عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر65

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر65
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر65

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اِدھر بستی میں قاسم اور روزی بستی سے چند قدم دور انجیر کے درختوں کے درمیان بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ روزی آج بہت خوش تھی۔ آج اسے اپنے خوابوں کا حقیقی شہزادہ مل گیا تھا ۔ ایک بہادر جنگجو اور خوبرو نوجوان اس سے محبت کرنے لگا تھا ۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ قاسم روزی سے کیسے محبت کرسکتا تھا ۔ وہ تو پہلے ہی یہاں اپنی گم شدہ محبت کے قاتل ابوجعفر سے ’’مارسی‘‘ کی بابت پوچھنے آیا تھا ۔ لیکن اسے اس محبت سے زیادہ اپنا مقصد عزیز تھا ۔ اور اس کا مقصد تھا قسطنطنیہ کے دفاعی انتظامات کی جاسوسی کرنا ۔ اس نے تو روزی کو دوست کہہ کر مچھیروں کی بستی میں کچھ دن بسر کرنے چاہے تھے..........اس نے روزی کے ساتھ کوئی جھوٹا وعدہ بھی نہیں کیا تھا ۔ لیکن اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ روزی اس کی طرف سے غلط فہمی میں مبتلا ہوچکی تھی۔ وہ یہاں روزی کے قریب بیٹھا یہی سوچ رہا تھا کہ روزی کی چھوٹی بہن جو گیارہ بارہ سال کی بچی تھی، پوری قوت سے ڈوڑتی ہوئی ان کے پاس آئی۔ اور اپنی پھولی ہوئی سانس درست کیے بغیر کہنے لگی:۔

’’مقدس باپ!...........وہی کل والا یونانی سالار اپنے ساتھ بہت زیادہ گھڑ سوار لیے ننگی تلوار لہراتا ہوا ہماری بستی کی جانب آرہا ہے۔ ہم اس چٹا ن پر کھیل رہے تھے۔اور میں نے اوپر سے انہیں دیکھا ہے۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر64پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قاسم ایک دم کھڑا ہوگیا ۔ اور دوڑ کر ایک اونچی جگہ پر چڑھ گیا ۔ اس نے اپنے ماتھے پر ہتھیلی کا سایہ کرتے ہوئے مغرب کی جانب دیکھا ۔ سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر تھی۔ روزی کی بہن سچ کہہ رہی تھی۔ مقرون کے گھڑ سوار تو اب بستی میں پہنچنے والے تھے...........یہ تو شکرہوا کہ قاسم روزی کے ساتھ بستی سے باہر آکر بیٹھا ہوا تھا ۔ روزی نے دور سے بستی میں داخل ہوتے ہوئے برہنہ شمشیر یونانیوں کو دیکھا۔ تو اس کا چہرہ زرد ہوگیا ۔ اس نے قاسم کو فوراً بھاگ جانے کا مشورہ دیا ۔ قاسم کے لیے بھی یہی کچھ کرنا مناسب تھا ۔ لیکن وہ پیدل کیسے بھاگ سکتا تھا ۔ چنانچہ روزی نے قاسم کو بستی سے کچھ اور دور ایک چٹانی سلسلے میں چھپنے کی ہدایت کی اور خود گھوڑا لانے کے لیے بستی کی طرف چل دی۔

مقرون پاگل کتے کی طرح بستی میں داخل ہوا۔ اور اندھا دھند بستی کے اکلوتے چرچ جو ایک کوٹھڑی پر مشتمل تھا ، میں گھس گیا ۔ چرچ کے ساتھ ہی قاسم کی کوٹھڑی تھی۔ راہب اسے چرچ میں نہ ملا تو وہ ساتھ کی کوٹھڑی میں دندناتا ہوا داخل ہوگیا ۔ لیکن قاسم تو یہا ں بھی نہیں تھا ۔ وہ آگ بگولہ ہوکر باہر لپکا۔اتنے میں بستی کا سردار اور سب چھوٹے بڑے چرچ کے سامنے جمع ہوچکے تھے۔ پچاس سواروں کا مسلح دستہ بھی اسی جگہ کھڑا تھا ۔ مقرون غصے سے پاگل ہوتا ہوا باہر نکلا اور بستی کے سردار کو آواز دی۔ روزی کا باپ جو کسی قدر غصے میں تھا مقرون کے سامنے آگیا ۔ مقرون نے اسے دیکھتے ہی تلوار لہرائی اور اس کے سینے پر رکھ دی۔

’’کہاں ہے تمہارا مقدس باپ؟ مجھے ابھی اور اسی وقت اس کا سر چاہیے۔‘‘

روزی کا باپ جو پہلے ہی غصے میں تھا ۔ مقرون کے لہجے سے آگ بگولہ ہوگیا ۔ اس نے اپنے سینے پر رکھی تلوار کی کوئی پرواہ نہ کی، اور غصے سے کہا:۔

’’سپہ سالار! تم حد سے بڑھ چکے ہو۔ میں کل ہی قیصر کے دربار میں پیش ہو کر تمہاری شکایت کروں گا..........تم نے پہلے بھی ہمارے مہمان کی توہین کی ہے۔ ہم سب بستی والے متفق ہوکر تمہیں کہتے ہیں کہ معمولی سی مذہبی تفرقہ بازی کی بناء پر تم ہمارے معزز راہب کو تنگ کرنا چھوڑ دو.........ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا۔‘‘

لیکن روزی کے باپ کو یہ معلوم نہ تھا کہ راہب کا معاملہ اتنا معمولی نہیں جتناوہ سمجھ رہا ہے۔ کیونکہ اس نے بات ختم ہی کی تھی کہ مکروہ صورت مقرون نے اپنی تلوار ہوا میں لہرائی اور اگلے لمحے بوڑھے سردار کا سرکاٹ کر پھینک دیا ۔ سردار کا سر کاٹنے کے بعد مقرون نے بآوازِ بلند کہا:۔

’’بستی والو! تم میں سے کوئی بھی اس سردار یا اس راہب کا ساتھی ہے تو سامنے آجائے۔ میں آج تمہارے راہب کا سر کاٹنے آیا ہوں۔‘‘

لیکن بستی میں سے کوئی شخص بھی آگے نہ بڑھا۔ بوڑھے سردار کے قتل نے سب کو دہشت زدہ کردیا تھا ۔ مقرون نے ایک بار پھر بآوازِ بلند اپنی بات دُھرائی ۔ اس کی بلند آواز ہوا کے دوش پر تیرتی ہوئی بستی کے دوسرے کناے روزی کے کانوں تک جاپہنچی۔ روزی تو راہب کے لیے گھوڑا حاصل کرنے آئی تھی۔لیکن اپنے باپ کی موت کا سن کر اسے ایک دم سب کچھ بھول گیا ۔ وہ دیوانہ وار ہجوم کی طرف دوڑی ۔ اور چرچ کے سامنے گری اپنے باپ کی لاش کے قریب جانا چاہا۔وہ پاگلوں کی طرح چیختی ہوئی دوڑ رہی تھی۔ اس کا باپ اسے ہر چیز سے زیادہ پیارا تھا ۔ اس کی ماں بچپن میں ہی اس کا ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ اور اسی بات نے اس کو اور اس کی بہن کو ایک ماں کی طرح پالا تھا ۔ اسے خود معلوم نہ تھا کہ راہب کی گرفتاری کا معاملہ مقرون کی نظر میں کس قدر سنگین ہے۔ وہ دوڑتی ہوئی اپنے باپ کی لاش پر آگری ۔ اور زور زور سے چلانے لگی۔ مقرون نے اسے دیکھ لیا تھا ۔ وہ اپنی خون آلود تلوار لیے اس کے قریب آیا۔اور انتہائی درشت لہجے میں اس سے مخاطب ہوا:۔

