حاصلی پور، سیاسی شخصیات، افسر ، پرست سرکاری اراضی پر قبضوں کا انکشاف

حاصلی پور، سیاسی شخصیات، افسر ، پرست سرکاری اراضی پر قبضوں کا انکشاف

حاصل پور(نمائندہ پاکستان) قائم پور چیئرمین بلدیہ، چیف آفیسر، لینڈ آفیسراور پولیس کی سرپرستی میں سرکاری زمینوں پر قبضہ کرنیکا انکشاف ہوا ہے ۔قبضہ گروپوں کی وجہ سے کئی گھرانے تباہ و برباد اور اجڑ چکے ہیں۔شہر کی سرکاری اراضی کو دن رات پیچا جا رہا ہے۔عملہ کی ملی بھگت (بقیہ نمبر48صفحہ12پر )

سے شہر کی اکثر دوکانوں کا کرایہ چیئرمین بلدیہ ہڑپ کرنے میں مصروف ہے جس سے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے ۔تفصیل کے مطابق حاصل پور میں قائم پورچیئرمین بلدیہ، چیف آفیسر، لینڈ آفیسراور پولیس کی سرپرستی میں سرکاری زمینوں پردن رات قبضہ جاری ہے۔ قبضہ گروپوں کی وجہ سے کئی گھرانے تباہ برباد اور اجڑ چکے ہیں۔مبینہ طور پر عظیم چوٹھیہ، جاوید منشی ، عزیزو دیگر کے کارندے قبضہ گروپوں کے سرغنہ ہیں۔سرکاری اراضی پر قبضہ مافیا گروپ سرگرم ہے جو سرکاری اراضی کو چیئرمین بلدیہ کی ملی بھگت سے قبضہ کر کے راتوں رات امیر ہونے کے چکر میں اونے پونے داموں فروخت کر کے سرکاری خزانے کو اربوں روپے کا چونا لگایا جا ریا ہے اس سرکاری اراضی کا پورا پورا حصہ چیئرمین بلدیہ کو دیا جاتا ہے اسی طرح حاصل پور شہر و گردونواح میں بلدیہ کی اکثر دوکانوں کا کرایہ جو کہ سرکاری خزانے میں جمع کروانے کی بجائے موصوف چیئرمین بلدیہ مبینہ طور پر اپنی جیب میں ڈالنے میں مصروف ہیں جس کی وجہ سے چیئرمین بلدیہ بے جا اثاثہ جات کے مالک ہوتے جا رہے ہیں۔آئے روز قبضہ گروپوں میں لڑائیاں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے کئی جانی نقصان بھی ہو چکے ہیں اور زخمی ہونا تو معمول کی بات ہے۔ قبضہ گروپوں کی لڑائی میں عورتوں پر تشدد بھی کیاجاتا ہے۔لیکن آج تک ان قبضہ گروپوں کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جس کا سیاسی پشت پناہی کی وجہ سے پولیس بھی کاروائی سے گریزاں ہے اور مبینہ طورپر اپنا حصہ لیکر سائیڈ پر ہو جاتی ہے۔ فوجی محمداصغر،شازیہ بی بی، سدرہ بی بی، مصباح بی بی اور دیگرجو قبضہ گروپوں کی لڑائی میں زخمی ہوئے اور شدید چوٹیں آئی ہیں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے لیکن پولیس کاروائی سے گریزاں ہیں۔ عوامی سماجی حلقوں اور شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان،وزیراعظم پاکستان،وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ،نیب کے اعلیٰ حکام، کمشنر بہاولپور، ڈی سی او بہاولپور اور اسسٹنٹ کمشنر حاصل پورسے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان قبضہ گروپوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے اورسرکاری اراضی کو واگزار کروایا جائے۔

قبضہ

مزید : ملتان صفحہ آخر