’جو بچے کم عمر سے ہی فحش فلمیں دیکھنا شروع کردیتے ہیں ان کی۔۔۔‘ سائنسدانوں نے سب سے بڑا نقصان بتادیا، والدین کو وارننگ دے دی

’جو بچے کم عمر سے ہی فحش فلمیں دیکھنا شروع کردیتے ہیں ان کی۔۔۔‘ سائنسدانوں ...
’جو بچے کم عمر سے ہی فحش فلمیں دیکھنا شروع کردیتے ہیں ان کی۔۔۔‘ سائنسدانوں نے سب سے بڑا نقصان بتادیا، والدین کو وارننگ دے دی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ کا انقلاب بے بہا فوائد کے ساتھ کئی طرح کی خباثتیں بھی اپنے ساتھ لایا ہے جن میں سے ایک فحش مواد کی آسان ترین دستیابی ہے جو نوجوانوں کو کم عمری میں ہی بے راہ روی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ فحش مواد بچوں کی دسترس میں آنے کے باعث کئی طرح کی معاشرتی برائیاں جنم لے رہی ہیں یا لے چکی ہیں۔ اب اس حوالے سے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں چشم کشا انکشاف کر دیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ جو لوگ کم عمری میں ہی فحش فلمیں و دیگر مواد دیکھنا شروع کر دیتے ہیں وہ جنسی عمل بھی کم عمری میں ہی شروع کر دیتے ہیں اور زندگی میں آگے چل کر اس کے غیرفطری اور غیرصحت مندانہ طریقے اپنا لیتے ہیں، جو کئی طرح کی بیماریوں کو جنم دیتے ہیں۔

آدمی کو خواتین کی جیل میں قید کردیاگیا لیکن وہاں پہنچتے ہی اس نے ایسی شرمناک ترین حرکت کردی کہ کھلبلی مچ گئی، جرائم پیشہ خواتین بھی عزت بچانے کیلئے دوڑیں لگانے پر مجبور ہوگئیں کیونکہ۔۔۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی آف بیکنگھم کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں 18سے 25سال کی عمر کے نوجوانوں سے ان کی فحش مواد دیکھنے اور جنسی عمل کے معمول کے متعلق سوالات کیے۔ نتائج میں حیران کن انکشاف سامنے آیا کہ نوجوانوں میں فحش مواد دیکھنے کی اوسط عمر محض 12سال اور جنسی عمل شروع کرنے کی اوسط عمر 13سال ہے۔ اتنی کم عمری میں ہی ’بچے‘ فحش مواد دیکھنے لگتے ہیں اور جنسی عمل بھی شروع کر دیتے ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ ایلیسا واکر کا کہنا تھا کہ ”ہم نے اس تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ فحش مواد لوگوں کی جنسی زندگی پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے، اور ہمارے سامنے اس کے خطرناک نتائج آئے ہیں جن میں معلوم ہوا ہے کہ کم عمری میں فحش مواد دیکھنے والے افراد بعدازاں ایسے جنسی طریقے اپناتے ہیں جو ایڈز جیسی جنسی عمل کے ذریعے پھیلنے والی خطرناک بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔اس خطرناک صورتحال کے سدباب کے لیے حکومت کو فحش مواد تک بچوں کی رسائی روکنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے ہوں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس