رحیم یار خان، بھائی مے بہن مار ڈالی، وہاڑی قلفی فروش قتل

رحیم یار خان، بھائی مے بہن مار ڈالی، وہاڑی قلفی فروش قتل

وہاڑی، ماچھیوال،رحیم یار خان (نمائندگان ) بھائی نے بہن جبکہ نامعلوم افراد نے قلفی فروش کو قتل کر دیا۔تفصیل کے مطابق چک نمبر549ای بی کا غریب قلفی فروش محمد اختر جوتین بچوں کا باپ بتایا جا تا ہے گزشتہ شام گھر سے موٹر سائیکل کی قسط دینے کے لیے نکلا اور ساری رات گھر واپس نہ آیا ، اب اسکی نعش علاقہ کمانہ کے قریب فصلوں سے ملی ہے جس کی اطلاع ملتے ہی انکے گھر کہرام مچ گیا اور اہلخانہ غم سے نڈھال ہو گئے ، پو لیس نے نعش قبضہ میں لے کر کا رروائی (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

شروع کردی اور مقتول کا پوسٹ مارٹم کرانے کے لیے مقامی ہسپتال شفٹ کردی گئی ہے۔دریں اثنائمیکے میں بتائے بغیر خاوند کے ساتھ جانے والی بہن کو بھائی نے سسرال میں موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ پروین خاوند سے روٹھ کر میکے بیٹھی تھی کہ کسی کو بتائے بغیر خاوند کے ساتھ چلی گئی ۔ ریسکیو 15 پر اطلاع پا پر پولیس مقتولہ کے گھر موضع گولانی پہنچی تو ورثاء نعش آرایچ سی خانبیلہ لے جا چکے تھے ۔ پولیس کے موقع پر تاخیر سے پہنچنے کی باتوں میں کوئی سچائی نہیں ۔ ورثاء کا آر ایچ سی ڈاکٹرز سے بھی جھگڑا ۔ قومی شاہراہ بلاک کرنے پر ڈی پی او آفس میں میٹنگ پر آئے ہوئے ڈی ایس پی لیاقت پور اور ایس ایچ شیدانی فوراً موقع پر جا کر روڈ بلاک اور احتجاج ختم کروایا ۔ ترجمان پولیس کے مطابق گزشتہ روز تھانہ شیدانی کے علاقہ موضع گولانی سے دن 12/45 بجے دن پولیس ایمرجنسی رسکیو 15 پر اطلاع موصول ہوئی کہ رفیق نامی شخص نے اپنی حقیقی بہن پروین قتل کر دیا ہے جس پر تھانہ شیدانی سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر فیصل فوراً موقع کے لئے روانہ ہوا جیسے ہی وہ موقع پر پہنچا تو پتا چلا کہ پروین کو اس کا خاوند ریاض و دیگر سسرالی ورثاء زخمی خیال کرتے ہوئے علاج معالجہ کی خاطر آر ایچ سی خانبیلہ لے گئے ہیں ۔ اے ایس آئی محمد فیصل آر ایچ سی پہنچا تو پتا چلا کہ پروین کے ورثاء ڈاکٹرز سے لڑ چکے ہیں کہ ڈاکٹرز نے پروین کا علاج نہیں کیاجس سے وہ جانبحق ہو گئی ہے ۔ جبکہ ڈاکٹرز کے مطابق پروین کو جب آر ایچ سی لایا گیا تو وہ فوت ہو چکی تھی ۔ پروین کے ورثاء نے اے ایس آئی محمد فیصل کے آر ایچ سی پہنچنے پر اس سے بھی جھگڑا شروع کر دیا اور پروین کی نعش کے ایل پی روڈ پر منتقل کر کے روڈ بلاک کر دیا اور احتجاج کرنے لگے جس پر اے ایس آئی محمد فیصل نے ڈی ایس پی لیاقت پور غلام دستگیر اور ایس ایچ او تھانہ شیدانی انسپکٹر نذیر چانڈیہ کو حالات کی کشیدگی بارے اطلاع دی جس پر ہر دو افسران فوراً موقع کے لئے روانہ ہوگئے اور خانبیلہ کے معززین کی ہمراہی میں پروین کے ورثاء کے ساتھ کامیاب مذاکرات کر کے کے ایل پی روڈ ٹریفک کے لئے کھلوا دی ۔

قتل

مزید : ملتان صفحہ آخر