چین بھی نشانے پر،امریکا بھارت کو حساس فوجی ٹیکنالوجی دیگا،دونوں ممالک جنگی مشقیں کرینگے، پاکستان دہشتگردی کیلئے اپنی زمین استعمال نہ ہونے دے، مشترکہ اعلامیہ

چین بھی نشانے پر،امریکا بھارت کو حساس فوجی ٹیکنالوجی دیگا،دونوں ممالک جنگی ...
چین بھی نشانے پر،امریکا بھارت کو حساس فوجی ٹیکنالوجی دیگا،دونوں ممالک جنگی مشقیں کرینگے، پاکستان دہشتگردی کیلئے اپنی زمین استعمال نہ ہونے دے، مشترکہ اعلامیہ

  

نئی دہلی، واشنگٹن(ویب ڈیسک) چین بھی نشانے پر، امریکا بھارت کو حساس فوجی ٹیکنالوجی دیگا، دونوں ممالک جنگی مشقیں بھی کرینگے، بھارت اور امریکا نے مشترکہ اعلامیے میں کہا ہےکہ پاکستان دہشتگردی کیلئے اپنی زمین استعمال نہ ہونے دے، مواصلات اور سیکورٹی معاہدے سےبھارت کو جدید امریکی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوجائیگی،بھارتی وزیر دفاع نے کہا کہ واشنگٹن نے نیوکلیئر سپلائر گروپ میں بھارتی شمولیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے، دونوں ممالک نے دائود ابراہیم کی پاکستان میں تلاش کیلئے بھی معاہدہ کیا۔بھارت اور امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہےکہ وہ پٹھان کوٹ، اڑی اور سرحد پار دہشتگرد حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لائے جبکہ دونوں ممالک نے متحد، خودمختار، جمہوری، مستحکم اور خوشحال افغانستان کےعزم کا اظہاربھی کیا۔ تفصیلات کےمطابق بھارت اور امریکا کے درمیان مواصلات اور سیکیورٹی کے معاہدوں سمیت افغان امن عمل اور دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔

روزنامہ جنگ کے مطابق نئی دلی میں امریکی اور بھارتی وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی اور سیکیورٹی تعاون کو بڑھانا ہے،ملاقات میں بھارت اور امریکا نے امن، خوشحالی اور سیکیورٹی کی عالمی کوششوں کی سربراہی جاری رکھنے کا عہد کیا۔ اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان علاقائی و عالمی مسائل کے حل کے لیے ہر پلیٹ فارم بشمول اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف استعمال کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے،دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع کے درمیان محفوظ کمیونی کیشن قائم کرنے کا بھی فیصلہ ہوا ، امریکا نے بطور اہم دفاعی شراکت دار بھارت کی اسٹرٹیجک اہمیت کا اعتراف کیا اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی سازو سامان کی تجارت اور پیداواری رابطوں میں توسیع کا فیصلہ بھی ہوا۔دونوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعتی سیکیورٹی پر مذاکرات شروع کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کی گئی اور نئی جنگی مشقوں کے ساتھ فوجیوں کے تبادلوں کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق بھارت اور امریکا کے درمیان سمندری سیکیورٹی اور بحری علاقائی سالمیت میں توسیع کا اعادہ کیا گیا، مغربی بحرہ ہند میں دونوں ملکوں کے درمیان بحری جنگی تعاون بڑھانے کا فیصلہ بھی ہوا۔بھارت اور امریکا نے اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف جیسے بین الاقوامی فورمز پر دو طرفہ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں نے انسداد دہشت گردی تعاون میں توسیع اور معلومات کے تبادلے میں اضافے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ بھارت اور امریکا کے درمیان سول ایٹمی توانائی پارٹنرشپ کے مکمل اطلاق پر رضامندی بھی ظاہر کی گئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اگلی ٹو پلس ٹو ملاقات 2019 میں امریکا میں ہونے پر بھی اتفاق کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ متحد، خودمختار، جمہوری، مستحکم اور خوشحال و پُرامن افغا نستا ن کے لیے پُرعزم ہیں۔اس کے علاوہ امریکی و بھارتی وزراء نے افغان امن و مفاہمتی عمل میں تعاون کا اظہار کیا ہے۔بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا ہے کہ بھارت کے این ایس جی گروپ میں شمولیت پر مل کر کام کرنے پر اتفاق ہوا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مل کر کام کر رہے ہیں اور افغانستان کے لیے امریکی صدر کی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔بھارت کی وزیر دفاع نرملا ستھا رامن کا کہنا تھا کہ ملاقات میں امن، ترقی کے لیے تعاون کا اعادہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ امریکا اور بھارت سیکیورٹی چیلنجز، دہشتگری کے خلاف جنگ میں تعاون کریں گے۔بھارتی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کمیونیکیشن اور سیکیورٹی معاہدے پر دستخط سے نئی دلی کو امریکا کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی ملے گی۔

