امریکہ کو بھارت کے ایران سے تیل خریدنے پر اعتراض نہیں ہو گا

امریکہ کو بھارت کے ایران سے تیل خریدنے پر اعتراض نہیں ہو گا
امریکہ کو بھارت کے ایران سے تیل خریدنے پر اعتراض نہیں ہو گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

امریکہ بھارت پر پوری طرح مہربان ہے اور اس محبت کے صدقے امریکہ نے بھارت کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دینے پر غور شروع کردیا ہے، امریکہ نے ایران پر جو تازہ اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں اس کے بعد دنیا بھر کو خبردار کیا تھا کہ جو ملک بھی ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت کرے گا امریکہ اس پر بھی پابندیاں لگانے پر غور کرے گا، لیکن امریکہ نے بھارت کو اس سے مستثنیٰ قرار دینے پر غور شروع کردیا ہے کہ وہ چاہے تو ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھ سکتا ہے، اس سے پہلے بھی جب عالمی پابندیاں عائد تھیں تو بھارت بڑی تعداد میں ایران سے تیل خرید رہا تھا، اس خریداری کی وجہ ایران اور بھارت کے کوئی خصوصی تعلقات نہیں تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ ایران تیل ادھار فروخت کررہا تھا، اب تک اس زمانے کی خریداری کی ایک بڑی رقم بھارت کے ذمے ہے، اب پھر اسے یہ موقع ملنے والا ہے کہ وہ دوبارہ ادھار پر ایرانی تیل خرید سکے، اس کے مقابلے میں پاکستان ہے جس نے 2013ء میں ایران کے ساتھ گیس کی پائپ لائن بچھانے کا معاہدہ کیا تھا، حکومت کے خاتمے سے تھوڑا عرصہ پہلے اس وقت کے صدر زرداری نے اس پائپ لائن کا سنگِ بنیاد بھی رکھا تھا جو ایران سے نواب شاہ تک بچھائی جانی تھی، اس معاہدے کو پانچ سال سے زیادہ عرصہ گذر گیا لیکن پاکستانی علاقے میں پائپ لائن نہیں بچھائی جاسکی۔ 2013ء کے انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوگئی تھی جو نئی حکومت بنی اس نے پائپ لائن کے معاملے کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیا، ایران نے پاکستانی سرحد تک اپنے علاقے میں پائپ لائن بچھا دی تھی، پاکستانی علاقے میں پائپ بچھانے کا کام پاکستان کو کرنا تھا جو نہیں ہوسکا، متعدد بار ایرانی حکام اس سلسلے میں یاد دہانی کراتے رہے لیکن پاکستان کا موقف غالباً یہ تھا کہ پابندیوں کی وجہ سے یہ پائپ لائن نہیں بچھائی جاسکتی، جب کہ ایرانی حکام یہ کہتے تھے کہ پاکستان نے اپنے علاقے میں پائپ لائن بچھانی ہے اس پر ان پابندیوں کا اطلاق کیسے کیا جاسکتا ہے، جو ایران پر عائد ہیں وجہ کچھ بھی ہو یہ کام شروع نہ ہوسکا، حالانکہ ایران نے اس پائپ لائن کے پاکستانی حصے میں سرمایہ کاری کا بھی وعدہ کیا تھا یہاں تک کہ جب 2015ء میں امریکہ اور پانچ دوسرے ملکوں کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کے بعد ایران سے پابندیاں اٹھ گئیں تو بھی پاکستان نے پائپ لائن کا کام شروع نہیں کیا، معلوم نہیں یہ پابندیوں کا خوف تھا یا کوئی اور وجہ تھی کہ پاکستان نے گیس پائپ لائن بچھانے کا کام شروع نہ کیا دوسری جانب بھارت پابندیوں کے باوجود ایران سے بڑی تعداد میں ادھار تیل خریدتا رہا اور کسی نے اس کی جانب میلی آنکھ سے بھی نہ دیکھا، اب پھر بھارت نے امریکہ کو آمادہ کرلیا ہے کہ وہ ایران سے تیل خریدنے پر اعتراض نہ کرے اور امریکہ نے حامی بھرلی ہے کہ وہ ایسا ہی کرے گا، کیا اسے بھارتی ڈپلومیسی کی کامیابی قرار نہیں دیا جاسکتا کہ اس نے امریکہ کی شدید ایران دشمنی کے باوجود یہ سہولت حاصل کرلی ہے۔

دوسری جانب امریکہ کو یہ اعتراض بھی نہیں کہ بھارت روس سے جدید ترین دفاعی میزائل سسٹم خرید لے یہ انتہائی مہنگا نظام اس وقت دنیا کے دو ملک خرید رہے ہیں جن میں دوسرا ترکی ہے، لطف کی بات یہ ہے کہ امریکہ کو ترکی پر تو اعتراض ہے کہ وہ روس سے یہ سسٹم کیوں خرید رہا ہے لیکن بھارت پر اسے کوئی اعتراض نہیں وجہ غالباً یہ ہے کہ بھارت امریکہ سے بھی بڑی تعداد میں جدید ہتھیار خرید رہا ہے، اور امریکہ کے ساتھ ’’ٹو پلس ٹو مذاکرات‘‘ میں امریکہ اور بھارت کے درمیان فوجی معاہدہ طے پا گیا ہے، اگلے برس دونوں ملک مشرقی ساحل پر مشترکہ فوجی مشقیں بھی کریں گے، دونوں ملکوں میں ہاٹ لائن قائم ہوگی اور امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا رکن بنانے کی کوشش بھی کرے گا، یہ کوششیں ویسے تو صدر اوباما کے دور سے جاری ہیں اور جب انہوں نے اپنی صدارت کے آخری دور میں نئی دہلی کا دورہ کیا تھا تو اعلان کیا گیا تھا کہ امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کی حمایت کرتا ہے، پاکستان نے بھی اس گروپ کی رکنیت کے لئے درخواست کررکھی ہے لیکن بھارت اس کی مخالفت کرتا ہے، دو سال پہلے جب یہ معاملہ گروپ کے روبرو پیش آیا تو چین نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان کو بھی اس گروپ کی رکنیت دی جائے لیکن بھارت اور امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے بات آگے نہ بڑھ سکی اور چین کی مخالفت کے باعث بھارت بھی رکن نہ بن سکا، چین کا موقف تھا کہ پاکستان رکنیت کی تمام شرائط پوری کرتا ہے اس لئے اگر بھارت کو رکن بنانا ہے تو پاکستان کو بھی بنایا جائے، اب تک بھارتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ معاملہ رکا ہوا ہے، اب اگر امریکہ بھارت کو نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت دلانے کے لئے دوبارہ کوششیں کرے گا تو چین بھی متحرک ہوگا، اس لئے اب یہ وقت ہے کہ پاکستان بھی گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے دوبارہ کوششیں کرے، اور گروپ کے رکن ملکوں کے ساتھ سفارتی لابنگ کا سلسلہ دراز کرے، کیونکہ اگر بھارت کو رکنیت ملتی ہے تو پاکستان کا بھی حق ہے دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور پاکستان کا حق اس لئے بھی مقدم ہے کہ اس کے ایٹمی پروگرام کے متعلق ابھی تک کبھی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی جبکہ بھارت میں کئی ایٹمی حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں اموات واقع ہوگئی تھیں۔

ایرانی تیل

مزید : تجزیہ