یورپی یونین کے عہدیدار کی بیٹی سے زیادتی اور قتل، افغان نوجوان پر فرد جرم عائد

یورپی یونین کے عہدیدار کی بیٹی سے زیادتی اور قتل، افغان نوجوان پر فرد جرم ...
یورپی یونین کے عہدیدار کی بیٹی سے زیادتی اور قتل، افغان نوجوان پر فرد جرم عائد

  

برلن(ڈیلی پاکستان آن لائن)جرمن عدالت نے یورپی یونین کے عہدیدار کی بیٹی کی مبینہ عصمت ریزی کے بعد قتل کے الزام میں ایک افغان نوجوان پر فرد جرم عائد کردی ہے ۔پولیس نے ڈی این اے کی مدد سے ملزم کی شناخت کی جس کے بعد اسے گرفتار کرلیا گیا۔ افغان پناہ گزین کی ہوس کا نشانہ بننے والی لڑکی ایک سماجی کارکن اور رضا کار تھی جو اس سے قبل مختلف ملکوں سے آئے مہاجرین کی مدد میں سرگرم تھی۔

بلوچستان میں مغربی سرحد کے پار سے دہشت گردی ہو رہی ہے: احسن اقبال

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ گذشتہ برس اکتوبر میں جرمنی کے شہر فرایبورگ میں پیش آیا جب ایک افغان تارک وطن حسین کافاری نے انیس سالہ ماریا لاڈنبیرگر کا پیچھا کیا۔ مقامی وقت کے مطابق صبح تین بجے افغان نوجوان نے ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس موٹر سائیکل پر آتے ہوئے ماریا لاڈنبیرگر کو روکا۔ اسے مبینہ طور پر عصمت دری کا نشانہ بنایا اس کے بعد اسے دریائے دریسام میں پھینک دیا۔جرمنی میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے نے پورے جرمن معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد جرمنی میں آنے والے پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانےکے مطالبات بھی زور پکڑ گئے۔ آبرو ریزی کے بعد قتل کی گئی لڑکی کے ولد یورپی یونین کے ہائی کمیشن میں مشیر قانون کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی جواں سال بیٹی کی اس طرح ہلاکت ان کے خاندان کے لیے بہت بڑے صدمے کا باعث بنی ہے۔

جرمن اخبار ’بیلد‘ کے مطابق جرمن عدالت کی طرف سے جاری کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی پناہ کے لیے آنے والا ایک 22 سالہ افغانی نوجوان حسین کافاری یورپی یونین کے ایک عہدیدار کی جواں سال بیٹی کی آبرو ریزی کے بعد قتل میں ملوث ہے۔ملزم نے عدالت میں اپنا بیان دیتے وقت اقبال جرم کیا مگر ساتھ ہی کہا کہ جب اس نے یہ جرم کیا اس وقت اس کی عمر 17 سال تھی۔ وہ سولہ سال کی عمر میں جرمنی آیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ملزم کی عمر 22 سال ہے۔

ملزم جو ماضی میں عدالت میں پیشی کے موقع پر مکمل خاموش رہتا تھا منگل کے روزعدالت میں پیشی کے موقع پر بول پڑا۔ اس نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کے موقف کو بھی سنا جائے، تاہم عدالت ابھی یہ فیصلہ نہیں کر پائی کہ یورپی یونین کے عہدیدار کی بیٹی کا قاتل قتل کے اقدام کے وقت بالغ تھا یا نہیں۔ اگر وہ بالغ نہیں تھا تو اسے دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے تاہم اگر یہ ثابت ہو جائے کہ اس کی عمر اٹھارہ سال سے زاید تھی تو اسے با مشقت عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ آئندہ دسمبر تک مقدمہ کی سماعت ملتوی کردی گئی ہے۔ توقع ہے کہ دسمبر میں ملزم کو عدالت کی طرف سے باقاعدہ سزا بھی سنائی جائے گی۔

مزید : بین الاقوامی