 مشترکہ اعلامیے میں کہاگیاہےکہ ممبئی حملوں کی 10ویں برسی کے موقع پر انہوں نے پاکستان سےمطالبہ کیا ہےکہ ممبئی، پٹھان کوٹ، اڑی اور سرحد پار دہشتگرد حملوں کے ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اسلام آباد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ و دفاع نےخطے میں دہشتگردی پر مبنی پراکسیز کے کسی بھی طرح کے استعمال کی مذمت کی ہے اور اس تناظر میں انہوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اپنے زیر کنٹرول زمین کسی دوسرے ملک پر دہشتگرد حملے کرنے کیلئےاستعمال نہ ہونے دے۔دونوں ممالک نے عالمی دہشتگردی پریو این کمپری ہنسیو کنونشن کیلئے اپنی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔دونوں ممالک نے 2017میںدہشتگرد قرار دینے سے متعلق دوطرفہ بات چیت کے آغاز کا بھی خیر مقدم کیا جو دہشتگرد گروپس بشمول القاعدہ،داعش،لشکر طیبہ، جیش محمد، حزب المجاہدین، حقانی نیٹ ورک،تحریک طالبان پاکستان، ڈی کمپنی اور ان سے منسلک گروہ کیخلاف ایکشن اور تعاون کو مضبوط کررہی ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کا کہناہےکہ دنیا کی دو بڑی جمہوریت حالیہ برسوں میںقریب آئی ہیںجو ایشیا بھر میں بالخصوص پاکستان ، جنوبی مشرقی ایشیا اور بحر ہند میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کو کائونٹر بیلنس کرنے کیلئے طریقے تلاش کر رہی ہیں۔جمعرات کو دستخط کئے گئے (کمیونیشنز کامپیٹبلٹی اینڈ سیکورٹی ایگریمنٹ (سی او ایم سی اے ایس اے) برسوں سے تعطل کا شکار تھا کیوں کہ بھارت کو یہ تحفظات تھے کہ اس معاہد ےسے بھارت کے کمیونی کیشنز نیٹورک امریکی فوج کے ساتھ ظاہر ہوجائینگے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہناہےکہ اس معاہدے کے تحت امریکا کو ہائی ٹیکنالوجی ایکوپمنٹ بشمول نگرانی کے مسلح ڈرونز بھارت کو دینے کی اجازت مل جائیگی۔ نئی دہلی ان ڈرونز کے حصول کا خواہشمند رہا ہے تاکہ بحرہند کی نگرانی کی جاسکے جہاں چین (پاکستان کا قریبی اتحادی) حالیہ برسوں میں کئی بار مبینہ طور پر دھاوا بول چکا ہے۔ ادھر بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کو مطلوب دائود ابراہیم کوپاکستان میں تلاش کرنے کیلئے امریکا اور بھارت کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوگئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی