پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام ، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام ، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی آمنے سامنے

لاہور( دیبا مرزا سے )پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کے حوالے سے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی آمنے سامنے آ گئی ہیں ‘ میاں حمزہ شہباز کی (ن) لیگی لارڈ مئیرز چیئرمینوں کو پی ٹی آئی کی ممکنہ بلدیاتی نظام میں تبدیلیوں کے حوالے چوکنا رہنے کی ہدائت ‘ دوسری جانب پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما و وزیر بلدیات عبدالعلیم خان بھی نیا بلدیاتی نظام ہر قیمت پر لانے کے اعلان پر ڈٹ گئے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے اپنی تجاویز بھی تیار کر لی ہیں اور وہ ان تجاویزوں کو 13اگست کو وزیراعظم عمران خان کو منظوری کے لئے پیش کریں گے۔تفصیلات کے مطابق جس وقت سے پنجاب کے سنیئر وزیر اور صوبائی وزیر بلدیات عبدالعلیم خان نے پنجاب میں نیا بلدیاتی نظا م لانے کااعلان کیا ہے تواس وقت سے ہی مسلم لیگ (ن) کے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز شریف متحرک ہو چکے ہیں اور انہوں نے اپنے پنجاب بھرکے لارڈ مئیرز اور چیئرمینوں سے مشاورت کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور انہیں کہا ہے کہ وہ فکر نہ کریں ہم کسی بھی قیمت پر اس نظام کو تبدیل نہیں کرنے دیں گے تاہم اس حوالے سے چیئرمین چوکنا رہیں اور پی ٹی آئی اگر کوئی بھی ممکنہ ترمیم کرنے جارہی ہے اس حوالے سے ہمیں آگاہ کیا جائے ہم اس پر قانون کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے اورخاموش نہیں رہیں گے اور اس حوالے سے ہمیں کوئی احتجاجی تحریک بھی چلانی پڑی تو چلائیں گے ۔دوسری جانب عبدالعلیم خان نے اپنی تجاویز تیار کر لی ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے میڈیا پر باقاعدہ اعلان بھی کردیا ہے کہ میں ان تجاویزوں کو 13اگست کو وزیراعظم کو منظوری کے لئے پیش کروں گا رہی بات (ن) لیگ کی اس حوالے سے عدالت جانے کی دھمکی تو وہ یہ شو ق بھی پورا کرلے ہم آئین و قانون کے مطابق اس نظام میں تبدیلی کریں گے اور اس نظام کے تحت چیئرمینوں کو اختیارات دینے کے لئے ہر حد تک جائیں گے کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ یہ چیئرمین عوام کو ڈلیور کریں۔

مزید : صفحہ آخر