مہمند ڈیم کیلئے مختص رقم میں سے 304ارب کرپشن کی نذر ہوگئے

مہمند ڈیم کیلئے مختص رقم میں سے 304ارب کرپشن کی نذر ہوگئے

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور نے نئی حکومت سے خارجہ پالیسی کی تیاری کے لئے وزارت خارجہ کو محور و مرکز بنانے کا مطالبہ کر دیا، پارلیمنٹ کی تجاویز کو اہمیت دی جائے۔ خارجہ پالیسی کی تیاری میں سویلین کا کلیدی کردار ہونا چاہئے جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا ہے کہ امریکہ نے ممکنہ آئی ایم ایف بیل آؤٹ پیکج کو مشروط کرنے کے بیان کی تردید کر دی ہے۔ بیل آؤٹ پیکج کو چینی قرضوں سے مشروط نہیں کیا گیا۔ قائمہ کمیٹی نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کرانے کی تجویز کی بھی حمایت کر دی ہے۔ وزیر خارجہ نے آگاہ کیا ہے کہ حکومت کی یہی پالیسی ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان پل کا کردار ادا کیا جائے بشرطیکہ دونوں ممالک پاکستان کو ثالث بنانے پر تیار ہیں تو کوئی وقت ضائع کئے بغیر یہ کوشش شروع کر دیں گے، امریکہ سے اس بارے میں پوچھ لیا گیا افغانستان میں اس کے کیا مقاصد اور ارادے ہیں۔ اس امر کا اظہار انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خارجہ امور کو اپنی پہلی بریفنگ میں کیا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین مشاہد حسین سید کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ پیپلزپارٹی کے اراکین شیری رحمن، رحمن ملک، ستارہ ایاز سمیت مختلف جماعتوں کے 9 اراکین سینیٹ نے شرکت کی۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ درانی نے پاک امریکہ تعلقات پڑوسی ممالک کے ساتھ رابطوں کی موجودہ صورتحال، علاقائی سفارتکاری، مشرق وسطیٰ کی پرامن صورتحال میں پاکستان کے کردار امریکہ اور طالبان کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کے کردار سمیت دیگر امور کے بارے میں آگاہ کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مطابق امریکہ کی طرف سے واضح کیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ممکنہ بیل آؤٹ پیکج کو چینی قرضوں سے مشروط نہیں کیا گیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی نے بھی کبھی ایسی بات نہیں کی اور نہ کسی اور امریکی عہدیدار نے بات کی۔ اس بیان کا امریکہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ وزارت خارجہ کی بریفنگ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکی اپروچ تبدیل ہو رہی ہے اور وہ اس بات پر آ رہا ہے کہ افغانستان کا فوجی حل نہیں بلکہ سیاسی حل ہے۔ امریکہ طالبان سے مذاکرات کے لئے پاکستان کا تعاون چاہتا ہے اور پاکستان کی بھی یہی خواہش ہے کہ ان مذاکرات میں کردار ادا کرے ۔ وزیر خارجہ نے اس دیرینہ موقف کا بھی اعادہ کیا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لئے کشمیر کے تنازعے کا حل ضروری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا عالمی سطح پر بھی ادراک ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ نئی حکومت سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہے بشرطیکہ دونوں ممالک پاکستان کی ثالثی تسلیم کرنے کیلئے تیار ہوں۔

مزید : صفحہ آخر