ایک سیاسی بس میں سفر

ایک سیاسی بس میں سفر
ایک سیاسی بس میں سفر

  

بس میں سفر کے دوران ایک عورت اپنے بچے کو کہہ رہی تھی بیٹے شرافت کے ساتھ برگر کھا لو ورنہ میں یہ ’’برگر‘‘ اِ ن انکل کو دے دُوں گی ،بچہ برگر کھانے سے مسلسل انکاری تھا ، عورت نے پھر کہا بیٹا آپ نے صبح سے کچھ نہیں کھایا یہ برگر کھا لو ورنہ ساتھ بیٹھے ایک ادھیڑ عمر شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اِن انکل کو دے دوں گی ، بچے نے ایک بار پھر انکار کر دیا ، عورت بیچاری ماں تھی پھر کوشش کی کہ اُس کا لال برگر کھالے اور کہا کہ بیٹا یہ برگر کھا لو ورنہ میں یہ برگر اِن انکل کو دے دُوں گی ، بچے نے پھر بھی انکار ہی کیا ، یہ حالات دیکھ کر وہ ادھیڑ عمر انکل تنک کربولے ، بہن جی مجھے برگر دینا ہے تو دے دیں میں نے راستے میں اُترنا تھا لیکن اس’’ برگر ‘‘کے لئے اپنی منزل سے تین سٹاپ آگے نکل آیا ہوں ۔

اسی طرح کا ایک سفر ہم اپنے وطن عزیز کی سر زمین پر بھی کر رہے ہیں ، بس کی سواریوں میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے محو سفر ہیں ، سب مسافر ایک ہی منزل کے راہی ہیں ، راستے میں کوئی نمائندہ ہاضمے کا چورن بیچ رہا ہے تو کسی نے آنکھوں میں سجائے گئے بہتر مستقبل کے خوابوں کو پورا کرنیوالا ’’ سرمہ ‘‘ سیل پر لگایا ہواہے ، کوئی روٹی کپڑا اور مکان کی دُکان سجائے بیٹھا ہے اور کسی نے تبدیلی اور نیا وطن بنانے والا منجن متعارف کرانے کی ٹھان لی ہے ’’جتنے منہ اور اُتنی باتیں ‘‘ سب اپنی اپنی بولی بول رہے ہیں ، ویسے تو یہ سفر 70سال سے جاری ہے اور اِس عرصے میں بہت سے سیاسی دُکاندار اپنا اپنا سامان بیچ چکے ہیں اب آخر میں باری آئی ہے تبدیلی اور نیا پاکستان بنانے والوں کی ۔

نیا پاکستان اور اُس میں تبدیلی سے یہ مُراد قطعاً نہیں کہ مینار پاکستان لاہوکی بجائے گوجرانوالہ میں دیکھنے جانا پڑے گا ، ایسا بھی نہیں کہ فیصل آباد کا گھنٹہ گھر اُٹھا کر بہاولنگر لے جایا جائے گا ، یہ وہم بھی ذہن سے نکال دیں کہ پاکستان کے جو شہر مغرب کی طرف تھے وہ مشرق کی طرف آ جائیں گے ، تبدیلی اور نئے پاکستان سے مُراد یہ ہے کہ پہلے جہاں کرپشن کی بھر مار تھی وہ نہیں ہو گی ، پاکستان کا ہرتاجر اب ٹیکس دے گا اور نئے پاکستان کے ’’معمار ‘‘وہ ٹیکس اپنی عوام پر لگائیں گے ، مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کیا جائے گا ، ایک کروڑ نوکریاں تقسیم ہوں گی ، وطن کے ویرانوں کو اربوں درخت لگا کر سر سبز و شاداب کر دیا جائے گا ، سال ہا سال سے عدالتوں کے چکر کاٹنے والے عوام کو اُن کی دہلیز پر انصاف مہیا ہو گا ، جرائم کو ختم کرکے تھانہ کلچر کو ٹھیک کیا جائے گا ، پاکستان کا ہر شہری اُس بس میں اُدھیڑ عمر انکل بن کر بیٹھا ہوا ہے اِس انتظار میں کہ وعدوں کا برگر کھلانے والی عورت وہ برگر اُسے دے گی ، بس کی عوامی سواریاں اِسی لالچ میں اپنا متعلقہ سٹاپ چھوڑ کر کافی آگے نکل رہی ہیں ، ابھی تک نہ تو بچے نے برگر کھایا ہے اور نہ ہی وہ برگر انکل کو ملا ہے ، نئے پاکستان اور تبدیلی والے بالکل اُسی برگر دینے والی عورت کا کردار ادا کرتے ہوئے سفر بھی جاری رکھے ہوئے ہیں اور انکل بیچارے کو برگر ملنے کیاُمید پر لگایا ہوا ہے ۔

