اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا
اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ایک صحافی ہونے کے ناطے ہر خبر پر نظر ہونا ایک فطری بات ہے ۔ چنانچہ جونہی ایف بی آر کے ریجنل آفس سے ہمیں معلوم ہوا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سادگی مہم کے اعلان کے بعد اسلام آباد ہیڈ آفس سمیت پنجاب بھر سے آئے ہوئے اکاؤنٹ افسران کو دوپہر کے وقت پرتکلف کھانے کی بجائے چائے اور بسکٹ پر گزارہ کرنا پڑا ہے تو ہم چونکے ۔ ہمارے جاننے والے تحریک انصاف کے حامی افسر نے پرجوش انداز میں بتایا کہ اکاؤنٹ افسران اس لئے بھی کھانے سے گریز کر رہے ہیں کہ کہیں کوئی موبائل فون سے ان کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ نہ کردے ۔ یہ سننا تھا کہ ہم بھاگم بھاگ واپس دفترپہنچے اور Social Media Syndromeکے عنوان سے ایک خبر لکھ ماری جس کا لب لباب یہ تھا کہ ایف بی آر میں سوشل میڈیا کا اس قدر ہوا طاری ہے کہ پنجاب بھر سے آئے ہوئے افسران اس لئے کھانا کھانے سے گھبرا رہے ہیں کہ اگر کسی نے سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیو ڈال دی تو وزیر اعظم عمران خان کی سادگی مہم کی خلاف ورزی ہو جائے گی ۔

اگلے دن خبر شائع ہوئی تو ہم نے اپنے موبائل فون سے اس کی ایک تصویر بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی جو سفر کرتے کرتے ایف بی آر میں بھی پہنچ گئی۔

گزشتہ روز ہم ایف بی آر میں ایک اور افسر سے ملنے پہنچے تو وہ باتوں باتوں میں کہنے لگے کہ پتہ نہیں آپ کو کس نے بتایا تھا کہ اکاؤنٹ افسروں کو کھانا نہیں دیا گیا ،کیونکہ نہ صرف ان افسروں کو تین دن تک کھانا دیا گیا ،بلکہ ان دس افسروں کی آڑ میں تیس اور لوگوں کا کھانا بھی منگوایا گیا تھا۔ ہمیں حیرت ہوئی اور پوچھا مگر وہ وزیر اعظم عمران خان کی سادگی مہم کا کیا بنا؟ تو کہنے لگے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پنجاب بھر سے افسران تین دن کی سالانہ میٹنگ اٹینڈ کرنے آئے ہوں اور انہیں کھانا نہ دیا جائے۔ اس میں اگر کوئی غلط بات ہے تو یہ ہے کہ ان دس لوگوں کی آڑ میں تیس اور لوگوں کا کھانا آتا ہے۔

پھر خود ہی وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں گاڑیوں کی نیلامی کا تذکرہ چھیڑ کر کہنے لگے کہ ایف بی آر میں بھی ایک مرتبہ پالیسی بنائی گئی تھی کہ افسروں کے سرکاری ڈرائیوروں اور سرکاری پٹرول کے پیسے ان کی ماہانہ تنخواہ میں شامل کردیئے جائیں اور ایف بی آر کی ڈرائیوروں ، پٹرول کی پرچیوں اور گاڑیوں کی Maintenanceسے جان چھڑوائی جائے۔ چنانچہ پالیسی کے مطابق ایف بی آر افسروں کی تنخواہوں میں اضافہ کردیا گیا ۔چھے ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ پالیسی دوبارہ تبدیل کردی گئی اور سرکاری ڈرائیوروں اور سرکاری پٹرول کی اجازت دے دی گئی، مگر ستم یہ ہوا کہ اس مد میں افسروں کی تنخواہوں میں ہونے والا اضافہ واپس نہ لیا گیا۔

ہمارے اس سرکاری افسر کوخدشہ لاحق ہے کہ یہی حال وزیر اعظم ہاؤس میں کھڑی دو سو گاڑیوں کی نیلامی کے ساتھ ہو گا کہ نیلامی تو کردی جائے گی جسے اونے پونے داموں بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے فرنٹ مین ہی خرید لیں گے اور چھے ماہ بعد پھر سے آہستہ آہستہ وزیر اعظم ہاؤس میں دو سو گاڑیوں کا جھرمٹ لگ جائے گا، کیونکہ دو سو گاڑیاں کار سرکار کے لئے ہیں ، وزیر اعظم کے لئے نہیں ہیں، ایسا ہوتا تو سابق وزرائے اعظم جاتے ہوئے وہ گاڑیاں ساتھ لے کر جاتے جس طرح ان کے بقول سندھ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز سرکاری گاڑیاں واپس نہیں کر رہے ہیں اور خبرآئی ہے کہ سندھ میں ساڑھے چار سو گاڑیاں لاپتہ ہیں۔

بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہنے لگے کہ سرکاری دفاتر میں یہ عام بات ہے کہ دفتر کا چپراسی اپنے صاحب کے گھرمیں کام کرتا ہے اور تنخواہ سرکار سے لیتا ہے ۔ کہنے لگے کہ ستم یہ ہے کہ جب افسر ریٹائر ہوجاتا ہے تو بھی وہ چپراسی ان کے گھر پر ہی ڈیوٹی دیتا رہتا ہے اور چونکہ افسر کی جگہ ان کا کوئی جونیئر ہی پروموٹ ہو کر ان کی جگہ لگا ہوتا ہے اس لئے جب بھی آفس سے چپراسی کی طلبی کا معاملہ اٹھتا ہے تو ریٹائرڈ افسر صاحب اپنے جونیئر پروموٹی کو فون کرکے جھاڑ جھپٹ کردیتے ہیں اور وہ ’’سر آپ فکر نہ کریں‘‘ کہہ کر معاملے کو التوا میں ڈال دیتا ہے۔

ہم ایف بی آر سے اپنے دوست افسر کے پاس سے اٹھ کر آئے تو قدرے مرجھائے ہوئے تھے اور سوچ رہے تھے کہ اگر وزیر اعظم عمران خان ملٹری سیکرٹری کے دو بیڈروم والے گھر میں رہ رہے ہیں تو ممکن ہے وزیر اعظم کے ملٹری سیکرٹری اپنی فیملی سمیت وزیر اعظم ہاؤس میں رہ رہے ہوں، کیونکہ یہ تو ہونے سے رہا کہ انہوں نے اپنے ہی گھر کے سامنے ٹینٹ لگا کر رہنا شروع کردیا ہو!۔

مزید : رائے /کالم