پری پیڈ بلنگ والے جدید میٹرلگانے کا کامیاب تجربہ ابتدائی طورپر بجلی کے یہ میٹر کن علاقوں میں لگائے گئے؟ ایسی خبرآگئی کہ ہرپاکستانی حیران پریشان رہ جائے گا کیونکہ دراصل ۔ ۔ ۔

پری پیڈ بلنگ والے جدید میٹرلگانے کا کامیاب تجربہ ابتدائی طورپر بجلی کے یہ ...
پری پیڈ بلنگ والے جدید میٹرلگانے کا کامیاب تجربہ ابتدائی طورپر بجلی کے یہ میٹر کن علاقوں میں لگائے گئے؟ ایسی خبرآگئی کہ ہرپاکستانی حیران پریشان رہ جائے گا کیونکہ دراصل ۔ ۔ ۔

  

لاہور(ویب ڈیسک) لیسکو نے پری پیڈ بلنگ والے جدید میٹرلگانے کا کامیاب تجربہ کرلیا۔میٹرزلگنے سے لیسکو کے لائن لاسسز، بجلی چوری اورلوڈ کو کنٹرول کرنے سمیت 100 فیصد ریکوری بھی شروع کردی ہے۔ لیسکو چیف ایگزیکٹو مجاہد پرویزچھٹہ نے بتایا کہ جدید میٹرینگ سسٹم سے بجلی چوری میں 50 سے 70 فیصد کمی آئی ہے۔دوسری طرف ماہرین کا خیال ہے کہ بجلی کی چوری دراصل میٹر سے نہیں بلکہ میٹرتک بات پہنچنے سے پہلے ہی تاروں پر ڈائریکٹ کنڈے پھینک کرکی جاتی ہے ، ایسے میں پری میڈ میٹر لگانے کا ڈرامہ صرف صارفین سے اخراجات کی مد میں اضافی رقم بٹورنے کے ہتھکنڈے کے علاوہ کچھ نہیں، پری پیڈ میٹر لگ جانے کی صورت میں بھی تاروں پر کنڈے ڈالنے کی سہولت دستیاب ہے اور اس سے بجلی چوری میں ملوث عناصر جوں کا توں ہی فائدہ اٹھائیں گے۔ 

ایکسپریس نیوزکے مطابق لاہورالیکٹرک سپلاہی کمپنی لیسکونے بجلی چوری روکنے، لائن لاسسزمیں کمی اورلوڈ مینجمنٹ کوکنٹرول کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ آٹومیٹک ریڈنگ والے میٹرزکے زریعے پہلے پراجیکٹ ہر کامیاب تجربہ کر لیا۔لیسکو نے جدید میٹر مدینہ کالونی تاج باغ اورشاد باغ کے علاقوں میں لگائے ہیں۔ 

دوسری جانب حکومت نے پری پیڈ میٹرنگ کی اجازت بھی دے دی ہے جس کا ٹینڈرجلد کردیا جائے گا۔ لیسکو نے اپنے وسائل سے 12 لاکھ آٹومیٹک ریڈنگ والے میٹرلگانے شروع کردیے ہیں جس پر3 ارب روپے سے زائد رقم خرج ہوگی۔ صارفین کسی بھی وقت اپنا لوڈ ریڈنگ اوربلنگ دیکھ سکیں گے، پری پیڈ میٹر لگنے سے ریکوری بھی 100 فیصد ہوجائے گی۔

ادھر سوشل میڈیا پر اب یہ بھی آواز اٹھنا شروع ہوگئی ہے کہ واپڈا ملازمین کے لیے مفت بجلی فراہم کرنے کی سہولت ختم کی جائے ،و ہ بھی محکمے سے تنخواہ وصول کرکے اپنی نوکری کررہے ہیں، ایسے میں ان کیلئے مفت بجلی دیگر صارفین کے ساتھ زیادتی ہے جو ان کی استعمال کردہ بجلی کا بھی بل ادا کرنے پر مجبور ہیں، چیف جسٹس سے بھی سوشل میڈیا صارفین مطالبہ کررہے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات اور موبائل کارڈ پر ٹیکسز کیساتھ ہی واپڈا کے بلز اور ملازمین کی استعمال شدہ بجلی کا بھی نوٹس لیا جائے ۔ 

مزید : قومی /بزنس /علاقائی /پنجاب /لاہور