سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس،منہاج القران کے 3گواہوں کے بیان قلمبند

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس،منہاج القران کے 3گواہوں کے بیان قلمبند

لاہور(نامہ نگار)انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اعجازحسن اعوان نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی سماعت آج 7ستمبر تک ملتوی کردی۔عدالت میں پولیس چالان کے گواہ ایس ایس پی طارق عزیز پرآج بھی جرح جاری رہے گی۔عدالت میں وقفے کے دوران ادارہ منہاج القران کے تین گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔ عدالت میں ایس ایس پی پر ادارہ منہاج القران کے وکیل راے بشیر احمد نے جرح کی ،عدالت میں گزشتہ روز بھی سکرین پر ویڈیو دیکھا کر جرح کی گئی۔عدالت میں وقفہ ہوا تو پرائیویٹ استغاثے کے 3گواہوں عبدالغفار ،وقاص علوی اور جواد کا بیان قلمبند کیا گیا جس کے بعد بْرھان معظم ملک اور میاں پرویز ایڈووکیٹ نے گواہوں پر جرح کی۔ عدالت میں بْرھان معظم ملک کی جرح کا جواب دیتے ہوے گواہ عبدالغفار نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اسے پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا ،وقوعہ پر مظاہرہ کرنے والے 25افراد موجود تھے۔25مظاہرین میں سے 10،12افراد زخمی ہوئے، مجھے نہیں معلوم کون کون زخمی ہوا ،صرف مجھے اپنا پتہ ہے ،عدالت میں وقارعلی نے میاں پرویز ایڈووکیٹ کی جرح کے جواب میں کہا وہ ادارہ منہاج القران صبح 8بجے پہنچا ، اس وقت وہاں احتجاج ہو رہا تھا اور میں اس میں شامل ہو گیا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا توپارک میں 15سے 20افراد موجود تھے ،میرا میڈیکل منشی ہسپتال میں ہوا تھا ،میں نے ڈاکٹر کو تفصیلات نہیں بتائی تھیں، میں میڈیکل کو چیلنج کسی جگہ نہیں کیا ،میں نے کوئی تحریری درخواست عدالت میں نہیں دی تھی ،میں منہاج القران کا ملازم نہیں ہوں اور نہ طاہرالقادری کا مرید ہوں ،مجھے منہاج القران سے محبت ہے اور اسی محبت کی وجہ سے گیا تھا، میں پہلے سے کسی پولیس ملازم کو نہیں جانتا تھا، عدالت میں گواہوں پر وقفے کے دوران دونوں سینئر وکلا ء نے اپنی جرح مکمل کی بعد میں وقفے کے بعد ایس ایس پی طارق عزیز پر راے بشیراحمد ایڈووکیٹ نے جرح کرنی تھی لیکن عدالتی وقت ختم ہوگیا تھا،اب یہ جرح آج مکمل کی جائے گی۔

مزید : علاقائی