’میں نے 8 برس پہلے اپنے شوہر سے پسند کی شادی کی لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ بڑا گھاٹے کا سودا کیا کیونکہ۔۔۔‘ پاکستانی خاتون نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر ہر مرد شدید پریشان ہوجائے

’میں نے 8 برس پہلے اپنے شوہر سے پسند کی شادی کی لیکن اب احساس ہوتا ہے کہ بڑا ...

  



کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سماجی مشیر اسد شفیع کو لوگ طرح طرح کے مسائل لکھ کر بھیجتے ہیں، جن کے جوابات وہ اخبار ایکسپریس ٹربیون میں شائع ہونے والے اپنے کالم میں دیتے ہیں، لیکن حال ہی میں ایک خاتون نے انہیں ایسا عجیب و غریب مسئلہ لکھ بھیجا کہ یقینا ماہر سماجی مشیربھی اسے پڑھ کر حیران رہ گئے ہوں گے۔

یہ خاتون اپنا مسئلہ بیان کرتے ہوئے لکھتی ہیں ”میری عمر 37 سال ہے اور میں دو بچوں کی ماں ہوں۔ آٹھ سال قبل میری پسند کی شادی ہوئی اور ماضی قریب تک میں بہت خوش تھی لیکن کچھ عرصہ قبل ایک عجیب تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے مجھے اس شادی پر پچھتاوا ہونے لگا ہے۔

’جب میرا شوہر مجھے چپیڑ مارتا ہے تو میں۔۔۔‘ مسلمان گلوکارہ کے گانے نے دنیا میں طوفان برپا کردیا، ایسی شرمناک بات کہہ دی کہ خواتین کا غصہ آسمان پر جاپہنچا

میرے شوہر بی اے پاس ہیں جبکہ میں نے ایم بی اے کیا ہوا ہے اور میری آمدنی بھی ان سے زیادہ ہے۔ ہم ابھی تک اپنا گھر بھی نہیں بناسکے اور اس کیلئے بھی میں انہیں ہی ذمہ دار سمجھتی ہوں۔ میرے دل میں یہ خیال پختہ ہوتا جارہا ہے کہ وہ ایک ناکام شخص ہیں۔ میں نے اپنے ان جذبات کا اظہار ان کے سامنے نہیں کیا کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارا رشتہ ختم ہوجائے گا۔

میں شادی سے بھی پہلے سے کام کررہی ہوں اور اب آرام کی ضرورت محسوس کرتی ہوں تاکہ اپنے بچوں کو وقت دے سکوں، لیکن یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ میرے خاوند کی آمدنی کافی نہیں ہے۔ میں نے کئی بار انہیں اپنے کیریئر پر توجہ دینے کو کہا ہے لیکن وہ اسے سنجیدگی سے نہیں لیتے، شاید وہ اس کی قابلیت ہی نہیں رکھتے۔

میں نے انہیں چھوڑنے کے متعلق بھی سوچا ہے لیکن وہ ایک اچھے باپ ہیں اور میرے بچے بھی ان سے بہت پیار کرتے ہیں۔ میں اپنا گھر خراب نہیں کرنا چاہتی لیکن یہ سوچیں دن رات میرے ذہن کو پریشان کئے رکھتی ہیں۔ میں باقاعدگی سے نماز پڑھتی ہوں اور دعا بھی کرتی ہوں کہ ان منفی خیالات سے نجات پاسکوں۔ مجھے بتائیے میں کیا کروں؟“

اسد شفیع اس خاتون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں ”اول تو یہ بات قابل ستائش ہے کہ آپ نے محسوس کیا کہ یہ خیالات منفی ہیں۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ایک بیوی اور ماں کے طور پر آپ کی یہ خواہش کہ آپ کے خاوند کی آمدن بہتر ہو تاکہ آپ اپنے بچوں کو ایک اچھی زندگی فراہم کرسکیں۔ یہ ایک جائز خواہش ہے لیکن آپ جان چکی ہیں کہ ان کی قابلیت کی ایک حد ہے جس سے آگے وہ نہیں جاسکتے تو ایسی صورت میں ان سے کسی کرشمے کی توقع کرنا آپ کیلئے مزید پریشانی اور ذہنی دباﺅ کا سبب بنے گا۔

برطانیہ میں شادی شدہ پاکستانی استانی کی شرمناک حرکت، پوری زندگی سکول کے قریب بھی جانے پر پابندی

میرا خیال ہے کہ آپ کو کچھ سمجھوتا کرنا ہوگا اور اپنی توقعات کو کم کرنا ہوگا۔ آپ کو اس بات کو بھی اہمیت دینا ہوگی کہ وہ ایک اچھے باپ ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر کامیاب شخص اچھا باپ بھی ہو۔ مجھے بہت سی خواتین سے یہ شکایت سننے کو ملتی ہیں کہ ان کا خاوند بری عادات میں مبتلا ہے، غیر خواتین میں دلچسپی رکھتا ہے، شراب نوشی کرتا ہے، یا حتیٰ کہ تشدد جیسے مکروہ فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ خوش قسمتی سے آپ کے خاوند میں کوئی ایسا کوئی عیب نہیں ہے۔

اگر آپ کے خاوند خیال رکھنے والے، عزت کرنے والے، باوفا اور آپ کے بچوں کا خیال رکھنے والے ہیں تو میرا خیال ہے کہ انہیں محض کم آمدنی کی وجہ سے ناکام قرار نہیں دینا چاہیے۔ آخر میں یہ بات یاد رکھئے کہ کامیاب تعلق کی ضمانت کوئی ایسا شخص نہیں ہوسکتا جس میں کوئی بھی خرابی نہ ہو، کیونکہ کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا، بلکہ وہ شخص ہوتا ہے جسے ہم اس کی خرابیوں کے ساتھ قبول کرتے ہیں کیونکہ ہم اسے اپنے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس