A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

امریکی وزیرِ خارجہ کا دورہ

امریکی وزیرِ خارجہ کا دورہ

Sep 07, 2018

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

5ستمبر کو امریکی وزیر خارجہ چند گھنٹوں کے دورے پر پاکستان آئے اور اس کے بعد بھارت سدھار گئے۔ ان کے ساتھ جنرل ڈن فورڈ بھی تھے جو امریکی افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف ہیں۔ دوسرے لفظوں میں امریکی وفد اعلیٰ سفارتی / سیاسی اور عسکری قیادت پر مشتمل تھا۔

ناظرین نے اس دورے کی تین چار باتوں پر غور کیا ہو گا جو ماضی سے مختلف تھیں۔۔۔ پہلی بات یہ تھی کہ ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر اس وفد کی آمد آمد پر کوئی استقبالی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔۔۔ دوسری بات یہ کہ نور خاں ایئر بیس پر جب امریکی طیارہ اترا تو استقبال کے لئے وہاں کوئی پاکستانی ہم منصب موجود نہ تھے۔ ہمارے وزیر خارجہ اور ہمارے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی امریکی وفد کو خوش آمدید کہنے کے لئے موجود نہ تھے۔ صرف ہماری وزارت خارجہ کے ایک آفیسر تھے جن کی شکل میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔(اب شائد مختلف بیرونی ممالک سے آنے والے ہائی پاور وفود کے استقبالی مناظر ہمیں دیکھنے کو ملے۔۔۔ اور یہ بھی ایک نئی ’تبدیلی‘ ہو گی)۔۔۔ تیسری بات اس وفد کی وزیر خارجہ اور آرمی چیف سے ملاقاتیں تھیں جو انتہائی مختصر وقت میں ’بھگتا‘ دی گئیں۔ تاہم کسی نے بھی امریکی امداد کی بندش کا کوئی ذکر نہ کیا۔۔۔ اور چوتھی بات اس وفد کی وزیراعظم سے ملاقات تھی!

وزیراعظم سے ملاقات ایک چھوٹے سے کمرے میں ہوئی۔ کمرے کے درمیان ایک مستطیل میز رکھ دی گئی تھی جس کے اطراف میں 6،6 کرسیاں لگا دی گئی تھیں۔ صاحبِ صدر کی کرسی عرضاً سمت میں لگائی گئی تھی۔ کوئی صوفہ، کوئی دیواری سجاوٹ اور کوئی غیر معمولی آرائش نہیں کی گئی تھی۔ صاحبِ صدر، (آف کورس)وزیراعظم پاکستان تھے۔ ان کے دائیں طرف امریکی وفد اور بائیں طرف پاکستانی وفد کو بٹھایا گیا تھاجس میں ہمارے وزیر خارجہ، آرمی چیف، سیکرٹری خارجہ وغیرہ کی کرسیاں تھیں۔ میز پر حسبِ ضرورت اور ’حسبِ معمول‘ پھولوں کا ایک گلدستہ رکھا تھا۔ وزیراعظم کی کرسی کے سامنے جو میز کا حصہ تھا اس میں ایک سادہ سا قلمدان وغیرہ بھی دھرا ہوا تھا۔

جب یہ سب لوگ بٹھا دیئے گئے تو وزیراعظم کی پشت پر جو تنگ سا دروازہ تھا، وہ کھلا اور اس سے عمران خان ’برآمد‘ ہوئے۔ سب لوگ تعظیماً کھڑے ہو گئے (یہ معمول کے پروٹوکول کا حصہ ہے)۔ وزیراعظم نے آتے ہی پہلے وزیر خارجہ امریکہ، مائک پومپیو سے مصافحہ کیا۔ مصافحہ کرنے کے بعد پومپیو داہنا ہاتھ سینے پر رکھے ازراہِ تکریم سر نیہوڑا کر کھڑے ہوئے تو گویا وہ رسم تازہ ہوئی جو 17ویں صدی کے اوائل میں برطانوی سفیر سر تھامس راؤ کے دور کی تھی۔ اس نے بھی جہانگیری دربار میں آ کر کورنش بجا لائی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کاش پومپیو کی چار صدیوں بعد یہ کورنش سر تھامس راؤ کی کورنش کے مصداق ہو جائے!۔۔۔ فی الحال تو اس جھک جانے کے Gesture کو سفارتی آداب کا وہ اظہار کہا جائے گا جو امریکہ جیسی واحد سپرپاور کے سب سے سینئر وزیر نے اپنی پرانی روایات کو بالائے طاق رکھ کر ادا کیا۔ ان کی اس ادا کو اعلیٰ و ارفع سفارت کاری کا ایک قابلِ ستائش اخلاقی اظہار کہا جائے گا جس کے لئے مسٹر پومپیو سراہے جانے کے مستحق ہیں۔۔۔ عمران خان نے اس کے بعد جنرل ڈن فورڈ اور دوسرے اراکینِ وفد سے مصافحہ کیا۔

بات چیت شروع ہوئی تو پومپیو نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ جو ہوا سو ہوا۔ آیئے اب ایک نئے عہد کا آغاز کریں اور جنوبی ایشیا کے اس خطے کی بین الاقوامی دوطرفہ پالیسیوں کو ایک نئے رنگ (Re-set)میں ڈھالیں ۔یہ گفتگو بھی مختصر تھی۔ کوئی لمبی چوڑی بحث نہیں ہوئی کہ ایسی بحثیں گزشتہ مہینوں میں کئی بار ہو چکی ہیں۔ امریکی وفد تو یہ دیکھنے اور محسوس (Feel) کرنے آیا تھا کہ نئی پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت کی ہوائیں کس رخ پر چل رہی ہیں۔ یہ رخ وزیراعظم نے ان کو چند فقروں میں بتا دیا۔ بعدازاں وہ امریکی اسلام آباد میں اپنے سفارتخانے کو لوٹ گئے اور وہاں کچھ دیر رکنے کے بعد نئی دہلی جا پہنچے جو ان کے دورے کی اصل منزل مقصود تھی!

امریکی وفد پاکستان سے جو پیغام لے کر واپس گیا وہ یہ تھا کہ پاکستان امریکہ سے برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔ ڈومور کا زمانہ تو کبھی کا گزر چکا۔ اب واشنگٹن میں وزارتِ خارجہ کی ترجمان کچھ بھی کہتی پھریں، پومپیو اور جنرل ڈن فورڈ کے تاثرات وہ نہیں تھے جو ترجمان کے تھے۔ یہاں نہ کسی نے Do More کا کہا، نہ کسی نے اس کو مانا۔ نہ کسی نے دہشت گردوں کے پاکستانی ٹھکانوں کا ذکر کیا اور نہ کسی نے یہ ذکر سننا چاہا۔ جنرل پرویز مشرف کے وہ زمانے گزر گئے جس میں پاکستان کو ’’پتھر کے دور‘‘ میں پہنچانے کی دھمکی دے کر ہر طرح کا مطالبہ منوا لیا گیا تھا۔ اب تو وہ دور ہے کہ پاکستان سوچ رہا ہے کہ اپنی فضائی اور زمینی راہداریوں کے لئے امریکی ٹرانسپورٹیشن وسائل کو استعمال کرنے کی اجازت بھی منسوخ کر دے۔ اگر ایسا ہو جائے تو کابل و قندھار سے امریکی ٹروپس کے انخلاء کی مدت مختصر ہو سکتی ہے۔

صدر امریکہ اگرچہ اب بھی پرانی عظمتوں کے محلات میں سوئے پرانے پاکستان کے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اب پاکستان وہ پرانا پاکستان نہیں رہا بلکہ ایک تبدیل شدہ پاکستان بننے کے لئے تیار ہو رہا ہے۔ پاکستان گزشتہ 17برسوں میں افغان جنگ میں اپنی جانی و مالی قربانیوں کے آتش زار سے گزر کر ایک حقیقت پسند ملک بن چکا ہے اور اس کی فوج اب اس ’’باجوہ ڈاکٹرین‘‘ پر عمل پیرا ہے جو آج سے 6ماہ پہلے (فروری 2018ء میں) ہمارے آرمی چیف نے بے نقاب (Un Veil) کر دیا تھا۔ اور کہا تھا : ’’پاکستان کو جو کرنا تھا وہ کر چکا ہے۔اب امریکیوں اور ناٹو ممالک کی باری ہے کہ وہ Do More کریں‘‘۔

انہی ایام میں برطانیہ کے ایک مشہور تھنک ٹینک ’روسی‘ (رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ) میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں پاکستانی آرمی چیف کے ’’باجوہ ڈاکٹرین‘‘ پر سیر حاصل تبصرہ کیا گیا تھا۔ یہ تھینک ٹینک دنیا بھر میں دفاع اور سیکیورٹی کے موضوعات کے تجزیوں کے سلسلے میں ایک اتھارٹی تصور کیا جاتا ہے۔ ابھی چند روز پہلے جنوبی ایشیاء میں اس ادارے کے ایک معزز تجزیہ کار کمال عالم نے 6ماہ پہلے والی باتیں دہرائی ہیں اور کہا ہے کہ پاکستانی فوج اب مشرف کے دور کی فوج نہیں رہی۔ اب وہ جنگ و جدال کی بھٹی سے گزر کر 17برسوں میں کندن (Battle Hardened) بن چکی ہے اور ہر چہ بادا باد کہنے کو تیار ہے۔ ہزاروں افسروں اور جوانوں کی قربانی دینے کے بعد اب پاکستانی ٹروپس کو موت / شہادت سے اتنا ہی پیار ہے جتنا امریکی ٹروپس کو زندگی سے ہے!

معافی چاہوں گا، کسی اور طرف نکل رہا ہوں۔۔۔پومپیو کے ساتھ دہلی میں اب ڈن فورڈ کے علاوہ جنرل میٹس بھی ہیں جو امریکی وزیر دفاع ہیں۔۔۔ یہ دونوں وزرائے خارجہ و دفاع بھارت کے وزرائے خارجہ و دفاع (سشما سوراج اور نرملا سیتارامن) کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ اس بین الاقوامی سفارتی کلچر کو ’’ دو جمع دو برابر ہے چار‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔۔۔ یعنی ایک طرف لحیم شحیم امریکی وزرائے خارجہ و دفاع ہیں تو دوسری طرف بوٹے سے قد والی دو بھارتی وزرائے خارجہ و دفاع ہیں۔۔۔ دیکھیں کیا بنتا ہے :

دیکھئے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیض

اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے

بھارت کے ساتھ امریکہ کے دو ’’بڑے پھّڈے‘‘ ہیں۔۔۔ ایک تو ایرانی تیل کی خریداری کا معاملہ ہے اور دوسرا روس کے S-400میزائل ڈیفنس سسٹم کی خرید کا معاملہ ہے۔۔۔۔ امریکہ نے اپنے اتحادیوں کو نومبر2018ء تک مہلت دی ہے کہ وہ ایران سے تیل کی خرید / درآمد وغیرہ کے معاہدے ختم کر دیں۔ اگر اس مدت کے بعد بھی ایران سے تیل منگوایا گیا تو ان کی راہیں امریکہ سے جدا ہو جائیں گی۔ یعنی امریکہ ایک بار پھر بش دور کا نعرہ دہرائے گا کہ ’’یا تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف ہو‘‘۔۔۔۔ لیکن بھارت امریکہ کو بتا چکا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد جاری رکھے گا۔

انڈین کرنسی میں S-400میزائل ڈیفنس سسٹم کی قیمت 40ہزار کروڑ روپے ہے۔ امریکی کرنسی میں یہ سودا 4.5ارب ڈالر کا ہے جس میں یہ پانچ عدد رشین ائر ڈیفنس سسٹم خریدے جائیں گے۔ یعنی ایک سسٹم تقریباً ایک ارب ڈالر کا ہو گا۔

نئی دہلی میں اس 2+2 ڈائیلاگ کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ اگر بھارت، امریکہ کا اتحادی ہے تو اس کو آئندہ 25تا50برسوں تک اتحادی رہنا ہو گا۔ ’سٹرٹیجک اتحادی‘ ہونے کا مطلب ہی یہی ہوتا ہے!اس ائر ڈیفنس سسٹم کا نام ٹرائمف (Triumf) ہے۔ سوال یہ ہے کہ امریکہ اس روسی سسٹم کی خریداری پر اتنا برہم اور حساس کیوں ہے؟۔۔۔ ایران سے تیل نہ خریدنے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے اور انڈیا کے انکار کی سمجھ بھی آتی ہے۔ لیکن اس فضائی دفاع کے سسٹم کو خریدنے پر معترض ہونے کی سمجھ نہیں آتی۔۔۔ شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ امریکہ محسوس کرنے لگا ہے کہ انڈیا ایک بار پھر روسی کیمپ میں جانے کی سوچ رہا ہے۔۔۔ شائد اپنے دفاعی ساز و سامان کو مشرق و مغرب کا ملغوبہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔۔۔ شائد اسے امریکی طوطا چشمی کی دیرینہ روائت کا نیا ادراک ہو چکا ہے۔۔۔ یا شائد اپنے امریکی ائر ڈیفنس سسٹم تھاڈ (THAAD)کی عالمی عدم قبولیت کا خوف ہے۔

اگر یہ دونوں بھارتی خواتین، دونوں امریکی مردوں کے مقابلے میں ڈٹ گئیں تو ’’تریاہٹ‘‘ (Female Obstinacy)کا پرانا محاورہ سچا ثابت ہو جائے گا!

مزیدخبریں