خاتون صحافی کو گالی دینے پر ”بلاک نریندر مودی“ مہم شروع ہوگئی

خاتون صحافی کو گالی دینے پر ”بلاک نریندر مودی“ مہم شروع ہوگئی
خاتون صحافی کو گالی دینے پر ”بلاک نریندر مودی“ مہم شروع ہوگئی

  

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن)بھا رتی وزیر اعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے نوجوانوں کے خلاف برسر پیکار ہیں ، ان کی درخواست فیس بک نے برہان وانی کی تصاویر لگانے والے اکاﺅنٹس کو بلاک کیا جبکہ ٹوئٹر انتظامیہ نے کشمیری نوجوانوں کے اکاﺅنٹ بلاک کرنے کی دھمکی دے دی ہے مگر اب بھارتی سوشل میڈیا صارفین ان کے خلاف میدان میں آگئے ہیں اور انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کے ٹوئٹر اکاﺅنٹ بلاک کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر مہم شروع کردی ہے۔بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے بائیں بازو کی صحافی گوری لنکیش کے قتل اور انہیں گالی دینے پر نریندر مودی کے خلاف مہم شروع کی ہے۔

پاکستان دہشتگردی کیخلاف جنگ جیت چکا ہے ،واشنگٹن میں بیٹھے لوگوں کوخطے کی حقیقی صورتحال کا ادراک نہیں ،خواجہ آصف

انڈیا ٹوڈے کے مطابق بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی خاتون صحافی گوری لنکیش کے قتل کے بعد بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف بڑے پیمانے پر مہم شروع کردی ہے، وزیر اعظم کے ذاتی ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر خاتون صحافی کو کتیا کہہ کر مخاطب کیا گیا تھا جبکہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسے مرنا ہی تھا۔ اسی طرح نریندرمودی کے ایک قریبی ساتھی نکھیل دیدچ نے خاتون صحافی کے لئے انتہائی گھٹیا زبان استعمال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”ایک کتیا کتے کی موت مری، سارے پلے اک سر میں بلبلا رہے ہیں ، اس ٹوئٹر اکاﺅنٹ کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی ساری لیڈر شپ بشمول نریندر مودی نے فالو کیا ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد نکھیل نے اپنا ٹوئٹ ڈیلیٹ کر دیا 

اس پروپیگنڈے کے بعد سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر #BlockNarendraModi سے ٹرینڈ شروع کیا گیا جو چند ہی منٹوں میں بھارت میں ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ۔ اس ٹرینڈ کے دوران بڑی تعداد میں بھارتیوں نے نریندر مودی کو ٹوئٹر سے بلاک کردیا ہے۔

مزید : بین الاقوامی