ہاروے، کترینہ، ارما۔۔۔ امریکہ میں آنے والے ان قدرتی طوفانوں کے یہ نام تو آپ نے سنے ہی ہوں گے، لیکن ان عجیب و غریب ناموں کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟ آپ بھی حقیقت جانئے

ہاروے، کترینہ، ارما۔۔۔ امریکہ میں آنے والے ان قدرتی طوفانوں کے یہ نام تو آپ ...
ہاروے، کترینہ، ارما۔۔۔ امریکہ میں آنے والے ان قدرتی طوفانوں کے یہ نام تو آپ نے سنے ہی ہوں گے، لیکن ان عجیب و غریب ناموں کا انتخاب کیسے کیا جاتا ہے؟ آپ بھی حقیقت جانئے

  

واشنگٹن(نیوز ڈیسک)امریکہ میں پہلے سمندری طوفان ہاروے (Harvey) نے تباہی مچائی اور ہیوسٹن شہر کا بیشتر حصہ اس کی وجہ سے زیر آب آگیا، اور اب سمندری طوفان ارما (Irma) کریبین سے ہوتا ہوا میامی شہر کی جانب بڑھ رہا ہے۔ دریں اثناءخلیج میکسیکو میں ایک اور بڑا سمندری طوفان ہوزے (Jose) ابتدائی مراحل میں ہے جبکہ آنے والے چند دنوں میں ایک اور بڑا سمندری طوفان کیٹیا (Katia) بھی بڑی تباہی لانے کو تیار ہے۔

کیا آپ نے غور کیا کہ ان طوفانوں کے ناموں کے پہلے انگریزی حروف، H,I,J,Kایک ترتیب میں آرہے ہیں۔ دراصل ان طوفانوں کے نام حروف تہجی کی ترتیب سے ہی مرتب کی گئی اس فہرست سے لئے گئے ہیں جو ’امریکی نیشنل ہریکین سنٹر‘ ہر سال کیلئے تیار کرتا ہے۔ سنٹر کی جانب سے ہر سال کیلئے 21 نام مرتب کئے جاتے ہیں، اور اگلے سات سالوں کی فہرست تیار رکھی جاتی ہے۔ یعنی اس فہرست کی بناءپر آپ اس وقت بھی بتاسکتے ہیں کہ اگلے جون سے نومبر کے سیزن میں آنے والا پہلے طوفان کا نام ’ایلکس‘ ہوگا جبکہ پورے سیزن کے اختتام تک اگر 21 طوفان آئے تو اکیسویں کا نام ’والٹر‘ ہوگا۔ اگر ایک سیزن کے دوران تمام 21 نام ختم ہوجائیں تو اس کے بعد یونانی حروف تہجی کو شامل کرکے فہرست کے پہلے نام سے دوبارہ سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔

’اہرام مصر پر لکھی اس چیز کے مطابق دنیا اگلے ماہ ختم ہوجائے گی کیونکہ۔۔۔‘ ایسا دعویٰ سامنے آگیا کہ دنیا بھر کے سائنسدانوں کی بھی ہوائیاں اڑگئیں

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سمندروں کے نام رکھنے کے اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور اس ضمن میں اقوام متحدہ کی ’ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن‘ کو ویٹو پاور ہے۔ مثال کے طور پر اپریل 2015ءمیں جب ایک طوفان کو ISISکا نام دینے کی کوشش کی گئی تو آرگنائزیشن نے اس کی اجازت نہیں دی کیونکہ یہ نام شدت پسند تنظیم داعش کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔

سمندری طوفانوں کو نام دینے کی روایت بے مقصد نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ اہم فوائد بھی ہوتے ہیں۔ ان میں سے سرفہرست یہ ہے کہ سائنسدانوں، تحقیق کاروں اور ریسکیو اداروںکو قبل از وقت پتہ ہوتا ہے کہ اگلے طوفان کا نام کیا ہوگا اور جب ایمرجنسی سرگرمیاں جاری ہوتی ہیں تو اداروں کی باہم کمیونیکیشن میں ایک ہی نام استعمال کیا جاتا ہے، تا کہ کسی قسم کا ابہام پیدا نہ ہو۔ بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کمیونیکیشن کیلئے یہ بات خصوصاً فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ اگر دنیا کے کسی اور حصے میں طوفان موجود ہو تو اس کے متعلق معلومات کے تبادلے میں ابہام کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ عام طور پر یہ طوفان ایک ملک کے سمندر سے دوسرے ملک کے سمندر کی طرف سفر کرتے ہیں اور بعض اوقات درجنوں ممالک کو متاثر کرتے ہیں لہٰذا ایسی صورت میں بھی طوفان کا مخصوص نام اس کی شناخت اور جغرافیائی لوکیشن کو جاننے اور سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

امیر بنناچاہتے ہیں تو یہ تین کام کریں، ملک ریاض نے نوجوانوں کو مشورہ دیدیا

بحرہند میں آنے والے طوفانوں کے نام اس خطے کے ممالک بنگلہ دیش، بھارت، مالدیپ، میانمر، اومان، پاکستان، سری لنکا اور تھائی لینڈ کے ناموں کی نسبت سے انگریزی حروف تہجی کی ترتیب میںر کھے جاتے ہیں ۔ اس عمل کی بھی اقوام متحدہ کا ادارہ نگرانی کرتا ہے۔

طوفانوں کے نام زنانہ یا مردانہ انسانی نام ہوتے ہیں۔ اس روایت کا آغاز دوسری جنگ عظیم میں ہوا جب امریکی ملاحوں نے طوفانوں کے نام اپنی بیگمات اور بیٹیوں کے نام پر رکھنے شروع کئے۔ کئی دہائیوں تک طوفانوں کے نام صرف زنانہ ہوتے تھے لیکن اسے صنفی امتیاز قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا تو فیصلہ کیا گیا کہ ایک طوفان کا نام زنانہ ہو گا تو اگلے کا نام مردانہ ہو گا، یعنی ہاروے کے بعد ارما، اس کے بعد ہوزے، اور پھر کیٹیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس