مالاکنڈ ایجنسی کی ایک بہن کی بھائی کے لئے فریاد

مالاکنڈ ایجنسی کی ایک بہن کی بھائی کے لئے فریاد
مالاکنڈ ایجنسی کی ایک بہن کی بھائی کے لئے فریاد

  

ضرورت مندوں سے دنیا بھری ہوئی ہے، انہی میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا درد سن یا پڑھ کر دل پر گہرا اثر ہوتا ہے، مالاکنڈ ایجنسی خیبرپختونخوا کے ایک گاؤں خرگئی درگئی سے ایک خط موصول ہوا، یہ ایک درد مند، صاحبِ دل دکھیاری بہن کا اپنے بھائی کی زندگی کے لئے بھیک کا خط ہے، دور دراز کے اس گاؤں میں تعلیم کے ذوق کا یہ عالم کہ خاتون ریحانہ بی بی خود پڑھی لکھی اور نجی سکول میں ٹیجر ہیں جبکہ زندگی کی آس والا اس کا بڑا بھائی ناصر خان ڈگری کالج مالا کنڈ میں تیسرے سال کا طالب علم ہے، لیکن بیماری کے باعث غیر حاضریوں کی بناء پر وہ کالج کی تعلیم سے بھی محروم ہوچکا ہے، اس بیٹی نے اپنے بیمار بھائی کی صحت یابی کے لئے ہر ممکن کوشش کی کامیابی نہ ہوئی۔ اب آس اُمید گردے کی ٹرانسپلانٹیشن ہے اور یہ بہن بھائی کے لئے اپنا گردہ بھی عطیہ کرنے کو تیار ہے لیکن اس تبدیلی کے لئے لاکھوں روپے درکار ہیں جو ان کے پاس نہیں ہیں، اب اس نے ’’انکل‘‘ عمران خان کو وزیر اعظم بننے کی مبارک دیتے ہوئے، ان سے اپیل کی کہ وہ ان کے بھائی کا آپریشن کراکے اس کی زندگی اور خاندان کا آسرا بچالیں۔

اس بیٹی نے میڈیا سے بھی شکوے کئے، شاید وہ یہ نہیں جانتی کہ اگر وہ صحیح معنوں میں حق دار اور مظلوم ہے تو یہاں بعض لوگ خود کو ایسا ظاہر کرکے بھی امداد لے لیتے ہیں، بہرحال ہم نے اپنا کام روک کر اس بیٹی کا خط شائع کرنے کا فیصلہ کیا، یقین ہے کہ وفاقی یا خیبر پختونخوا کی حکومت تحقیق کرکے فریادی کی فریاد سن کر داد رسی کردے گی وہ لکھتی ہیں۔۔۔’’انکل سب سے پہلے آپ کو پاکستان کا وزیر اعظم بننے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں میرا نام ریحانہ بی بی ہے، میں ایک پرائیویٹ سکول میں اسلامیات کی ٹیچر ہوں مالاکنڈ ایجنسی میں رہائش پذیر ہوں میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں جس میں دوسرے نمبر پر ہوں میرا بڑا بھائی ناصر خان دو سال سے گردوں کے مرض میں مبتلا ہے۔

میں اپنے بیمار بھائی کی فائلیں مختلف ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو دکھا دکھا کر تھک چکی ہوں سرکاری ہسپتال کی ڈائیلاسزمشین اکثر خراب رہتی ہے۔ اس لئے اکثر میں اپنے بھائی کا پرائیویٹ طور پر ہفتے میں ایک بار اور مہینے میں چار مرتبہ ڈائیلاسز کراتی ہوں فی ڈائیلاسز 5ہزار روپے جبکہ مہینے کے 20ہزار روپے کے اخراجات آتے ہیں۔ میں آج کل انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈائیلاسز حیات آباد پشاور سیکٹر 1فیز 5سے اپنے بھائی کا علاج کرارہی ہوں۔ اس سے پہلے بھائی جان کا علاج مختلف شفاخانوں سے کروا چکی ہوں، مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا ہمارے پاس جتنا سونا موتی اور دو قطعہ زمین تھی وہ سب بھائی کے علاج پر خرچ ہوگئے ڈاکٹروں نے مجھے اُمید کی کرن دکھائی ہے کہ آپ کے خاندان میں اگر کوئی اس کو گردہ دینا چاہئے تو آپ کا بھائی ٹھیک ہوسکتا ہے۔ اس لئے میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے بھائی کو اپنا گردہ دے دوں میرے اور میرے بھائی جان کا ڈی، این، اے میچ ہے۔ انسٹیٹیوٍٹ آف کڈنی ڈائیلاسز حیات آباد پشاور کے ڈاکٹروں کے ایک بورڈ نے مجھے بتایا کہ آپ کا بھائی بالکل ٹھیک ہوسکتا ہے، جس پر تقریباً 20لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

