بدلی ہوئی فضا میں امریکی وزیر خارجہ کا دورہ

بدلی ہوئی فضا میں امریکی وزیر خارجہ کا دورہ
بدلی ہوئی فضا میں امریکی وزیر خارجہ کا دورہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

امریکی وزیر خارجہ پومیپوپاکستان کی بدلی ہوئی فضا کا تاثر لے کر واپس گئے ہوں گے۔ کہاں امریکی وزیر خارجہ کا ایک وائسرائے کی طرح آنا، پوری حکومت کا اس کے آگے بچھ بچھ جانا، فارن آفس کا وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کو حد درجہ احتیاط کا پیغام دینا اور کہاں 2018ء میں امریکی وزیر خارجہ کی آمد، ڈھول نہ شادیانے، ایئر پورٹ پر ہٹو بچو، نہ اسلام آباد میں ہلچل، سب کچھ نارمل اور ٹھہراؤ والی کیفیت۔ پہلی تبدیلی تو امریکی وزیر خارجہ کو ایئر پورٹ پر ہی نظر آ گئی ہو گی۔ جہاں وہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی استقبالیہ قطار میں کھڑے ہونے کی توقع کر رہے ہوں گے لیکن وہاں انہیں وزارتِ خارجہ کے ایک ایڈیشنل سکریٹری منتظر نظر آئے۔ یہ برابری کی وہی روایت ہے جو امریکہ نے قائم کر رکھی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم بھی امریکہ کے دورے پر جائیں تو وہاں ایک سیکرٹری کی سطح کا افسر استقبال کرتا ہے۔ یہ تو ہم ہی ہیں کہ امریکہ کے کسی سینیٹر کو بھی سر پر چڑھا لیتے ہیں۔ یہ وہی امریکی ہیں جنہوں نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی امریکی ایئرپورٹ پر تلاشی لی۔ چاہے وہ دورہ نجی ہی تھا۔ امریکیوں کو شرم آنی چاہئے تھی کہ پاکستان کے وزیر اعظم کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں۔

امریکیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں جتنا سر چڑھا لو یہ اتنا ہی مزید چڑھنا چاہتے ہیں۔ جن ممالک نے انہیں اوقات میں رکھا ہوا ہے۔ ان کے آگے سر تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ شمالی کوریا اور ایران کی مثال سامنے ہے۔ جو ممالک امریکہ کے اشارے پر چلتے رہے،وہ بالآخر برباد ہو گئے، عراق، مصر، لیبیا، لبنان اس کی مثالیں ہیں سو اس بار امریکی وزیر خارجہ کو غالباً جان بوجھ کر تبدیلی کا پیغام دیا گیا ہے۔ اگرچہ پومیپو کے دورے کا دفتر خارجہ سے جو اعلامیہ جاری کیا گیا، وہ اسی امریکی خبط کا آئینہ دار ہے جو اسے افغانسان کے حوالے سے لپیٹ میں لئے ہوئے ہے کہ کسی طرح پاکستان میدان میں کود پڑے اور افغانستان میں اس کی فتح کو یقینی بنا دے، تاہم ساتھ ہی اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان تعلقات کی بحالی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

یہ غالباً پہلا موقع ہے کہ امریکی وزیر خارجہ سے وزیر اعظم کی ملاقات کو معمول کی کارروائی میں نہیں رکھا گیا۔ اسلام آباد پہنچ کر بھی پومیپو نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات ہونی چاہئے، وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں، پھر ملاقات کی وہ روایت بھی ٹوٹ گئی جو ماضی میں نظر آتی تھی۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر خارجہ پومیپو سے ون ٹو ون ملاقات کرنے کی بجائے آرمی چیف، وزیر خارجہ اور دیگر افسران کے ساتھ ملاقات کی۔ اس سے وہ گیم ختم ہو گئی جو امریکی حکام کھیلتے تھے۔ وزیر اعظم ہاؤس سے نکل کر جب جی ایچ کیو جاتے تو ان کا گیم پلان اور ہوتا تھا اب سول حکومت اور فوج نے صرف باتوں سے ہی نہیں بلکہ عمل سے یہ پیغام دیا کہ اس وقت جمہوری و عسکری قیادت ایک پیج پر ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے۔ ماضی میں امریکیوں کی حکمتِ عملی یہی رہی ہے کہ فوج اور سول حکومت کی عدم اتفاقی سے فائدہ اٹھایا جائے۔ دونوں کو ایک دوسرے پر دباؤ کے لئے استعمال کیا جائے۔ اس بار پومیپو کو پاکستان کی متفقہ قیادت سے مذاکرات کرنے پڑے،جو ان کے لئے ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔

امریکی کسی بھی ملک کے حکمران کی باڈی لینگوئج پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں اور اسے تعلقات کے ضمن میں اہمیت بھی دیتے ہیں شمالی کوریا کے صدر کی باڈی لینگویج کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان کے انداز و اطوار نے امریکیوں کو یہ باور کرا دیا کہ اس بندے سے روائتی ہتھکنڈے اختیار کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں، تب صدر ٹرمپ اور شمالی کوریا کے صدر کی ملاقات کا اہتمام کرنا پڑا۔ وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں بھی امریکی بہت غور و فکر کر رہے ہوں گے۔ ان کی باڈی لینگویج پر ان کی گہری نظر ہو گی۔ پھر جب امریکی وزیر خارجہ پومیپو ان سے ملنے کے لئے وزیر اعظم سیکرٹریٹ گئے تو انہیں میٹنگ روم میں دوسری شخصیات کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان کی آمد کا انتظار کرنا پڑا۔عمران خان سادہ شلوار قمیض میں آئے اور انہوں نے نہایت بے تکلف انداز میں امریکی وزیر خارجہ اور امریکی فوج کے سربراہ سے ہاتھ ملایا۔ میں سمجھتا ہوں امریکی وزیر خارجہ کایہ دورہ بہت عجلت میں تھا اسی مقصد کے لئے کہ پاکستان کی نئی حکومت کے اعصاب کا جائزہ لیا جائے اور جو پیغام اسلام آباد سے واشنگٹن گیا ہے، اس میں یہ نکتہ سر فہرست ہے کہ فضا جی حضوری والی نہیں اور برابری و باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے پاس اپنی دھاک بٹھانے اور برتری ثابت کرنے کے لئے دو ہتھیار ہیں، اول ڈالر اور دوم اسلحہ، ہر جگہ انہی ہتھیاروں سے امریکہ اپنا غلبہ اور تسلط رکھنا چاہتا ہے،مگر اب دُنیا میں حالات بدل رہے ہیں۔ پہلے اسلحہ کو ایران اور شمالی کوریا نے چیلنج کر کے صفر کر دیا اور اب ترکی نے ڈالر کو ٹھوکر مار کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اس کے دن بھی گنے جا چکے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کو پاکستان سے بھی کچھ ایسا ہی پیغام ملاہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ روکنے کی بابت امریکی فیصلے پر پاکستان نے کوئی بات نہیں کی،گویا مالی امداد کے حوالے سے امریکہ کو بتا دیا گیا کہ اُس کی اہمیت نہیں، جہاں تک اسلحہ کا تعلق ہے تو اب دُنیا میں اتنے زیادہ آپشنز موجود ہیں کہ امریکی اسلحہ ساز فیکٹریاں خود بحران میں مبتلا ہو چکی ہیں۔ ان دونوں پہلوؤں پر وزیر خارجہ کی موجودگی کے باوجود گفتگو نہ ہونا،اس امر کا اظہار ہے کہ پاکستان اب امریکہ سے تعلقات ایک طفیلی فریق کے طور پر نہیں،بلکہ برابری کی بنیاد پر رکھنا چاہتا ہے۔

سترہ سال افغانستان میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنے کے بعد امریکہ کو بھی یہ بات سمجھ آ گئی ہے کہ اگلے ستر برس بھی وہ اس طرح افغانستان میں اپنے وسائل جھونکتا رہے گا، حاصل کچھ نہیں ہو گا۔ اس سارے معاملے کا حل صرف سیاسی ہے اور یہ پاکستان کے بغیر ممکن نہیں۔ امریکیوں کو ہم نے اِس قدر سر پر چڑھا لیا ہے کہ انہیں اب اُترتے اُترتے وقت لگے گا۔ایک وزیر خارجہ کولن پاول تھا، جس کی ایک ٹیلی فون کال پر پرویز مشرف نے پورا ملک امریکیوں کو دے دیا تھا اور ایک وزیر خارجہ پومپیو ہے، جو آبرو مندانہ تعلقات کی راہ ڈھونڈ رہا ہے۔ تاہم اُن کا خیال یہی ہے کہ پاکستان کو معاشی بحرانوں میں ڈال کے وہ اپنی بات منوا لیں گے، حالانکہ اب عوامی سطح پر ایسے حالات جنم لے چکے ہیں کہ امریکیوں کی کوئی ناجائز بات ماننا حکمرانوں کے لئے ممکن ہی نہیں رہا۔

نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کے خدوخال آنے والے دِنوں میں واضح ہوں گے، تو امریکی انتظامیہ کو احساس ہو گا کہ اب پہلے والی صورت نہیں رہی،جس طرح عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں یہ عندیہ دیا کہ پاکستان علاقائی ممالک سے اپنے تعلقات کو مضبوط اور بہتر کرے گا۔چین اور روس سے مزید قربت بڑھائی جائے گی، ایران اور افغانستان نیز بھارت کے ساتھ بھی کشیدگی اور غلط فہمیاں دور کرنے کی حکمتِ عملی پر کام ہو گا۔اس کی وجہ سے امکان ہے کہ امریکہ اِس خطے میں تنہا رہ جائے گا۔غور کیا جائے تو افغان مسئلے پر سوائے پاکستان کے کوئی ملک بھی امریکہ کا اس علاقے میں اتحادی نہیں۔چین، روس، ایران کبھی اُس کے ساتھ نہیں رہے،رہی بات بھارت کی تو وہ افغانستان میں امریکہ کے قدم جمانے میں کوئی مدد نہیں کر سکتا۔اس کا اپنا ایجنڈا ہے کہ کسی طرح وہاں بیٹھ کر پاکستان اور چین کو نقصان پہنچایا جائے۔ ویسے بھی ہر قسم کی لاجسٹک سپورٹ صرف پاکستان ہی سے ممکن ہے، امید کی جانی چاہئے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت اپنے وعدے کے مطابق پاکستان کے اقتدارِ اعلیٰ کی حرمت کو بڑھانے اور امریکی خواہشات کے مطابق اُس کا حلیف بننے سے گریز کرے گی۔ یہی ایک راستہ ہے ،جو ہمیں دو دہائیوں سے مسلط امریکی جنگ کے اثرات سے نکال سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم