پاک فوج کے کمانڈر نیشنل گارڈ کی شہید کارگل کرنل شیر خان کو سلامی

پاک فوج کے کمانڈر نیشنل گارڈ کی شہید کارگل کرنل شیر خان کو سلامی

صوابی( بیورورپورٹ)پاکستان کے عظیم سپوت اور شہید کارگل کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے مزار واقع کرنل شیر کلے ضلع صوابی میں پاک فوج کے کمانڈر نیشنل گارڈ بریگیڈئیر امیر محمد خان کی قیادت میں آرمی کے آفسران اور جوانوں نے حاضری دے کر مزار کو سلامی دی اس موقع پر انہوں نے کرنل شیر خان شہید کے مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے شہید کے مزار کو سلامی دی ۔ اس موقع پر ضلع ناظم صوابی حسن خان ایڈوکیٹ کے علاوہ ، شہید کے بھائی انور شیر اور سکندر شیر ، اعلی سرکاری حکام اور عمائدین علاقہ بھی موجود تھے بعد ازاں ایک خصوصی تقریب میں قر آن خوانی کی گئی ملک کی تمام شہداء اورپاکستان کی سلامتی کے لئے دُعا کی گئی اس موقع پر شرکاء تقریب نے شہید کارگل کیپٹن کرنل شیر خان نشان حیدر کی بہادری اور شجاعت کو خراج عقیدت پیش کی آج سے 19سال قبل یعنی پانچ جولائی 1999کو کارگل کے مقام پر ایک سخت ترین معرکے میں کیپٹن کرنل شیر خان نے انڈیا کے افواج کے ساتھ انتہائی دلیری کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے ۔ انہوں نے اس معرکے میں کئی بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کیا تھا بھارت کی فوجی قیادت وہاں کی حکومت کے علاوہ عالمی دنیا نے بھی کیپٹن کرنل شیر خان کی دلیرانہ صلاحیتوں ، شجاعت اور بہادری کا بھی اعتراف کیا تھا۔کیپٹن کرنل شیر خان یکم جنوری 1970کو نواں کلی ضلع صوابی میں پیدا ہوئے تھے ان کے والد خورشید خان نے شیر خان کو پاک آرمی میں کرنل بنانا چاہتے تھے اس لئے ان کا نام کرنل شیر خان رکھا شہید کارگل اپنے دو بھائیوں اور دو بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ گورنمنٹ کالج صوابی میں انٹر میڈیٹ تک تعلیم مکمل کرنے کے بعد پاکستان ائیر فورس میں بحیثیت ائیر مین شمولیت اختیار کی تر بیت کے بعد وہ فلائنگ ٹریننگ ونگ رسالپور میں الیکٹرک فٹر( ایرو ناٹیکل) تعینات کئے گئے اس دوران انہوں نے پاک آرمی میں بطور کمیشنڈ آفیسر کے لئے دو بار درخواست دی جس میں وہ سلیکٹ ہو گئے نومبر1992میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد 1994میں نویں پی ایم اے لانگ کورس کے ساتھ گریجویشن کی اور انہیں پہلی بار اوکاڑہ میں ستائیس ویں سندھ رجمنٹ میں بطورسکینڈ لیفٹیننٹ تعینات کیا گیا۔ جنوری 1998میں ستائیس ویں سندھ رجمنٹ سے NLI12میں تعینات کر دیا گیا اور انہیں کارگل سیکٹر کے علاقے گلترے میں مسکوش کو وادی میں پوسٹوں کے دفاع پر مقرر کیا گیا اپنی پوسٹوں کی دفاع میں انہوں نے کئی بار بھارتی حملوں کو ناکام بنا یا۔ بھارتی فوجی تعداد اور جدید ہتھیار کو حوالے سے بہتر تھے اور انہوں نے کئی بار دھاوا بولا خصوصاً 8سکھ انفٹری بٹالین جیسے انہوں نے نہ صرف روکا بلکہ بہت پیچھے پسپا کر دیا۔شہید کارگل نے ٹائیگر ہل پر دن کی روشنی میں دشمن فوجیوں پر اس وقت جوابی حملہ کیا جب دشمن آسانی سے اس کی نقل و حرکت دیکھ سکتا تھا ۔ بھارتی فوج کے لئے یہ سب حیران کن اور اچانک تھا کیونکہ اس طرح کی حلے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے اس حملے کو ایک خود کش حملہ سمجھا گیا لیکن اس پوسٹ کی اہمیت کے پیش نظر کرنل شیر نے نہ صرف دشمن کو پیچھے بھاگنے پر مجبور کیا بلکہ ان کے بیس کیمپ تک جا پہنچے اور یہاں تک کہ ان شہید ہو گئے بے مثل شجاعت اور جان کی عظیم ترین قر بانی کے اعتراف میں کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو حکومت پاکستان نے اعلی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا۔ اور ان کے گاؤں نواں کلی کا نام تبدیل کر کے کرنل شیر خان جب کہ ان کے نام سے کرنل شیر خان گاؤں میں کیڈیٹ کالج بنوا دیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول