وزیر اعظم سے اسلام آباد کے صحافیوں کی ملاقات

وزیر اعظم سے اسلام آباد کے صحافیوں کی ملاقات
وزیر اعظم سے اسلام آباد کے صحافیوں کی ملاقات

  

دہشت گردی کی طویل اور ان دیکھی جنگ نے پاکستان کو طویل مدت کے لئے خطر ناک صورت حال سے دوچار کر دیا ہے۔ اس جنگ کا سب سے برااثر معیشت پر پڑا ہے۔ اس کے علاوہ خارجہ تعلقات میں امریکہ اور بھارت کے ساتھ روابط میں کوئی فرق آتا نظر نہیں آرہا ہے۔ افغانستان بھی بھارت کی زبان بول رہا ہے۔ ایران کے ساتھ بھی تعلقات کی وہ نوعیت نہیں ہے جو آر سی ڈی کے زمانے میں تھی۔ اندرونی محاذ پر معیشت کو سہارا دینے کی بجائے کرپشن اور اسمگلنگ نے مشکلات میں اضافہ ہی کیا ہے۔ چند ماہ قبل فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ذرا ئع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ایک طویل ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں فوج کے سربراہ نے ملکی ترجیحات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا اور تفصیلی روشنی ڈالی تھی ۔ انہوں نے کئی نکات کا ذکر کیا تھا، جس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد کا بھی تذکرہ کیا تھا۔ اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے اکثر لوگ مارچ 2018ء میں ہونے والی ا س ملاقات میں موجود تھے۔

ان افراد سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ فوج کے سربراہ کیا کہہ رہے تھے ۔ یہ انتخابات سے قبل کا ذکر ہے۔انتخابات ہوئے، پاکستان تحریک انصاف وفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں حکومتیں قائم کرنے میں کامیاب رہی۔ اسلام آباد کے ہی چنیدہ صحافیوں کو حال ہی میں وزیر اعظم جناب عمران خان سے ملاقات کا موقع میسر ہوا۔ وزیر اعظم سے ڈھائی گھنٹوں کی ملاقات میں جو گفتگو ہونا چاہئے تھی وہ شائد نہ ہوسکی۔ وزیر اعظم سے ملک کے معاملات پر سیر حاصل تبصرے حاصل کرنا چاہئے تھے لیکن اس ملاقات میں ملاقاتی صحافیوں کے ذہنوں پر کوئی خاور مانیکا ہی سوار رہا۔ اس کا تفصیلی ذکرملاقات میں شریک کئی صحافیوں نے اپنے طویل کالموں میں کردیا ہے جو قسط وار شائع ہوئے۔

ارشاد بھٹی نے کالم کے عنوان ’’ وزیر اعظم، صحافی عدالت، میں ‘‘ ذکر کیا ہے۔ اس کالم کے بعض حصے نقل کئے جا رہے ہیں، جن کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ ہم صحافی لوگ بھی ’’نان ایشو‘‘ کو ’’ایشو‘‘ کیسے بناتے ہیں۔ کون خاور مانیکا؟ یہ وہ ہی صاحب ہیں جن کی سابقہ زوجہ کو عمران خان نے اپنی زوجیت میں لے لیا تھا۔ خاور مانیکا کے ساتھ ایک واقعہ رونما ہوا جسے یہ صحافی پوری ملاقات میں لے کر بیٹھے رہے، حالانکہ ارشاد نے لکھا ہے کہ ’’وزیراعظم کے مہمانوں کاویٹنگ روم، وقتِ ملاقات تھا 3 بجے، ٹھیک 3بجے عمران خان آئے، ہاتھ ملانے کی زحمت میں پڑے بغیر ایک مشترکہ سلام پھینک کر وہ سامنے صوفے پر بیٹھے اور کوئی بھاشن دیئے بنا بس یہ کہا کہ ’’میں نے سوچا آپ سب سے ملا جائے، ایشوز پر آن بورڈ کیا جائے‘‘ جی پوچھئے، سوال جواب شروع ہوئے اور پونے دو گھنٹوں تک ہوتے رہے‘‘۔

ارشاد لکھتے ہیں کہ ’’دو چار سوالوں کے بعد میں نے پوچھا ’’خاور مانیکا کی کوئی سیاسی یا قانونی حیثیت‘‘ وہ بولے ’’نہیں‘‘ پوچھا ’’کیا وہ قانون سے بالاتر‘‘جواب آیا ’’وہ کیا میں بھی قانون سے بالاتر نہیں‘‘ میں نے کہا ’’پھر پولیس کے روکنے پر مانیکا صاحب کا یہ ردِعمل کیوں‘‘ وزیراعظم کا جواب تھا ’’مگر میرے پاس جو کہانی، اس کے مطابق پولیس نے زیادتی کی‘‘ عامر متین بول پڑے ’’لگ رہا آپ کو حقائق کا علم نہیں، آپ کی کہانی درست نہیں‘‘ وزیراعظم بولے ’’چلو پھر تو اچھا ہوا کہ سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا، حقائق سامنے آجائیں گے‘‘۔۔۔ بات یہیں پہنچی تھی کہ دوست روف کلاسرا نے وزارتِ عظمیٰ کی مبارکباد دے کر مانیکا ایشو پر میٹھے، دھیمے انداز میں چڑھائی کی تو کپتان نے کہا ’’کیا میں نے کسی کو فون کیا؟ کیا میں نے آئی جی یا وزیراعلیٰ کو کہا کہ یہ کرو یا وہ کرو، کسی نے وزیراعظم ہاؤس سے کسی پر کوئی دباؤ ڈالا، یہ چھوڑیں، بشریٰ بی بی نے کوئی فون کیا یا پریشر ڈالا ہو، بلکہ 5اگست کو جب پولیس نے مانیکا فیملی سے بدتمیزی کی، تو بشریٰ بی بی نے مجھے کہا کہ آپ نے اس معاملے میں نہیں پڑنا، کہانیاں بنیں گی، ہاں اس بارے میں میں نے پرنسپل سیکرٹری سے یہ ضرور کہا کہ ’’آئی جی سے اس معاملے کی رپورٹ لیں‘‘، باقی یہ تو آئی جی سطح کا معاملہ تھا، انہیں حل کر لینا چاہئے تھا، بات وزیراعلیٰ تک بھی نہیں پہنچنا چاہئے تھی‘‘۔

