7 ستمبریوم ختم نبوت۔۔۔عاشقان رسولؐ کے لئے یوم فتح مبین

7 ستمبریوم ختم نبوت۔۔۔عاشقان رسولؐ کے لئے یوم فتح مبین

1970ء کے الیکشن میں چند سیٹوں پرقادیانی منتخب ہو گئے،اقتدار کے نشے نے ان کو دیوانہ کر دیا،وہ حالات کو اپنے لئے سازگار پاکرانقلاب کے ذریعے اقتدارپر قبضہ کرنے کی سکیمیں بنانے لگے،قادیانی جرنیلوں نے اپنی سر گرمیاں تیز کر دیں۔انہوں نے29 مئی 1974ء کو چناب نگر ریلوے سٹیشن پرچناب ایکسپریس کے ذریعے سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر قاتلانہ حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تحریک چلی ۔شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری ان دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر تھے،ان کی دعوت پر امت کے تمام طبقات جمع ہوئے، آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت تشکیل پائی، جس کے سربراہ شیخ بنوری قرار پائے۔امت مسلمہ کی خوش نصیبی کہ اس وقت قومی اسمبلی میں تمام اپوزیشن متحد تھی،چنانچہ پوری کی پوری اپوزیشن مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ساتھ شریک ہو گئی۔رحمۃ اللعالمینﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز کہ تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے متحد ہو کر ایک ہی نعرہ لگایا کہ مرزائیت کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔

اس وقت قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود،مولانا غلام غوث ہزاروی،مولانا شاہ احمد نورانی،مولانا عبد الحق، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالمصطفیٰ الازہری،مولانا صدر الشہید، مولانا عبد الحکیم،اور ان کے رفقاء نے ختم نبوت کی وکالت کی،متفقہ طورپر اپوزیشن کی طرف سے مولانا شاہ احمدنورانی نے قادیانیوں کے خلاف قرار داد پیش کی اور حکومت کی طرف سے دوسری قرارداد عبدالحفیظ پیرزادہ نے پیش کی ،جو ان دنوں وزیرقانون تھے۔قومی اسمبلی میں مرزائیت پر بحث شروع ہو گئی ،پورے ملک میں مولانا محمد یوسف بنوری،مولانا عبیداللہ انور،نوابزادہ نصراللہ خان، آغا شورش کشمیری،علامہ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبدالقادر روپڑی، مفتی زین العابدین، مولانا تاج محمود، مولانا سائیں عبدالکریم بیربل شریف، مولانا سائیں محمد شاہ امروٹی،مولانا عبدالواحد، مولانا محمد شریف جالندھری،مولانا عبدالستار خان نیازی،مولانا صاحبزادہ فیض رسول حیدر،مولانا صاحبزادہ افتخارالحسن ،غرضیکہ چاروں صوبوں کے تمام مکاتب فکر نے تحریک کے الاؤ کو ایندھن مہیا کیا اور تحریک کامیاب ہوئی۔ اخبارات اور رسائل نے تحریک کی آواز کو ملک گیر بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کا دباؤ بڑھتا گیا،ادھر قومی اسمبلی میں قادیانی و لاہوری گروپوں کے سربراہوں نے اپنا اپناموقف پیش کیا،ان کا جواب اورامت مسلمہ کا موقف مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں فاتح قادیان مولانامحمدحیات، مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا محمد شریف جالندھری، مولاناعبدالرحیم اشعر، مولانا تاج محمود،مولاناسمیع الحق اور سید انور حسین نفیس رقم نے مرتب کیا۔اسے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کے لئے چودھری ظہورالٰہی کی تجویزاور دیگر تمام حضرات کی تائیدپرقرعہ فال مولانا مفتی محمود کے نام نکلا،جس وقت انہوں نے یہ محضرنامہ پڑھا قادیانیت کا کذب و دجل اور اس کی حقیقت اراکین اسمبلی کے سامنے کھل کر آگئی اور مرزائیت پر اوس پڑ گئی۔

تحریک ختم نبوت 1974ء پر ایک اجمالی نظر

22مئی کو طلباء کے وفد کی ربوہ سٹیشن پرقادیانیوں سے توتکار ہوئی۔

29مئی کو بدلہ لینے کے لئے قادیانیوں نے چناب نگر اسٹیشن پرطلباء پر قاتلانہ وسفاکانہ حملہ کیا۔

30مئی کو لاہور اور دیگر شہروں میں ہڑتال ہوئی۔

31مئی کو سانحہ ربوہ کی تحقیقات کے لیے صمدانی ٹربیونل کا قیام عمل میں آیا۔

3جون کو مجلس عمل کا پہلا اجلاس راولپنڈی میں منعقد ہوا۔

9جون کو مجلس عمل کا کنویئر لاہور میں مولانا سید محمد یوسف بنوری کو مقرر کیا گیا۔

13جون کووزیر اعظم نے نشری تقریر میں بجٹ کے بعد مسئلہ قومی اسمبلی کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔

14جون کو ملک گیر ہڑتال ہوئی۔

16جون کو مجلس عمل کا فیصل آباد میں اجلاس ہوا، جس میں حضرت بنوری کوامیر اور مولانا محمود رضوی کو سیکرٹری منتخب کیا گیا۔

30جون کو قومی اسمبلی میں ایک متفقہ قراردادپیش ہوئی، جس پر غور کے لئے پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی میں تبدیل کردیا گیا۔

24جولائی کو وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ جو قومی اسمبلی کا فیصلہ ہوگا وہ ہمیں منظور ہوگا۔

5اگست سے ،23اگست تک وقفوں سے مکمل گیارہ دن مرزاناصر پرقومی اسمبلی میں جرح ہوئی۔

20اگست کو صمدانی ٹربیونل نے اپنی رپورٹ سانحہ ربوہ کے متعلق وزیر اعلیٰ کو پیش کی۔

22اگست کورپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی گئی۔

24اگست کووزیر اعظم نے فیصلہ کے لئے7ستمبر کی تاریخ مقرر کی۔

27،28 اگست کولاہوری گروپ پرقومی اسمبلی میں جرح ہوئی۔

یکم ستمبر کولاہور شاہی مسجد میں ملک گیر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

5،4 ستمبر کو اٹارنی جنرل نے قومی اسمبلی میں عمومی بحث کی اور مرزائیوں پرجرح کا خلاصہ پیش کیا۔

6ستمبر کو آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی راولپنڈی میں ختم نبوت کانفرنس ،وزیراعظم سے ملاقات کا فیصلہ ۔

7ستمبرکو قومی اسمبلی نے فیصلے کا اعلان کیا کہ مرزاقادیانی کے ماننے والے ہر دو گروپ غیر مسلم ہیں۔

نوے دن کی شب وروزکی مسلسل محنت و کاوش کے بعدجناب ذوالفقار علی بھٹو کے عہد اقتدار میں متفقہ طورپر7ستمبر 1974ء کونیشنل اسمبلی آف پاکستان نے عبدالحفیظ پیرزادہ کی پیش کردہ قرار داد کو منظور کیا اور مرزائیوں کے دونوں گروہ (قادیانی، لاہوری)کو آئینی طورپرغیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا۔آج 7ستمبرکا عظیم الشان دن ہے، رسول اکرمؐ کے غلاموں کی فتح کا دن ہے۔ وارثان نبوت کی محنت ثمر آور ہونے کا دن ہے۔امت مسلمہ کی جدوجہد ،کامیابی اورکامرانی سے ہمکنار ہونے کا دن ہے۔1974ء میں آج کے دن ہونے والا یادگار فیصلہ مسلمانوں کی طویل جدوجہد کانتیجہ ہے ،اور فرزندان توحید و شمع ختم نبوت کے پروانوں کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج اللہ رب العزت کا فضل و کرم ہے کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت چار دانگ عالم میں رحمۃ اللعالمین ﷺ کی عزت وناموس کے پھریرے کوبلند کرنے کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ دنیا کے تمام براعظموں میں ختم نبوت کا کام وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔مجلس ختم نبوت نے اپنے اکابرین کی اس سنت کو زندہ رکھنے کی حکمت عملی کواپنایا ہوا ہے کہ ختم نبوت کے تحفظ کاکام کسی ایک فرقے کا مسئلہ نہیں،بلکہ پوری امت کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے،اس میں کوشش،کاوش اور اجتماعی طور پربڑھ چڑھ کر حصہ لینا تمام مسلمانوں کے لئے ضروری ہے اورآپ ﷺ کی شفاعت کا باعث ہے۔کروڑوں رحمتیں ہوں ان تمام مقدس حضرات پر جن کی شب و روز کی اخلاص بھری محنت رنگ لائی اور پوری دنیا میں قادیانیت ذلت اور رسوائی کا شکار ہے۔اللہ تمام محافظین ختم نبوت کی محنتوں کو اخلاص کی دولت سے مالامال فرما کر اپنی رضا اور خوشنودی کا سبب بنائے،آمین ثم آمین۔

مزید : ایڈیشن 1