’’لڑکی ! .........کہاں ہے وہ تمہارا مقدس باپ ۔ جس کے ساتھ تم رنگ رلیاں مناتی ہو؟ جلدی بتاؤ! ورنہ تمہیں بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔‘‘

لیکن روزی کا جواب مقرون کے لیے غیر متوقع تھا ۔ روزی نے کہا:۔

’’ہاں ہاں !!...........تم مجھے بھی ماردو ۔ اب میرے جینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ میرا باپ مرچکا ہے۔ میں اب اس دنیا میں نہیں رہنا چاہتی۔ ‘‘

وہ بری طرح رو رہی تھی۔ اور پوری طرح سے اپنے حواس میں بھی نہ تھی۔ کہ مقرون کی کسی بات کا ہوشمندی سے جواب دیتی ۔ چنانچہ مقرون نے اس کی حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ روزی کو اٹھالیں۔اور مرکزی چوکی میں لے چلیں۔ اور بستی والوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ ان کے سردار کی بیٹی کو گرفتار کر کے لے جارہا ہے۔ مقرون کے سپاہی تیزی سے آگے بڑھے ۔ اور نازک اندام روزی کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا ۔ باقی سپاہیوں کو مقرون نے حکم دیا کہ وہ بستی کے چاروں طرف دور دور تک جنگل اور چٹانوں میں نوجوان راہب کو تلاش کریں۔

مقرون کے سپاہی روزی کو اٹھا کر چلے گئے۔ اور باقو بستی میں کھڑا روزی کو جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا ۔ قاسم ابھی تک نزدیکی چٹانوں ہی میں روپوش تھا ۔وہ سورج غروب ہونے سے پہلے گھوڑا حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ وہ روزی کے لوٹنے کا بے چینی سے انتظار کرہا تھا ۔ سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے تک جب روزی نہ لوٹی تو وہ بے چین ہوگیا۔ اس کے ذہن میں خطرے کی گھنٹیاں بچنے لگیں۔ ضرور کوئی بڑی بات ہوگئی تھی۔..............ابھی وہ یہی سوچ رہا تھا ۔ کہ اسے تھوڑے فاصلے پر کسی گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ وہ سمجھا کہ روزی گھوڑا لے کر آپہنچی ہے۔ اور وہ چٹان کی اوٹ سے باہر نکل آیا۔ لیکن اس کے سامنے ایک یونانی سپاہی برہنہ شمشیر لیے گھوڑے پر سوار کھڑا تھا ۔ قاسم نے اپنے راہبانہ لباس کے اندر چھپی تلوار نکالنے میں دیر نہ کی۔ یونانی بھی قاسم کو ایک راہب کے طور پر پہچان چکا تھا ۔ قاسم پیدل تھا اور یونانی گھوڑے پر سوار دونوں ایک دوسرے کی طرف بڑھے اور پھر غروب ہوتے ہوئے سورج نے آخری منظر یہ دیکھا کہ قاسم یونانی سپاہی کو قتل کرکے اور اس کے گھوڑے پر سوار ہوکر ’’رومیلی حصار‘‘ کی جانب بڑھ چکا تھا ۔

’’مصلح الدین آغا‘‘ نے علیحدہ خیمے میں قاسم کی تمام روداد سنی ۔ اور قاسم کی درخواست پر بستی کے حالات معلوم کرنے کے لیے دوتجربہ کار ساتھیوں کو بھیجنے پر آمادہ ہوا۔ وہ سپاہیوں کو واپس بھیج کر لوٹا تو اس کے ہاتھ میں کھانے کی طشتری بھی تھی۔ اس نے خیمے میں داخل ہوتے ہی قاسم سے کہا:۔

’’قاسم بن ہشام! آپ کی پہلی اطلاع میں نے کل ہی سلطان کی جانب روانہ کردی تھی...........لیجیے! آپ کا کھانا بھی آگیا۔‘‘

مصلح الدین آغا نے دستر خوان بچھاکر کھانا چننا شروع کردیا ۔’’آبنائے باسفورس‘‘ کی مچھلی تو قاسم گزشتہ کئی دنوں سے کھارہا تھا ۔ لیکن اس طرح زیتوں کے تیل میں تلے ہوئے قتلے دیکھے تو اسے اپنے وطن کی یاد آگئی۔ وہ اگرچہ روزی کی طرف سے پریشان تھا ۔ لیکن اس نے کھانے کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔ کھانے کے دوران اس نے ’’مصلح الدین آغا‘‘ سے پوچھا:۔

’’آپ کا قلعہ کہا ں تک پہنچا؟ سلطان کو اس قلعے کی تعمیر کا بے چینی سے انتظار ہے۔‘‘

’’مصلح الدین آغا‘‘ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

ضرور پڑھیں: خدا کا جواب

’’ہم نے۲۴ اپریل کو اس قلعہ کا آغاز کیا تھا ۔ اور آج۱۸ مئی کے روز ہم اس کا ایک چوتھائی کام مکمل کرچکے ہیں اگر یہی رفتار رہی تو ہم اگست تک اسے مکمل کر لیں گے.............قلعے کا رقبہ تین ہزار مربع میٹر رکھا گیا ہے۔ اور اس میں سترہ عدد بڑے بڑے برج بنائے جائیں گے۔ جن پر تمہارے دوست ’’اربان‘‘ کی بنائی ہوئی توپیں نصب کی جائیں گی۔ میں نے اس قلعے کا نقشہ اس طرح سے بنایا ہے کہ اگر فضا سے قلعہ کو دیکھاجائے تو ’’محمد ؐ‘‘ ...........کا لفظ لکھا ہوا نظر آئے گا۔ اس میں تین برج بہت زیادہ بلند بنائے جائیں گے۔ جن کی اونچائی ۹۰ فٹ تک ہوگی۔ میں اس کی دیوار کے نچلے حصے کو ۹ میٹر چوڑا بناکر اس کو بے حد مضبوط کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

’’لیکن اس قدر موٹی دیوار کی بلندی تو یقیناًکم رکھنی پڑے گی۔‘‘

’’ہاں ! دیوار کا چوڑا حصہ پانچ میٹر اور تنگ حصہ پندرہ میٹر تک بلند ہوگا۔‘‘

قاسم بڑی دلچسپی سے رومیلی حصار کی تعمیر کا تذکرہ سن رہا تھا ۔ وہ دیر تک اسی قلعے سے متعلق باتیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ خبر لانے والے پہنچ گئے۔ مچھیروں کی بستی سے ہوکر آنے والے ’’مصلح الدین آغا‘‘ کے سپاہیوں نے بتایا کہ یونانی سالار مقرون نے بستی کے سردار کو قتل کرکے اس کی نوجوا ن بیٹی کو اغواء کر لیا ہے.............یہ خبر قاسم کے لیے ایک دھچکے کی طرح تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ بوڑھے سردار پر یہ مصیبت اسی کی وجہ سے لائی گئی تھی۔ اور پھر سپاہیوں نے یہ بھی تو بتایا کہ یونانی فوج کو رومن کیتھولک فرقے کے ایک راہب کی تلاش ہے۔ جو ان کے چھ سپاہیوں کو قتل کر کے فرار ہوگیا ہے۔ سپاہی اطلاع دے کر چلے گئے۔ تو مصلح الدین آغا نے قاسم سے کہا:۔

’’اب کیا کرنا ہے؟..........مقدس باپ!‘‘

مصلح الدین آغا کا مذاق قاسم کو نہ ہنسا سکا، البتہ قاسم نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا:۔

’’ہمیں سردار کی بے گناہ بیٹی کو چھڑوانا ہوگا۔ کیونکہ یہ مصیبت ان کے سر میری وجہ سے آئی ہے۔‘‘

اس کے بعد وہ لوگ رات گئے تک روزی کو رہا کروانے کا منصوبہ کرتے رہے۔ اور پھر انہوں نے ایک عجیب حکمتِ عملی وضع کرلی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح