لاہور کی خود کشی

لاہور کی خود کشی
لاہور کی خود کشی

  

لاہور کو پاکستان کا دل کہا جاتا ہے، مگر یہ دل کب تک دھڑکتا رہے گا۔ اس کے متعلق خطرناک سوال جنم لے رہے ہیں۔ برسوں پہلے کسی نے کہا تھا کہ انگریز سو سال پہلے سوچتا ہے، ہندو پچاس سال پہلے سوچتا ہے اور مسلمان صرف اس وقت سوچتا ہے جب خطرہ اس کے سر پر پہنچ جاتا ہے۔ قومی اور انفرادی سطح پر ہم آج بھی کچھ ایسے ہی سوچ رہے ہیں۔ ہمارے ایک پولیس افسر دوست نے کہا تھا کہ ہم اپنے آپ کو بہت ذہین سمجھتے تھے۔ صحت کے امور پر اچھی خاصی گفتگو کر لیتے تھے۔ دوست بھی ڈاکٹر تھے۔ بچے بھی میڈیکل کے شعبے سے منسلک ہو گئے، مگر سیر کرنے کا فیصلہ ہارٹ اٹیک کرانے کے بعد کیا۔لاہور میں زندگی بھرپور طریقے سے رواں دواں ہے۔ یہاں کی ثقافت کے رنگ دُنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔ سرسید نے اسی لاہور کے لئے زندہ دلان پنجاب کے الفاظ استعمال کئے تھے۔

یہاں کے رہنے والوں کی زندہ دلی کے قصے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ 1965ء کی جنگ میں یہاں کے نڈر لوگ فضائی جنگ کا نظارہ کرنے کے لئے گھروں سے باہر نکلتے تھے۔ آج بھی لاہور بھرپور طریقے سے زندہ ہے۔ اس کی شکل و صورت میں جدیدیت آ گئی ہے۔ شہر میں جدید پلازوں کی بھرمار ہو گئی ہے۔ میٹروبس سروس کے بعد اورنج لائن ٹرین شہر کو نئی صورت دیتی ہوئی نظر آ رہی ہے، مگر یہ ہنستا مسکراتا زندہ دل شہر تیزی سے خودکشی کے راستے پر گامزن ہے۔قدیم دور میں تمام بڑے شہر دریاؤں کے کنارے آباد ہوتے تھے۔ لاہور بھی دریائے راوی کے کنارے آباد ہے۔

یہ دریا اس کے لئے آب حیات کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کے پانی سے کھیتی باڑی بھی ہوتی ہے اور یہ انسانوں اور جانوں کی پیاس بھی بجھاتا ہے۔ کسی دور میں دریائے راوی شاہی قلعہ کی دیواروں کے ساتھ گزرتا تھا اور مغل بادشاہ خوبصورت کنیزوں کے جھرمٹ میں راوی کے پانی کے نظارے سے لطف اندوز ہوتے تھے، مگر پھر یہ دریا قلعہ سے دور ہو گیا۔ سندھ طاس معاہدے کے ذریعے اس دریا کا پانی بھارت کے حصے میں چلا گیا، مگر بھارت اس دریا کا پورا پانی استعمال نہیں کرتا تھا اور اکثر راوی میں اتنا پانی ہوتاتھا کہ منچلے چاندنی راتوں میں کشتی رانی کے مزے لیتے تھے، مگر 2001ء میں صورتِ حال تبدیل ہو گئی۔بھارت نے پٹھان کوٹ شہر کے قریب رنجیت ساگر ڈیم تعمیر کر لیا ہے۔ اس ڈیم کا 40 فیصد حصہ پٹھان کوٹ ضلع میں ہے تو 60 فیصد حصہ مقبوضہ کشمیر کے کٹھوعہ ضلع میں ہے۔ یہ بھارتی پنجاب کا سب سے بڑا ڈیم ہے۔ 525فٹ اونچے اور 617 فٹ طویل ڈیم میں 27لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے اور اس سے 600 میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوتی ہے۔ بھارتی پنجاب کی معیشت میں یہ ڈیم انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے، مگر یہی ڈیم لاہور کے لئے پیغام اجل ثابت ہو رہا ہے۔

بھارت نے 1953ء سے ہی اس ڈیم کی تعمیر کی منصوبہ بندی شروع کر دی تھی،تاہم اس پر باقاعدہ تعمیر کا کام 1981ء میں شروع ہوا اور مارچ 2001ء میں ڈیم مکمل ہو چکا تھا۔ اس کے بعد پاکستانی پنجاب میں بہنے والے پانی میں غیرمعمولی کمی آ گئی۔ آج دریائے راوی کے بہت سے حصوں میں باقاعدہ ریت اڑتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بھارت نے یہ ڈیم جموں اور کشمیر کے متنازعہ علاقے میں تعمیر کیا تھا، مگر پاکستان کی طرف سے اس پر کبھی اعتراض نہیں کیا گیا، کیونکہ ہم سندھ طاس معاہدے کا خلوص دل سے احترام کرتے رہے ہیں۔اہلِ لاہور کی زندگی کا انحصار زیر زمین پانی پر ہے۔ ہر روز واسا کے سینکڑوں ٹیوب ویل زیرزمین پانی نکالتے ہیں اور انہیں پائپوں کے ذریعے گھروں تک پہنچاتے ہیں۔ لاہور کا زیرزمین پانی تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ اب راوی کا پانی اس کے زیرزمین ذخیرۂ آب میں کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ لاہور کے زیرزمین پانی میں تیزی سے ہونے والی کمی کی ایک وجہ کنکریٹ کی عمارتیں بھی ہیں۔