ہم نہایت غریب لوگ ہیں اتنی بڑی رقم ہم کہاں سے لائیں گے، غربت اور بیماری جب ایک ساتھ کسی کے گھر کا رُخ کرتی ہے تو اس کی ہر چیز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر بکھر جاتی ہے اور دنیا کی ہر چیز ہر رنگینی اور خوشی اسے بے مزہ، بے رنگ لگتی ہے میں ایک پرائیوٹ سکول میں پڑھاتی ہوں ایک بھائی دیہاڑی مزدوری کرتا ہے،جبکہ دو چھوٹے بھائی گلی میں سٹے بیچتے ہیں والدہ اور چھوٹی بہن ایک گھر میں صفائی وغیرہ کا کام کرتی ہیں آپ کو پتہ ہوگا کہ ایک پرائیویٹ سکول کی استانی کی کتنی تنخواہ ہوگی میری15ہزار روپے تنخواہ ہے۔ان پیسوں میں میں بھائی کا علاج بمشکل کرا پاتی ہوں۔ پاکستان بیت المال اور زکوٰۃ کے دفتروں سے پہلے ہی مایوس ہوچکی ہوں۔ بیت المال اور زکوٰۃ والے کہتے ہیں اتنی بڑی رقم ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ میرا بھائی ڈگری کالج مالا کنڈ میں تھرڈ ائرکا سٹوڈنٹ تھا، بیماری کی وجہ سے روز روز غیر حاضری پر اسے کالج سے خارج کردیا گیا، وہ ہم سب کا سہارا ہے میں نے اپنے بھائی کے لئے کوئی جگہ نہیں چھوڑی، جہاں پر علاج کے لئے درخواست نہ دی ہو، انتخابات سے پہلے بلاول بھٹو زرداری مالا کنڈ ایجنسی جلسہ کرنے کے لئے آئے تھے، رات بھی گزاری میں اپنے بھائی کے علاج کی درخواست وہاں لے گئی، ملاقات تو دور کی بات مجھے پولیس والوں نے دروازے سے ہی رخصت کردیا کافی پریشان ہوں بھائی کو تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتی کہ بھائی کا علاج کس طرح ہو۔

مجھے سکول کی استانیوں اور پرنسپل نے مشورہ دیا کہ کسی بڑے اخبار کے کالم نگار کو اپنے بھائی کے بارے میں خط لکھو میں نے وہ بھی نہیں چھوڑا میں نے پاکستان کے بڑے بڑے اخبارات کے کالم نگاروں کو اپنے بھائی کی بیماری کے بارے میں خطوط لکھے، مگر وہ بھی اتنے سنگ دل ہیں کہ انہوں نے مجھے جھوٹی تسلی بھی نہیں دی۔ میرے تمام خطوط ردی کی ٹوکری کی نذر کردیئے یہاں پر میں ضرور لکھوں گی کہ یہ کالم نگار بھی کسی ایم این اے اور کسی گریڈ 22بیوروکریٹس سے کم نہیں میں نے بہت مشکل سے کچھ کالم نویس کے فون نمبرز اخبار کے دفتر سے حاصل کئے اسی تسلی پر کہ بھائی جان کے علاج کے بارے میں ان کو آگاہ کرو ں اللہ پاک کی قسم خود ان کو فون کرتے کرتے تھک گئی، مگر وہ اتنے مغرور ہیں کہ ہم جیسے غریبوں کا فون بھی نہیں اٹھاتے، کیونکہ ہمارے پاس کسی ایم این اے، منسٹر یابیوروکریٹ کا سفارشی رقعہ نہیں ہے بھائی جان کی صحت دن بہ دن خراب ہوتی جارہی ہے توآج پھر مجبور ہو کر دوبارہ کوشش کررہی ہوں کہ اپنے بھائی کے بارے میں آپ لوگوں کو ا یک بار پھر خطوط لکھوں، کیونکہ اب حکومت بھی تبدیل ہوگئی ہے اور شاید آپ سب کالم نگاروں کے دلوں میں بھی تبدیلی آئی ہو تو مجھے ان شاء اللہ العزیز پوری اُمید ہے اور بھروسہ بھی ہے کہ آپ مجھے اپنی بیٹی، بہن سمجھ کر میرے بھائی کو اپنا بیٹا یا بھائی سمجھ کر اس کے لئے چند الفاظ اپنے کالم میں ضرور لکھیں گے یا کوئی مخیر شخص الشفاء ہسپتال اسلام آباد یا آغا خان ہسپتال کراچی میں 20 لاکھ روپے جمع کرکے ہمیں اطلاع کرے گا اس کے بدلے میں میری والدہ اور میرے چھوٹے بہن بھائی اپنے ننھے منھے ہاتھوں سے ڈھیروں ساری دعائیں دیں گے، اللہ تعالیٰ انکل عمران خان نیازی کو حکومت چلانے اور ہم جیسے غریب لوگوں کی مدد فرماتے اور پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ بنانے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے میرے بھائی کے علاج کے لئے مجھ سے یا میرے بھائی سے اس نمبر پر 0308-5895077 رابطہ کرسکتے ہیں۔ آپ سب کی بیٹی ریحانہ بی بی، بھائی جان ناصر خان، والد نور محمد (مرحوم) گاؤں خرگئی درگئی مالا کنڈ ایجنسی۔

مزید : رائے /کالم