وزیر اعظم کے ساتھ بیٹھے رؤف کلاسرا بھلا اس جواب پر کب مطمئن ہونے اور خاموش رہنے والے تھے، انہوں نے ڈیڑھ منٹ میں بشریٰ بی بی کی دوست فرح کے خاوند احسن جمیل گجر کی وزیر اعلیٰ پنجاب کی موجودگی میں ڈی پی او، آر پی او پاکپتن کو جھاڑنے اور خاور مانیکا سے معافی مانگنے تک پوری کہانی سنا ڈالی، ابھی خان صاحب جواب دینے والے ہی تھے کہ مجھ سے بھی نہ رہا گیا، میں نے کہا ’’وزیر اعظم صاحب ابھی سابقہ ’’شاہی خاندانوں‘‘ سے جان چھوٹنے کی اُمید ہی پیدا ہوئی تھی کہ ’’مانیکا شاہی‘‘ شروع ہوگئی‘‘ عمران خان کا چہرہ سرخ ہوا، مگر اگلے ہی لمحے اپنے روایتی غصے پر قابو پاکر وہ مسکرا کر بولے ’’میں، میرا خاندان، میرے دوست یا کوئی بھی قانون سے بالاتر تھا، نہ ہوگا۔ میں بادشاہت کا قائل ہوں اور نہ شاہی رویوں کا، کیس سپریم کورٹ میں ہے، سب پتا چل جائے گا کہ قصور کس کا‘‘۔

ویسے تو پاکپتن معاملے پر اتنے سوال، جواب ہوئے کہ سامنے دیوار پر لگی گھڑی دیکھ کر وزیر اعظم کو کہنا پڑا ’’یار آدھا گھنٹہ ہوگیا اسی معاملے پر کچھ ملکی معاملات پر بھی بات کرلیں‘‘ اور ویسے تو ایک سوال اور بس ایک آخری سوال کہہ کہہ کر دوستوں نے مزید 15منٹ اس ایشو کے بخیئے ادھیڑ ے‘‘۔۔۔ ’’دوست کاشف عباسی کے اس سوال پر کہ چند دنوں کے معاملات دیکھ کر لگ رہا کہ آپ تیار نہیں تھے حکومت کے لئے وزیراعظم کا جواب تھا ’’ہم تیار تھے مگر ملکی حالات اتنے برے ہوں گے۔ یہ اندازہ نہیں تھا، آج بحیثیت وزیر اعظم میرا پانچواں ورکنگ ڈے، ان پانچ دنوں میں ہی جو کچھ دیکھا، یہی کہوں گا کہ ملک جن کے حوالے تھا، انہیں خوفِ خدا نہیں تھا‘‘، حامد میر صاحب کے اس مشورے پر کہ ’’آپ کو یو این او جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے جانا چاہئے اور خطاب بھی اردو میں کرنا چاہئے‘‘ وزیر اعظم کا جواب تھا ’’اس وقت جو ملکی حالات، میں صرف خطاب کرنے یا صدر ٹرمپ کو ملنے چار دنوں کے لئے نہیں جاسکتا‘‘۔

’’وزیراعظم نے یہ بھی کہا ’’میر ی حکومت کے لئے دو معاملے سنگین، قرضے اور انرجی بحران، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ہم سی پیک، ایل این جی سمیت سابقہ ادوار میں کئے گئے ہر معاہدے کا جائزہ لے رہے، وزیر اعظم عمران خان نے آخر میں کہا ’’ آپ مجھ پر تنقید کریں، مگر ایک تو مجھے 3ماہ کا وقت دیں، ڈلیور کرکے دکھاؤں گا، دوسرا مجھے دو چیزوں پر آپ کی مدد درکار، پہلی کفایت شعاری، بچت مہم ، اس حوالے سے آپ قوم کو شعور وآگہی دیں، دوسرا احتساب پر میری مدد کریں، احتساب بلا امتیاز اور بے رحم ہوگا، کوئی بچ نہیں پائے گا، میں نے قوم کا لٹا پیسہ واپس لانا ہے، اگر یہ نہ ہوسکا تو پھر آگے اندھیرا ہی اندھیرا‘‘۔

یہ وفاقی دارالحکومت میں کام کرنے والے صحافیوں کا معیار کہئے یا قابلیت رہ گئی ہے کہ انہیں خاور مانیکا کے سوا کچھ یاد ہی نہیں تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ خاور مانیکا کیس کے تفتیشی افسر لگے ہوئے ہوں۔ وزیر اعظم عمران خان اس ملاقات سے اس حد تک ایک مرحلے پر تنگ آگئے کہ انہوں نے خود ہی ملاقات کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ اس ملاقات کی کالم میں تفصیل پڑھنے کے بعد یہ ہی نوبت باقی رہ گئی تھی کہ کوئی اپنا سر دیوار سے مارے۔

مزید : رائے /کالم