بہر حال انکل کو انتظار تو کرنا ہوگا کہ کب اُسے وہ برگر ملتا ہے ۔ نئے پاکستان کے لئے کئے گئے عہد و پیماں پورے کیا ہونے تھے وہ تو بالکل اُلٹ ہو رہے ہیں ، ایک کروڑ نوکریاں دینے کی بجائے کئی ہزار ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے ، مہنگائی کا جن بوتل میں بند کرنے کی بجائے گھریلو گیس 46فیصد مہنگی ، کھاد کی بوری 800روپے ، قومی شناختی کارڈکی فیس پندرہ سو سے بڑھا کر 2400کر دی گئی ، ایل پی جی گیس 70روپے مہنگی ، بجلی فی یونٹ 2روپے مہنگی ، اے ٹی ایم ٹیکس 15سے بڑھا کر 24روپے اور ٹول ٹیکس میں 10فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔

عوامی بس نئے پاکستان کی حدود میں سفر کرتے ہوئے 25دن گزار چکی ہے ، نئے پاکستان میں کہا جا رہا ہے کہ تین ماہ کا وقت دیں اُس کے بعد تنقید کریں ، ہم ایسا کہنے والے حکومتی نمائندوں کو کہنا چاہتے ہیں کہ اگر پہلے 25دنوں میں وعدے ٹوٹ سکتے ہیں تو کیا ان ہی دنوں میں کوئی ایک وعدہ تو پورا کیا جا سکتا تھا ، اب اگر عوام تین ماہ انتظار کریں تو کیا ثبوت ہے کہ وعدوں کا ’’ برگر ‘‘ جس انکل کے بارے میں کہا جا رہا ہے اُسے مل جائے گا ؟ 25 دنوں کی شرح دیکھیں تو یہ عالم ہے اب تین ماہ بعد وعدے توڑنے کی یہ شرح کس حد تک تجاوز کر جائے گی ؟ یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ عوام کچھ ماہ بعد یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ہم تواپنا سفر نئے پاکستان میں جاری رکھے ہوئے تھے لیکن یہ معلوم نہ ہو سکا کہ دراصل ہم ایک رُکی ہوئی بس میں سوار ہیں جو کبھی پیچھے اور کبھی آگے سرکتی ہے ، بالکل اُسی طرح جس طرح بس خراب ہونے پر کچھ لوگ نیچے اُترے تاکہ بس کو دھکا لگا کر سٹارٹ کیا جائے ، کچھ لوگ بس کے اندر بیٹھے رہے ، دھکا لگایا جانا شروع ہوا تو بس کبھی تھوڑی آگے اور کبھی تھوڑی پیچھے جانا شروع ہوئی ، لوگ حیران ہوئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ پتا چلا کہ کچھ بے وقوف بس کو آگے سے پیچھے کی طرف دھکا لگا رہے ہیں اور کچھ پیچھے سے بس کو آگے کی طرف دھکیل رہے ہیں جس کی وجہ سے بس وہیں کی وہیں کھڑی ہے ۔یہ منظر دیکھ کر راہ گیر اور پاس سے گزرنے والے ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ موجودہ حکومت اگر اپنا کیا ہوا کوئی ایک وعدہ پورا کر دیتی تو شائد عوام اپنی آنکھوں میں نئے پاکستان کی نئی منزل تک پہنچنے کی اُمید پوری ہوتے دیکھ لیتے ۔اِس ایک وعدے کے لئے وزیر اعظم پاکستان کسی گورنر ہاؤس کی ایک دیوار ہی گرا دیتے تو اُمید تو بندھ جاتی ، تسکین تو ہو جاتی ۔ اب تو بلڈورز کے مالکان نے بھی کہہ دیا ہے کہ جس دن وزیر اعظم نے حلف اُٹھایا تھا اُس دن سے ہی ہم گورنر ہاؤسز کی دیواروں کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوئے ہیں اس انتظار میں کہ کام اب شروع ہوگا ، کام شروع نہین ہو رہا لیکن روز بروز بلڈورز کا کرایہ بڑھتا جا رہا ہے بلڈورز مالکان کو ڈر رہے ہیں کہ ایسا نہ ہو حکومت ہمیں کرایہ دیتے وقت ’’ رپھڑ ‘‘ ڈال دے ۔

مزید : رائے /کالم