لاہور میں ہر سال اوسطاً628ملی میٹر بارش ہوتی ہے، مگر اس کا بڑا حصہ زمین میں جذب نہیں ہوتا۔ یہ قیمتی پانی مختلف گندے نالوں کے آلودہ پانی کے ساتھ شامل ہو کر راوی میں چلا جاتا ہے۔ پاکستان میں کبھی کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہیں کی کہ بارش کے پانی کے زمین میں جذب ہونے کا اہتمام کیا جائے۔ اس کے لئے نہ تو باقاعدہ ایسے کنوئیں کھودے گئے،جہاں بارش کا پانی اکٹھا ہو کر زیر زمین پانی کا حصہ بن جائے اور نہ ہی بھارت کی بہت سی ریاستوں کی طرح تعمیرات کے ایسے قوانین بنائے گئے ہیں، جن کی وجہ سے عمارتوں کی ایسی تعمیر ہو کہ بارش کا پانی زمین میں جذب ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ برسات میں لانگ بوٹ پہن کر شہر کے دورے پر نکلتے تھے اور اس امر کو یقینی بناتے تھے کہ بارش کے پانی کی جلدازجلد نکاسی ہو جائے۔ میڈیا ان کے ان دوروں کو غیرمعمولی کوریج دیتا تھا، مگر کسی نے اس حقیقت پر توجہ نہیں دی کہ بارش کا انتہائی قیمتی پانی ضائع ہو رہا ہے اور لاہور شہر کے زیرزمین پانی کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ بارش کے پانی میں تیزی سے دوڑتی ہوئی عالی شان سرکاری گاڑیوں میں توانہوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ زیرزمین پانی اہلِ لاہور کے لئے زندگی ہے اور جس طرح کبھی لاہور کے ساتھ دریائے راوی بہتا تھا، اسی طرح زیرزمین بھی پانی کے دریا شمال مشرق سے جنوب مشرق کی طرف رواں دواں رہتے ہیں اور راوی کی طرح یہ بھی تیزی سے خشک ہو رہے ہیں اور صدیوں سے بارش کے پانی سے تروتازہ ہونے والی زمین کی پیاس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

بھارت اس ڈیم کے ذریعے دریائے راوی کو ہی خشک نہیں کر رہا ، وہ بتدریج لاہور کو موت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ دریائے راوی سیلاب کے پانی سے اکثر بدمست ہوتا تھا۔اس سے نقصان بھی ہوتا تھا ،مگر یہ زمین کی زرخیزی میں اضافہ کرتا تھا اور اس سے زیرزمین پانی کی سطح بھی بلند ہوتی تھی۔ 1997ء کے بعد سے بلوکی بیراج پر کبھی سیلاب کا خطرہ محسوس نہیں ہوا۔ 2010ء میں جب مون سون کی بارشوں سے ہر طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا تھا تو اس وقت بھی دریائے راوی میں پانی کا تخمینہ 30،40ہزار ایکڑ کیوسک فٹ ہی رہا۔ بھارت راوی کے پانی کو روک کر اور ہم بارش کے پانی کو ضائع کر کے لاہور کو تیزی سے خود کشی کے راستے پر دھکیل رہے ہیں۔بھارت لاہور کے لئے زہریلی موت کا تحفہ بٹالہ سے بھی بھیج رہا ہے۔ گورداسپور سے 32کلو میٹر کے فاصلے پر واقع بٹالہ آبادی کے اعتبار سے بھارتی پنجاب کا آٹھواں بڑا شہر ہے۔ یہ ایک صنعتی شہر ہے۔ یہاں زرعی آلات تیار ہوتے ہیں۔ سٹیل کی صنعت ہے۔

اس کے علاوہ متعدد صنعتیں اس شہر کی پہچان ہیں۔ بہت سے لوگ اسے بھارتی پنجاب کا سیالکوٹ بھی کہتے ہیں۔تقسیم ہند کے بعد چار روز تک اسے پاکستانی شہر سمجھا جاتا رہا ،کیونکہ بٹالہ میں مسلمانوں کی آبادی 50.2فیصد تھی، تاہم ریڈکلف ایوارڈ میں یہ شہر بھارت کے حصے میں آ گیا۔ اس شہر سے ایک ڈرین اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے،جو ہڈیارہ ڈرین کے نام سے معروف ہے۔ یہ ڈرین برسات کے پانی کو دریائے راوی کے ساتھ شامل کرتی تھی۔ اس ڈرین کا 44.2کلومیٹر حصہ بھارت میں ہے۔ اس ڈرین پر بھارت میں سینکڑوں صنعتیں کام کر رہی ہیں اور ان کا پانی اس کا حصہ بنتا ہے۔اکثر صنعتوں میں سے پانی کے اخراج کے وقت اس کی کوئی ٹریٹمنٹ نہیں کی جاتی۔ یہ ڈرین چونکہ بھارت سے پاکستان میں داخل ہوتی ہے، اِس لئے کسی بھارتی ادارے کو بھی اس پر اعتراض نہیں ہوتا کہ صنعتی ادارے اس میں کتنی زیادہ آلودگی ڈال رہے ہیں۔ ایک سائنسی ریسرچ کے مطابق ہڈیارہ ڈرین کا پانی جب لالوگاؤں کے قریب پاکستان میں داخل ہوتا ہے تو انتہائی زہریلا ہوتا ہے۔ پاکستان میں یہ ڈرین 54.4کلومیٹر کا سفر طے کر کے موہلنوال کے قریب دریائے راوی میں شامل ہو جاتی ہے۔ ہڈیارہ ڈرین بھارت سے بہت سے زہرلے کر آتی ہے، مگر پاکستان میں اس کو مزید زہرآلود کیا جاتا ہے۔اس ڈرین کے کنارے 30گاؤں آباد میں۔ان دیہاتوں میں رہنے والے کاشتکار سبزیاں کاشت کرتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہڈیارہ ڈرین پر سینکڑوں پمپ لگائے گئے ہیں، جن کے ذریعے اس زہریلے پانی کو سبزیوں کی کاشت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ زہریلا پانی زمین میں زہر پھیلا رہا ہے۔اس پانی سے کاشت ہونے والی سبزیاں لاہور میں خطرناک بیماریاں پھیلا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ گائیں اور بھینسیں ان کھیتوں سے جو چارہ استعمال کرتی ہیں،اس سے زہریلے مادے ان کے دودھ کا حصہ بن جاتے ہیں اور یہ دودھ ہیپاٹائٹس، جگر، دل ، سرطان اور دیگر بے شمار خطرناک بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ ہڈیارہ ڈرین کی قریبی زمین خطرناک حد تک زہریلی ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بے شمار محققین نے ہڈیارہ ڈرین کے پانی کی آلودگی پر تحقیق کی ہے، مگر اس سلسلے میں کبھی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کبھی بھارت سے یہ سوال نہیں کیا گیا کہ وہ ہڈیارہ ڈرین کی صورت میں پاکستان میں زہرکا دریا کیوں بھیج رہا ہے؟ اس نے اس ڈرین پر قائم اپنے سینکڑوں صنعتی اداروں کو آلودگی پھیلانے کی اجازت کیوں دے رکھی ہے اور ہم نے کبھی یہ سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ ہڈیارہ ڈرین کا پانی زیرزمین پانی کو کس طرح زہرآلود کر رہا ہے؟ کوٹ لکھپت کے انڈسٹریل ایریا کی فیکٹریاں اور ہاؤسنگ سوسائٹیاں اپنے زہرآلود پانی کو آزادی کے ساتھ اس ڈرین میں ڈال رہی ہیں۔

جب یہ ڈرین راوی میں داخل ہوتی ہے تو یہ راوی کے پانی کو مزید زہریلا کر دیتی ہے۔ راوی کو زہرآلود کرنے کے لئے صرف ہڈیارہ ڈرین ہی بھرپور کردار ادا نہیں کر رہی،بلکہ لاہور کے گردونواح میں تقریباً چھ ایسے نالے موجود ہیں، جن میں فیکٹریوں کا زہر آلود پانی ڈالا جاتا ہے۔ یوں دریائے راوی کا پانی آبی حیات کے لئے موت کا پیغام بن رہا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی بجائے خون بہنے کی شکایت ہوئی تھی۔امریتا پریتم نے اس سلسلے میں بلند آہنگ میں اپنے دکھ کا اظہار کیا تھا اور وارث شاہ سے امید کی تھی کہ وہ قبر سے آواز بلند کرے گا۔ آج جب دریائے راوی زہریلا ہو چکا ہے، لاہور کا زیرزمین پانی تیزی سے خشک ہو رہا ہے اور آلودہ پانی اس میں زہرڈال رہا ہے تو کون لاہور کو بچانے کے لئے آواز بلند کرے گا؟۔۔۔ ایک ریسرچر کے مطابق لاہور کے زیرزمین پانی کو جس تیزی سے زہرآلود کیا جا رہا ہے،اس کے خطرناک نتائج ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ لاہور کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد کی بڑی وجہ زیرزمین زہریلا پانی بھی ہے۔ ایک محقق کے مطابق اگرزیرزمین پانی زہر آلود ہو جائے تو اسے دوبارہ صحت مند بنانے کی ٹیکنالوجی دُنیا بھرمیں موجود نہیں ہے۔ ہم لاہور کو خودکشی کے راستے پر دھکیل رہے ہیں۔ شاید تاریخ ہمارے اس گناہ کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور ہماری آئندہ نسلیں ان بے شمار بیماریوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی، جو صرف ہماری غفلت اور کوتاہی کا نتیجہ ہوں گی۔

مزید : رائے /کالم