صدارتی انتخاب کے بعد نئے جمہوری دور کا دوسرا مرحلہ مکمل

صدارتی انتخاب کے بعد نئے جمہوری دور کا دوسرا مرحلہ مکمل

تجزیاتی رپورٹ/نعیم الدین

صدر مملکت کے عہدے کیلئے انتخابات منعقد ہوئے جس میں ڈاکٹر عارف علوی کے صدر منتخب ہونے کے بعد ملک میں نئے جمہوری دور کا دوسرا مرحلہ بخیر و خوبی مکمل ہوگیا، لیکن اس کے ساتھ ہی اب پی ٹی آئی کیلئے آزمائش کا کڑا دور شروع ہوگیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اور بعد میں جو وعدے اور دعوے کیے تھے، ا ن کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے، سب سے پہلے عوام کو درپیش جوہ مسائل ہیں جن کو دور کرنے کیلئے حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہونگے جو نچلی سطح تک عوام کو فائدہ دے سکیں، بلدیاتی اداروں کا بے اختیار ہونا ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، عوامی مسائل اس نظام کے کمزور ہونے کے باعث اپنی جگہ موجود ہیں، عوام کی خواہش ہے کہ ان کے چھوٹے چھوٹے مسائل آسانی سے حل ہوسکیں، پانی ، صفائی ، صحت، تعلیم اور ترقیاتی کام جلد مکمل کیے جاسکیں ، بلدیاتی اداروں کو سندھ میں مؤثر کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، کراچی شہر جو ایک میٹروپولیٹن شہر ہے، جسے منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے، لیکن اس کی سہولیات چھوٹے شہروں سے بھی کم ہیں، بلدیاتی ادارے اگر بااختیار ہونگے تو جمہوریت مزید مستحکم و مضبوط ہوگی اور عوام کا سسٹم پر اعتماد بڑھے گا، دراصل ترقیاتی فنڈ صرف بلدیاتی اداروں کے لئے مختص کیے جانے چاہئیں کیونکہ عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانا اور مقامی لوگوں کو سہولیات فراہم کرنا حکومت وقت کی اولین ذمہ داری ہے، جبکہ اراکین پارلیمنٹ یہ ترقیاتی فنڈ صرف اپنی نشست مضبوط بنانے اور انتخابات میں کامیابی کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ اس وقت جب جمہوریت کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے، تو بلدیاتی اداروں کو منظم طریقوں سے کام کرنے کے امکانات بھی پیدا ہوچکے ہیں، اور ترقی کا سفر بلدیاتی اداروں کے گرد ہی گھوم رہا ہے، موجودہ حکومت جس طرح بھی ممکن ہو بلدیاتی اداروں کو مؤثر بنانے کے لئے جلد حکمت عملی وضع کرے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات جلد مہیا ہوسکیں، ساتھ ہی ساتھ محکمہ پولیس کیلئے بھی ایسے اقدامات کیے جائیں کہ وہ سیاسی اثرورسوخ سے پاک ہوسکے اور عوام کو سستا انصاف اور قانون مل سکے ، پولیس آرڈر 2002 کیلئے پولیس ریفارمز کی ضرورت نہیں، اصل پولیس آرڈر 2002ء کو نافذ کیا جائے، پرویز مشرف کے دور کے لوکل باڈی سسٹم کو جو کہ انتہائی کامیاب تھا، لیکن مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے مفاد کے خاطر اسے ٹھکانے لگا دیا ، جو کہ انتہائی نقصان دہ عمل تھا، عوام کیلئے اس نظام میں نچلی سطح تک اختیارات پہنچ رہے تھے، اس وقت بلدیاتی اداروں کو توڑنا مناسب ہی نہیں بلکہ غیر جمہوری بھی ہوگا ، کیونکہ اس کو توڑنے کا کوئی جواز نہیں ہے، اس بارے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے ، یہ نظام ہی عوام کی خوشحالی کا ضامن بن سکتا ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر