ہمارا خطہ سی پیک کے تناظر میں ایک خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے :مظفر سید ایڈوکیٹ

ہمارا خطہ سی پیک کے تناظر میں ایک خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے :مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے جدید پیشہ ورانہ اور فنی تعلیم کو ترقی کا زینہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دور میں تجربہ کار اور پیشہ ورانہ سکلڈ ورکرز کی بڑی ڈیمانڈ آنے والی ہے کیونکہ یہ خطہ بالعموم اور ہمارا ملک باالخصوص سی پیک کے تناظر میں ایک خاص اہمیت اختیار کر چکا ہے جس میں روزگار کے وسیع مواقع میسر آئیں گے لہذا ہمیں اس کے لئے بھرپور تیاری کر لینی چاہیے اور ان مواقع سے بھرپور استفادہ اٹھانے کیلئے صوبے میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فنی تعلیم کا مستقبل انتہائی روشن ہے اور اس سے فارغ التحصیل طلباء کے لئے زندگی کے ہر میدان میں راستے کھلے ہیں مگر والدین اور طلباء کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں حالانکہ بیرونی دنیا کے اکثر ترقی یافتہ ممالک نے فنی اور پیشہ ورانہ علوم میں ہی مہارت حاصل کر کے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مفت تعلیم کی فراہمی ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں شامل ہے لہذا ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ کے طلباء کو بھی کتب کی مفت فراہمی ہونی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پشاور میں خیبر پختونخوا بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے زیر اہتمام ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگDAEکے امتحانات برائے سال2016-17میں نمایاں پوز یشنز حاصل کرنے والے طلبہ کے اعزازمیں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا جس میں چیئرمین بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن پروفیسر ڈاکٹر غلام قاسم مروت،ممبر بورڈ آف ڈائریکٹر شیر خٹک،ڈائریکٹر ٹیوٹا ہدایت اللہ،ڈی جی کامرس ندیم سمیت پرنسپلز صاحبان،اساتذہ،طلباء اور والدین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا فنی تعلیمی بورڈ کے زیر اہتمام سالانہ امتحان2017میں کل74744طلباء و طالبات نے حصہ لیا جن میں سے47132طلباء و طالبات نے کامیابی حاصل کی اور مجموعی نتائج کا تناسب63.05فیصد رہا۔نتائج کی رو سے بورڈ میں مجموعی لحاظ سے الیکٹریکل ٹیکنالوجی کے جواد الحسن شاہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی جنہوں نے 3550میں سے3116نمبرات حاصل کئے اور ان کا تعلق جی سی ٹی ہری پور سے ہے۔اسی طرح بورڈ میں دوسری پوزیشن الیکٹرانکس ٹیکنالوجی کے محمد عدنان افضل نے حاصل کی جنہوں نے 3400میں سے 2926نمبرات حاصل کئے ان کا تعلق پرنس سلیمان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اسلام آباد سے ہے جبکہ تیسری پوزیشن الیکیٹریکل ٹیکنالوجی کے محمد قاسم نے حاصل کی جنہوں نے 3550میں سے3052نمبرات حاصل کئے اوران کا تعلق پشاور انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مردان برانچ سے ہے۔ نتائج کے مطابق مختلف ٹیکنالوجیز میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں میں ٹیلی کمیونیکیشن میں فرحان عبداللہ،پٹرولیم میں سید صفدر علی شاہ،میکینکل میں محمد ابراہیم،سول میں ثاقب شعیب،الیکٹرانکس میں محمد عدنان افضل اور الیکٹریکل میں جواد الحسن شاہ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ منعقدہ تقریب میں صوبائی وزیر خزانہ نے پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں اسناد اور شیلڈز تقسیم کیں اور ان کو مبارکباد دی۔اس موقع پر انہوں نے اپنے خطاب میں اس بات سے اتفاق کیاکہ فنی تعلیم کی طرف سے ہونہار طلباء کا رجحان کم ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اصل ترقی اور روزگار کا حصول فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم ہی سے حاصل کیاجا سکتا ہے۔ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ حصول تعلیم والدین، بچوں اور اساتذہ پر مبنی تین ستونوں پر قائم ہے جس میں والدین کی توجہ زیادہ غور طلب بات ہے لہذا وہ بچوں کی راہنمائی پر کڑی نظر رکھیں۔انہوں نے بچوں پر زور دیاکہ قوم کا روشن مستقبل ان سے وابستہ ہے اگر انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھا تو انشاء اللہ کل وہ تمام پروفیشنلز ملک میں ملیں گے جن کی آج ہمیں ضرورت ہے۔ تقریب سے چیئرمین فنی تعلیم بورڈ پروفیسر ڈاکٹر غلام قاسم مروت نے خطبہ استقبالیہ پیش کیااور فنی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

مزید : پشاورصفحہ آخر