ختم نبوت کا عقیدہ اور ہمارا کردار

ختم نبوت کا عقیدہ اور ہمارا کردار

اس پر اجماع اُمت ہے کہ حضور ختم الرسل سیدنا و مولانا محمدالرسولؐ اللہ کی بعثت کے بعد نبوت تمام ہو گئی، دین مکمل ہو گیا، اب کوئی شخص کسی طرح سے کسی کو بھی نبی مانے یا کوئی خود نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور کذاب ہے۔ چونکہ ایمانیات کا مرکز اور دین اسلام کا معیار حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی ہے اسی لئے ملت کفار نے ہمیشہ آپؐ ہی کی ذاتِ اعلیٰ صفات پر حملے کئے۔ انہی شیطانی منصوبوں کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ جھوٹے مدعیانِ نبوت کھڑے کئے جائیں چنانچہ ہندوستان میں انگریزی تسلط کی بناء پر مرزا غلام احمد قادیانی کو اُبھارا گیا،جس نے بڑی ہوشیاری سے اپنا کام شروع کیا۔ عالم کفر کی ساری قوتیں اس کیساتھ تھیں، اس نے ملت اسلامیہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ’’کوئی محمد ہے جو میرا مقابلہ کرے‘‘ (نعوذباللہ تعالیٰ من ذالک)۔ انگریزی تسلط اور ہندو کی ریشہ دوانیوں کے سبب دینی حلقے کمزور پڑ گئے تھے،عالم اسلام تنگ دست اور پریشان حال تھے اور مسلمان امراء انگریزوں کے غلام بن چکے تھے، مرزا قادیانی کا چیلنج ہندوستان، بلکہ عالم اسلام کے درودیوار سے ٹکرا کر گونج رہا تھا، یوں محسوس ہوتا تھا کہ پورا عالم اسلام بے بس ہو کر رہ گیا ہے۔

علماء اسلام اور مشائخ عظام نے مرزا غلام احمد قادیانی کے رَد میں پوری سرگرمی دکھائی مگر اس سلسلہ میں جو کوششیں سنوسی ہند جناب امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری قدس سرہ نے کیں، وہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔ آپ نے اس فتنہ کی سرکوبی کیلئے تن، من اور دھن کی بازی لگا دی، ڈٹ کر مقابلہ کیا، بارہا مرزا کو للکارا، مگر وہ راہِ فرار ہی اختیار کرتا رہا اور بالآخر حضرت امیر ملت قدس سرہ کی بددُعا کے نتیجے میں لقمہ اَجل بنا۔

مرزا قادیانی نے جب اپنے بال و پر نکالنے شروع کئے تو حضرت امیر ملت قدس سرہ نے مندرجہ ذیل اعلان جاری فرما کر اس کے دعوؤں کی قلعی کھول دی:

(1) سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا، اس کا علم لدنی ہوتا ہے، وہ روح القدس سے تعلیم پاتا ہے، بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند خدوس سے ہوتا ہے۔ جھوٹا نبی اسکے برخلاف ہوتا ہے۔

(2) ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم بحکم رب العالمین مخلوق کے روبرو دعویٰ نبوت کر دیتا ہے۔ اَنیّ رسول اللّٰہ کے الفاظ سے دعویٰ کرتا ہے۔ بتدریج اور آہستہ آہستہ کسی کو درجہ نبوت نہیں ملتا جو نبی ہوتا ہے وہ پیدائش سے ہی نبی ہوتاہے۔ جھوٹا نبی اس کے برخلاف آہستہ آہستہ دعوؤں کے بعد نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ پہلے محدث اور مجدد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔

(3) حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر خاتم الانبیاء ﷺ تک جتنے بھی نبی ہوئے تمام کے نام مفردتھے۔ کسی ایک بھی نبی کا نام مرکب نہ تھا۔ برعکس اس کے جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا۔

(4) سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا۔سچانبی اولاد کو محروم الارث نہیں کرتا۔ جھوٹا نبی ترکہ چھوڑ کر مرتا ہے اور اولاد کو محروم الارث کرتا ہے۔

قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اگرچہ وہ حضور سرور کائنات کو نبی مانتے ہوئے بظاہر کلمہ طیبہ بھی مسلمانوں کی طرح پڑھتے ہیں، مگر عملاً مرزا قادیانی کو نبی مان کر اس کلمے کا انکارکرتے ہیں‘ لہٰذا ان کا ملت اسلامیہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ عقیدۂ ختم نبوت کو ایک خاص سازش کے تحت عالمی سطح پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور جھوٹے دعویداران نبوت پیدا کئے گئے۔ ایک خاص سازش کے تحت قادیانیوں کی سرگرمیاں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے جاری ہیں اور ان کا مرکزبرطانیہ ہے۔جہاں ہم دلائل وبراہین سے علمی اور فکری طور پر اس فتنے کا سدباب کر رہے ہیں وہاں مسلمان حکومتوں کو انڈونیشیاء کی طرح قادیانیوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنی چاہئے۔ ملت اسلامیہ اور بالخصوص علماء و مشائخ کا اتحاد سیاسی طور پر وقت کی اہم ضرورت ہے اور مسلمان حکمرانوں کو او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اسلام کے خلاف ہر پروپیگنڈے اور اسلام فوبیا میں مبتلا ممالک و افراد کا رَد کرنا چاہئے۔ مغربی دنیا میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امیج کو خراب کرنے اور مسلمان نوجوانوں کو برانگیختہ کرنے کے لئے جس طرح خاکے شائع کئے جا رہے ہیں یا قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر غلط پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے تمام مسلمان حکومتوں کو اس کے تدارک کا پروگرام بنانا چاہئے۔

مزید : ایڈیشن 1