صوبے میں کسی بھی غیر شرعی کام کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا :مولانا عطائ الرحمان

صوبے میں کسی بھی غیر شرعی کام کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا :مولانا ...

مٹہ (نمائندہ پاکستان)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء سنیٹر مولانا عطا ء الرحمان ممبر صوبائی اسمبلی مفتی فضل غفور اور ضلعی امیر سابق صوبائی وزیر قاری محمود نے کہا ہے کہ برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں اس وقت تمام خاموش مسلم ممالک برابر کے شریک ہے اور مسلمانوں کی خاموشی قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اس وقت یہودیوں کی نظام تعلیم اور طرز زند گی کو اپنانے کیلئے پوری صوبے کو داو پر لگادی ہے لیکن جمعیت علماء اسلام ان سے ایک ایک بات کا حساب لیں گے انہوں نے کہا کہ صوبے میں کسی بھی غیر شرعی کام کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جایئگی اور اس کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کی جایئگی انہوں نے کہا کہ اسوقت ماسوائے جمعیت دیگر تمام سیاسی جماعتوں نے نظریہ پاکستان سے بغاوت کردی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز مٹہ میں دفاع نظریہ پاکستان کانفرنس کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اجتماع سے حاجی اسحاق زاہد حافظ محمد ادریس مولانا داود قاری رحم اللہ مفتی نصرو اللہ بابر مفتی عارف علی احمد محمد نصیر مروت اور دیگر نے بھی خطاب کی جبکہ کانفرنس لوگوں کی ایک بڑی تعداد میں نے شرکت کی اجتماع میں حاجی نیروز میاں بخت زادہ خان محمد ادریس اور دیگر علماء کرام نے بھی شر کت کی انہوں نے کہا کہاس وقت ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے نظریہ پاکستان کو چھوڑ کر اپنے اپنے ذاتی نظریئے پر گامزن ہے اور اس وقت جمعیت علماء اسلام ہی نظریہ پاکستان پر کام کرتے ہیں اور کرتے رہنگے انہوں نے کہا کہ اس وقت برما کی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر خاموش تمام اسلامی ممالک اس ظلم میں برابر کے شریک ہے انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ برما سے سفارتی تعلقات ختم کرکے برما کے سفارتخانے کو بند کریں انہوں نے اسلامی ممالک کے مشترکہ فوج سے بھی اپیل کی کہ وہ کب مسلمانوں کی کام ایئگی اور مسلمانوں کیلئے اواز اٹھاینگے انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبائی حکومت نے مکمل طور پر صوبے میں یہودی طرز تعلیم اور طرز زندگی اپنانے کیلئے عملی کام شروع کیا ہے جس کی اغاز انہوں نے سرکاری کالجوں اور سرکاری سکولوں میں مخلوط نظام تعلیم کا شروع کرنا ہے لیکن جمعیت علماء اسلام ایسا ہر گز نہیں ہونے دینگے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 2773مکتب سکولوں کو ختم کرکے غریب عوام کی بچوں پر تعلیم کے دروازے پہلے بند کئے تھے جبکہ اب 50طلباء سے کم سکولوں کو سیل کرنے کی قانون بناکر غریب عوام کی بچوں کو مکمل طور پر سکولوں سے محروم رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ 2018میں صوبے کی اندر جمعیت علماء اسلام کی حکومت ہوگی اور اور تبدیلی لانے والے اور کرپشن کو ختم کرنے کی نام پر خوب کرپشن کرنے والوں سے پائی پائی کا حساب لیں گے انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام ہر محاز پر برما کی مسلمانوں کیلئے اواز اٹھاینگے انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی وزیر مٹہ سیاسی انتقام پر سرکاری ملازمین کو تنگ کرنے اور غریبوں کی زمینوں پر چوری سے سیکشن فور لگانے سے گریز کریں ورنہ ذمہ دار پھر خود ہونگے

مزید : پشاورصفحہ آخر