کا تابناک و روشن مستقبل پیش کیا گیا،بعد میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے شاندار پریڈ کامظاہرہ کیا اور دستے نے روئتی دھن پر مارچ پاسٹ کیا اور سلامی پیش کی، اس دوران فضاء نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعروں سے گونج اٹھی ،بعد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہداء پر پھول چڑھائے ،فاتحہ پڑھی اورآخر میں خطاب کیا۔ تقریب میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے یادگار شہدا پر روایتی پریڈ کی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پھول چڑھائے اور سلامی پیش کی۔

یوم دفاع۔ تقریب

مزید : صفحہ اول