رشوت وصولی: اے سی میلسی کو بچا کر رجسٹری محرر کو پھنسانے کا انکشاف

رشوت وصولی: اے سی میلسی کو بچا کر رجسٹری محرر کو پھنسانے کا انکشاف

میلسی(نمائندہ خصوصی،نمائندہ پاکستان ) انٹی کرپشن وہاڑی کی ٹیم کی جانب سے اسسٹنٹ کمشنر میلسی سے رشوت کی برآمدگی کیلئے مارے گئے چھاپے نے کئی سوالات جنم دے دیئے اے(بقیہ نمبر33صفحہ7پر )

سی میلسی کی بجائے رجسٹری محرر جلالپور پیروالا کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا ۔تفصیل کیمطابق گذشتہ روز جلالپور پیروالا کے شہری محمد رمضان نے انٹی کرپشن وہاڑی کے سرکل آفیسر محمد شاہد شریف سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی ایک رجسٹری کے سلسلے میں بتایا کہ اے سی میلسی ملک ظفر علی جو اس سے قبل سب رجسٹرار جلالپور پیروالا تھے اور رجسٹری کی منظوری کیلئے 40ہزار روپے کی رشوت طے کی ماہ اپریل میں کرائی گئی رجسٹری کے دوران 20ہزار ادا کر دیئے لیکن ملک ظفر علی نے بقیہ رقم نہ ملنے کی وجہ سے رجسٹری پر دستخط نہ کیئے اور آج رجسٹری محرر جلالپور پیروالا کے ذریعے بقیہ 20ہزار وصول کر کے سابقہ تاریخ میں دستخط کرنے پر انہوں نے آمادگی ظاہر کی ہے محمد رمضان کی تحریری درخواست پر انٹی کرپشن وہاڑی کی ٹیم نے اے سی میلسی کے دفتر میں اس وقت چھاپہ مارا جب وہ مبینہ طور پر رقم کے لین دین میں مصروف تھے تا ہم بند کمرے میں انٹی کرپشن کی ٹیم نے اے سی میلسی ملک ظفر علی کی جامہ تلاشی لی اس دوران ان کی جیب سے 5,5ہزار کے کئی نوٹ برآمد ہوئے جس کی ایک اہلکار نے ویڈیو بھی بنائی تا ہم بعد ازاں پر اسرار طور پر ٹیم نے رجسٹری محرر جلالپور پیروالا ریاض حسین کو ملزم قرار دیتے ہوئے اس سے رشوت میں دیئے گئے مبینہ نوٹوں کی برآمدگی ظاہر کرتے ہوئے حراست میں لے لیا اور اسے سی میلسی کیخلاف کوئی کاروائی نہ کی اور اسسٹنٹ کمشنر میلسی اگلے روز یوم دفاع کی مختلف تقریبات میں مہمان خصوصی کے طور پر دھڑلے سے شریک ہوتے رہے حالانکہ انٹی کرپشن وہاڑی کی جانب سے درج کیئے گئے مقدمہ نمبر23/18کا تمام تر متن اے سی میلسی ملک ظفر علی کیخلاف درج ہے جس میں انہیں ملزم قرار دیا گیا ہے تا ہم انٹی کرپشن کی یکایک اس تبدیلی نے کئی سوالات جنم دیدیئے کیونکہ بند کمرے میں اے سی میلسی سے برآمد کیئے جانے والے نوٹوں اور جامہ تلاشی کی بنائی گئی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی جس سے شکوک و شباہت مزید بڑھ گئے ۔

رشوت وصولی

مزید : ملتان صفحہ آخر