وزیر خارجہ پومپیو نے ٹلرسن کے مطالبات دہرا دیئے

07 ستمبر 2018

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں موجود تعطل ٹوٹ گیا ہے اور دونوں ممالک نے ازسر نو تجدید تعلقات پر اتفاق کیا ہے اب دوطرفہ تعلقات کی بنیاد سچائی پر ہو گی، قومی مفاد اولین ترجیح ہے عالمی برادری ہماری قربانیاں تسلیم کرے،واشنگٹن کے ساتھ عزت سے برابری کے تعلقات چاہتے ہیں،امریکہ نے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے تسلیم کر لیا ہے کہ افغان مسئلے کا طاقت سے حل نہیں نکالا جا سکتا، امریکہ نے طالبان کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا عندیہ دیا ہے،امریکہ نے ڈو مور کا مطالبہ کیا نہ ہم ہر ڈیمانڈ پوری کر سکتے ہیں، ہم کسی پر پریشر ڈالیں گے نہ کسی کا دباؤ قبول کریں گے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو اور امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈنفورڈ کے دورۂ پاکستان اور ان کی وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتوں کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے مائیک پومپیو کی دورۂ واشنگٹن کی دعوت قبول کر لی ہے تاہم وہ پہلے افغانستان کا دورہ کریں گے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے اسلام آباد پر زور دیا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں کے خلاف مستقل دیرپا اور فیصلہ کن اقدامات کرے۔مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پاکستان کا کردار بہت اہم ہے، دورۂ پاکستان میں تجارت سمیت وسیع کامیابیوں کی بنیاد رکھ دی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان پر واضح کر دیا ہے اور پاکستان نے اس سے اتفاق کیا ہے کہ اب دونوں ممالک کی طرف سے کی جانے والی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کا وقت آ گیا ہے، بات چیت کے بعد کئی سمجھوتوں پر اتفاق کیا گیا۔

اِس وقت پاک امریکہ تعلقات نچلی ترین سطح پر ہیں اگر ان پر جمی ہوئی سرد مہری کی برف ذرا سی بھی پگھلی ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ معاملات آگے کی جانب چل پڑے ہیں،جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ کہتے ہیں کہ تعلقات میں موجود تعطل ٹوٹ گیا ہے اور ازسر نو تجدید تعلقات پر اتفاق کیا گیا ہے تو رجائیت پسندی کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔البتہ انہوں نے جو یہ بات کی ہے کہ اب دوطرفہ تعلقات کی بنیاد سچائی پر ہو گی، دیکھنا ہو گا کہ آنے والے وقت کی کسوٹی پر جب پرکھا جائے گا تو یہ بات کس حد تک سچ ثابت ہوتی ہے،کیونکہ دورے اور ملاقاتوں کے بعد پاکستان اور امریکہ کے دفاتر خارجہ کی جانب سے جو پریس ریلیز جاری ہوئی ہیں اُن میں دونوں نے ’’اپنا اپنا سچ‘‘ بولا ہے، مشترکہ سچ کہیں ان کے درمیان ہے اس سچ کے مطابق پاکستان کا موقف ہے کہ امریکہ نے ’’ڈو مور‘‘ کا مطالبہ نہیں کیا، جبکہ امریکی دفتر خارجہ کی جانب سے جو پریس ریلیز جاری کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کرے اور افغانستان میں ثالثی کے لئے مدد کرے،اب معلوم نہیں وزیر خارجہ کے نزدیک امریکہ کا یہ کہنا کہ پاکستان ’’دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات‘‘ کرے، ڈو مور کہنے کے مترادف ہے یا نہیں ؟چونکہ شاہ محمود ’’نئے تعلقات‘‘ کی بنیاد سچائی پر رکھنا چاہتے ہیں،اِس لئے اُنہیں قوم کو بھی صاف طور پر بتانا چاہئے کہ جب امریکہ عسکریت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کی مراد کیا ہوتی ہے؟ اور یہ ڈومورکے مترادف ہوتا ہے یا نہیں، مائیک پومپیو نے تو یہ بھی کہا ہے کہ ماضی میں بہت معاہدے کئے گئے،لیکن عمل نہیں ہوا اب مل کر کام کرنے کا وقت ہے،اِس لئے اب یہ بھی طے کرنا ہو گا کہ وہ کون سے معاہدے تھے جو ماضی میں کئے گئے،لیکن ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

پاکستان کا یہ موقف ہے کہ اس نے دہشت گردوں کے خلاف بہت سے اقدامات بلا امتیاز کئے ہیں اور اس وقت پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردوں کے نہ تو کوئی ٹھکانے ہیں اور نہ ہی پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک میں کارروائیوں کے لئے استعمال ہو رہی ہے،جبکہ اس کے برعکس پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس وقت پاکستانی سرحدوں کے اندر جتنی بھی دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں وہ ان دہشت گردوں کی طرف سے کی جا رہی ہیں،جو اس وقت افغان سرزمین پر موجود ہیں۔اگرچہ پاک فغان سرحد پر پاکستان نے باڑ لگانے کا کام بھی شروع کر رکھا ہے اور سرحد پر حفاظتی چوکیاں بھی بنائی گئی ہیں، آمدورفت بھی پاسپورٹ اور ویزے کے ذریعے ہو رہی ہے،لیکن اس کے باوجود غیر مروج روایتی راستے استعمال کرتے ہوئے افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان میں کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،بلوچستان کے ساتھ افغانستان کی جو سرحد ملتی ہے وہاں سے بھی یہ آمدورفت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں قابو میں نہیں آ رہیں اور اب بھی بڑے پیمانے پر دہشت گردی ہوتی ہے،لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے اقدامات میں تعاون کرنے کی بجائے افغان حکام ہروقت الزام تراشی پر اُترے رہتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ وہ اپنا پہلا غیر ملکی دورہ افغانستان کا کریں گے،اِس دورے میں افغان حکام سے جو بات چیت ہو گی غالباً طالبان کے ساتھ مذاکرات کا معاملہ سرفہرست ہو گا،کیونکہ اِس وقت امریکہ کی کوشش یہ ہے کہ طالبان مذاکرات کی میز پر آ جائیں۔

بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ امریکہ کے موقف میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی، پومپیو کے پیشرو وزیر خارجہ ٹلرسن نے جب پاکستان کا دورہ کر کے پاکستان کے اُس وقت کے حکمرانوں سے ملاقات کی تھی تو بھی ایسی باتیں کی گئی تھیں اب اگر امریکی وزیر خارجہ نیا ہے تو پاکستان میں ایک نئی حکومت آ گئی ہے،امریکہ کی حد تک تو کوئی مطالبہ نیا نہیں ہے ایسے مطالبات وہ عرصے سے کرتا چلا آ رہا ہے اور مختلف امریکی حکام اس کو دہراتے آئے ہیں، اِس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ پومپیو نے بھی پرانا مطالبہ ہی دہرا دیا ہے اور جیسا کہ عام طور پر ایسے مذاکرات میں ہوتا ہے، کچھ ٹھنڈی میٹھی باتیں بھی ضرور ہوئی ہیں، لیکن مذاکرات کا مرکزی نکتہ پرانا ہی ہے، پاکستان کی حکومت بدل گئی ہے، مذاکرات میں سارے چہرے نئے ہیں،جو ٹلرسن کے ساتھ ملاقات کے وقت نہیں تھے،لیکن کیا امریکی مطالبات کا مفہوم بھی بدل گیا ہے۔ یہ شاہ محمود قریشی بہتر جانتے ہوں گے جنہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ امریکہ نے ڈو مور کا مطالبہ نہیں کیا اور نہ ہم یہ مطالبہ مانیں گے،بڑی اچھی بات ہے،لیکن انہیں یہ بھی وضاحت کر دینی چاہئے کہ جو مطالبہ امریکہ نے کیا ہے اُس کے بارے میں اُن کی حکومت کے ارادے کیا ہیں اور کیا دہشت گردوں کے خلاف ’’فیصلہ کن اقدامات‘‘ ہوں گے؟

مزیدخبریں