سینٹ کمیٹی مواصلات ہزارہ موٹر وے کی 6 ماہ بعد ٹوٹ پھوٹ، سب کمیٹی بنا کر تحقیقات شروع

سینٹ کمیٹی مواصلات ہزارہ موٹر وے کی 6 ماہ بعد ٹوٹ پھوٹ، سب کمیٹی بنا کر ...
سینٹ کمیٹی مواصلات ہزارہ موٹر وے کی 6 ماہ بعد ٹوٹ پھوٹ، سب کمیٹی بنا کر تحقیقات شروع

  

اسلام آباد(آئی این پی )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات میں ہزارہ موٹروے کا افتتاح کے 6ماہ بعد ہی ٹوٹ جانے پر اظہار برہمی، سب کمیٹی بنا کر تحقیقات شروع کردیں.

نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مغربی روٹ ڈیرہ غٖازی خان سے شروع ہوتا ہے جس کا ابھی تک ٹینڈر بھی پاس نہیں کیا جا سکا، سی پیک کے مشرقی روٹ کی لمبائی 2ہزار463کلومیٹر ،وسطی روٹ کی لمبائی2ہزار417کلومیٹر اور مغربی روٹ کی لمبائی 2ہزار463کلو میٹر ہے ،این ایچ اے کا خسارہ221ارب سے بڑھ گیا ہے جس کے باعث منصوبے تاخیر کا شکار ہیں،ٹول ٹیکس میں اضافےکے بعد اسلام آباد سے لاہور تک چھوٹی کار کا ٹول ٹیکس680روپے ہوگیا ہے، این ایچ اے میں 17سے22گریڈ کے238 افسران کام کر رہے ہیں، کمیٹی ارکان نے کہا کہ مغربی روٹ دسمبر2018میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک ٹینڈر بھی پاس نہیں ہو سکا،سی پیک نقشوں میں مغربی روٹ کاغلط نقشہ دکھایا جاتا ہے، سی پیک کے مغربی روٹ کو مکمل کرنے میں اداروں کی بدنیتی شامل ہے،ایشیائی ترقیاتی بنک کی بنائی ہوئی شاہراہ کوسی پیک کا نام دیکر دھوکا دیا جا رہا ہے،کمیٹی ارکان کا ہزارہ موٹروے کا افتتاح کے 6موہ بعد ہی ٹوٹ جانے پر اظہار برہمی، سب کمیٹی بنا کر تحقیقات شروع کردیں۔

جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کا اجلاس سینیٹر ہدایر اللہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر جہانزیب جمالدینی، سینیٹر صابر شاہ، سینیٹر آغا غان درانی، سیکرٹری مواصلات شعیب صدیقی، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی اور وزارت مواصلات کے حکام نے شرکت کی۔ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے حکام نے اقتصادی راہداری(سی پیک) کے مغربی روٹ پر کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سی پیک کو 3 روٹ میں تقسیم کیا گیا ہے، مغربی روٹ، وسطی روٹ اور مشرقی روٹ۔ مغربی روٹ کوئٹہ سے گوادر تک ہے اوراس کی لمبائی 2ہزار463کلومیٹر ہے، وسطی روٹ ڈی جی خان سے گوادر تک ہے اور اس کی لمبائی2ہزار417کلومیٹر ہے جبکہ مشرقی روٹس مختلف موٹرویز کے ساتھ منسللک ہو کر2گوادر تک پہنچتا ہے اور اس کی لمبائی2ہزار686کلومیٹر ہے۔ سی پیک کا مغربی روٹ دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ایک حصے پر کام ہورہا ہے جبکہ دوسرے حصے پر کام کی رفتار سست ہے۔پہلا حصہ ڈیرہ غازی خان سے لیکر اسلام آباد تک جبکہ دوسرا حصہ ژوب سے ڈیرہ غازی خان تک ہے۔مغربی روٹ خنجراب سے شروع ہو رہا ہے۔ خنجراب سے گوادر تک منصوبے کو آٹھ مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے۔ برہان سے ڈیرہ غازی خان تک فیز 1کا 60فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ اس فیز کی کل لمبائی285کلومیٹر ہے اور اس پر110ارب روپے لاگت آئی ہے۔ یہ فیز فروری2019تک مکمل ہوجائے گا۔ اس فیز کو 3روہی بنایا جا رہا ہے۔ڈی آئی خان سے آگے مغربی روٹ پر کوئی کام نہیں ہوا۔ فیز 2ڈی آئی خان سے ژوب تک کیلئے چین نے کمپنیز کے نام ہی نہیں دیے اس لیے کام رکا ہوا ہے۔سی پیک کے مغربی روٹ کیلئے چین نے سرمایہ کاری روکی ہوئی ہے جس وجہ سے مغربی روٹ معطل کا شکار ہے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ این ایچ اے اس وقت شدید مالی بحرین کا شکار ہے۔ ادارے کا خسارہ221ارب سے بڑھ گیا ہے جس کے باعث منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔کمیٹی ارکان نے اس موقع پر کہا کہ چینی کمپنیوں کے منصوبوں کا معیار بہت خراب ہوتا ہے ۔ ہزارہ موٹروے سی پیک کا اہم منصوبہ تھا لیکن منصوبے کی تکمیل کے کچھ عرصے بعد ہی روڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔کمیٹی ارکان نے ہزارہ منصوبے میں ناقص کام کیے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے سینیٹر صابر شاہ کی سربراہی میں 3رکنی سب کمیٹی قائم کر دی جو 3ماہ کے اندر کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔کمیٹی ارکان نے کہا کہ سی پیک کے مغربی روٹ کو مکمل کرنے میں اداروں کی بدنیتی شامل ہے۔

آل پارٹیز کانفرنس میں اعلان کیا گیا تھا کہ مغربی روٹ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔ اس روٹ کو دسمبر2018میں مکمل ہونا تھا لیکن ابھی تک ڈی آئی خان سے آگے روڈ کا ٹینڈر بھی پاس نہیں ہو سکا۔سی پیک کے اندر جو مغربی روٹ کا نقشہ جو دکھایا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ مغربی روٹ تو شروع ہی ڈی آئی خان سے ہوتا ہے جس پر ایک روپے کا بھی کام نہیں کیا گیا۔ڈی آئی خان سے پہلے جتنا منصوبہ مکمل کیا گیا وہ مشترکہ سی پیک روڈ کا حصہ تھا۔ ایشیائی ترقیاتی بنک کی بنائی ہوئی شاہراہ کو سی پیک کا نام دیکر دھوکا دیا جا رہا ہے۔اس موقع پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ سی پیک کے مغربی روٹ کیلئے چین نے ابھی تک فنڈز جاری نہیں کیے جس کے باعث منصوبی تعطل کا شکار ہے۔سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کی ریاستوں کے مابین طے پایا ہے اس میں کوئی پاکستانی کمپنی ٹینڈر نہیں دے سکتی۔ ان منصوبوں پر پپرا قوانین بھی لاگو نہیں ہوتے۔این ایچ اے میں 17سے22گریڈ کے افسران کے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ این ایچ اے میں 17سے22گریڈ کے238افسران کام کر رہے ہیں جن میں زیادہ تر مستقل ہیں۔ٹول ٹیکس میں 10فیصد اضافہ کیے جانے کے معاملے پر کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہر سال ٹول ٹیکس میں اضافہ کیا جاتا ہے جو شاہراہوں کی بحالی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ٹول ٹیکس میں اضافے سے اسلام آباد سے لاہور تک چھوٹی کار کا ٹول ٹیکس680روپے ہوگیا ہے۔

مزید : علاقائی /اسلام آباد