علامہ اقبال کی وہ دو نظمیں جن پر کفریہ شاعری کا الزام لگایا گیا ، اس پر علما کیا کہتے ہیں ،آپ بھی جانئے

علامہ اقبال کی وہ دو نظمیں جن پر کفریہ شاعری کا الزام لگایا گیا ، اس پر علما ...
علامہ اقبال کی وہ دو نظمیں جن پر کفریہ شاعری کا الزام لگایا گیا ، اس پر علما کیا کہتے ہیں ،آپ بھی جانئے

  

لاہور(ایس چودھری)ایک زمانے سے علامہ اقبال کی مقبول ترین نظموں شکوہ اور جواب شکوہ پر کفریہ اعتراض لگایا جاتا رہا ہے اور ابھی بھی بہت سے لوگ ان نظموں کو گستاخی پر محمول کرتے ہیں کہ علامہ اقبال نے ان نظموں میں ادب و تکریم کو ملحوظ نہیں رکھا اور یہ کفریہ شاعری ہے ۔اس موضوع پر مباحثے بھی ہوتے چلے آرہے ہیں ۔ممتاز عالم دین مفتی محمد شبیر قادری نے اس پر فتویٰ دیتے ہوئے کہا ہے کہ علامہ اقبالؒ کی نظمیں شکوہ اور جواب شکوہ نہ تو کفریہ شاعری پر مبنی ہیں اور نہ ہی ان کے پڑھنے میں کوئی شرعی قباحت ہے۔علمائے کرام کا یہی کہنا ہے کہ علامہ نے شکوہ میں مسلمانوں کی زبوں حالی کا نوحہ پیش کیا ہے، جبکہ جواب شکوہ میں اس تنزلی کے اسباب بیان کیے ہیں۔ شکوہ اور جواب شکوہ میں علامہ اقبال نے امت مسلمہ کی فکری و اعتقادی گمراہیوں، اخلاقی کجرویوں اور عملی کمزوریوں کو بڑے موثر انداز میں بے نقاب کیا ہے۔ ان نظموں کی اثرانگیزی بے مثال ہے، یہی وجہ ہے کہ ان نظموں کو پڑھنے اور سننے والا تڑپ اٹھتا ہے۔ غلو، انتہاپسندی اور تکفیر سے اجتناب کرتے ہوئے ہمیں اس پیغام کو سمجھنا چاہیے جو علامہ اقبال نے ان نظموں میں دیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /روشن کرنیں