لاہور میں چار حلقوں پر ضمنی الیکشن کا معرکہ ،کون کس کے مقابلے میں انتخابی اکھاڑے میں اترے گا ؟ اہم خبر آ گئی

لاہور میں چار حلقوں پر ضمنی الیکشن کا معرکہ ،کون کس کے مقابلے میں انتخابی ...
لاہور میں چار حلقوں پر ضمنی الیکشن کا معرکہ ،کون کس کے مقابلے میں انتخابی اکھاڑے میں اترے گا ؟ اہم خبر آ گئی

  

لاہور(خالد شہزاد فاروقی سے)لاہور میں ضمنی انتخاب کا معرکہ،سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے اپنے طور پر انتخابی مہم شروع کر دی ، این اے 124 میں ن لیگ کی جانب سے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی امیدوار کے طور پر میدان میں آگئے ہیں جبکہ این اے 131 میں ن لیگ کی طرف سے خواجہ سعد رفیق ہی الیکشن لڑیں گے ،تحریک انصاف تاحال اپنے’’  کھلاڑیوں ‘‘ کے ناموں کا اعلان کرنے میں ناکام ۔

تفصیلات  کے مطابق لاہور کے دو قومی اور دو صوبائی حلقوں میں ضمنی الیکشن 14 اکتوبر کو ہو گا ، 15 ستمبر تک امیدوار اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکیں گے، 16 ستمبر کو امیدواروں کو نشانات الاٹ کیے جائیں گے اور 14 اکتوبر کو لوگ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ان چاروں حلقوں میں تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے اپنے طور پر انتخابی مہم شروع کر دی ہے ۔این اے 124 سے ن لیگ  کےحمزہ شہباز اور این اے 131  سے وزیر اعظم عمران خان نے نشست خالی کی ہے  ،مسلم لیگ ن کی طرف سے این اے 124 میں سابق وزیر اعظم  شاہد خاقان عباسی بطور امیدوار میدان میں آگئے  ہیں اور  آج سے وہ اپنی انتخابی مہم شروع کریں گے دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف اس حلقے سے تاحال کسی بھی امیدوار کا فیصلہ نہیں کر سکی ،پی ٹی آئی کی جانب سے غلام محی الدین دیوان، محمد مدنی اور  ڈاکٹر شاہد صدیق میدان میں ہیں اور اپنے اپنے طور پر انتخابی مہم چلائے ہوئے ہیں تاہم کہا جا رہا ہے کہ این اے 124 سے غلام محی الدین دیوان پارٹی ٹکٹ کے مضبوط امیدوار ہیں ۔دوسری طرف این اے 131 میں ن لیگ سے خواجہ سعد رفیق نے ہی انتخابی اکھاڑے میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے اور مسلم لیگ ن بھی چاہتی ہے کہ یہاں سے خواجہ سعد رفیق ہی ضمنی الیکشن لڑیں ،اس حلقے میں بھی پاکستان تحریک انصاف ابھی تک اپنا میدوار سامنے نہیں لاسکی  جبکہ این اے 131 سے علامہ اقبالؒ کے پوتےولید اقبال،ہمایوں اختر خان،حافظ فرحت عباس اور ابرار الحق میدان میں ہیں  اور اپنے اپنے طور پر انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عام انتخابات سے قبل عمران خان نے ولید اقبال کو ٹکٹ سے محروم رہ جانے پر ضمنی الیکشن این اے 131 سے لڑانے کا وعدہ کیا تھا جب کہ ہمایوں اختر نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی تو انہوں نے بھی این اے 131سے ضمنی الیکشن لڑنے کی شرط رکھی تھی،تحریک انصاف کے انتہائی اہم ذمہ دار کا کہنا ہے کہ این اے 131 میںعمران خان کی خالی کردہ اس نشست پر ہمایوں اختر خان کو ٹکٹ ملنے کا قوی امکان ہے جبکہ این اے 131 میں کئے جانے والے ایک سروے میں لوگوں کی رائے تھی کہ اگر تحریک انصاف نے ہمایوں اختر خان کو ٹکٹ دیا تو ان کی کامیابی کے 100 فیصد امکانات ہیں جبکہ ولید اقبال ،ابرار الحق اور حافظ فرحت عباس میں سے کسی کو ٹکٹ ملا تو انہیں اس حلقے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے سخت مشکلات درپیش ہوں گی ۔

لاہور ہی کے دو صوبائی حلقوں پی پی 164اور پی پی 165 سے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے یہ دونوں نشستیں چھوڑ دی تھیں تاہم ابھی تک اس حلقے سے مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار فائنل نہ ہو سکے ہیں،ان دوںوں صوبائی نشستوں کے  لئے اپنی پارٹی کے ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے  امیدوار وں کی بڑی تعدادمیدان میں موجود ہیں تاہم ان صوبائی حلقوں میں سے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کس کو میدان میں اتارتی ہے ایک دو روز میں اس بارے میں حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا  ۔یاد رہے کہ ضمنی 2018 کیلئے لاہور کے چاروں حلقوں سے مجموعی طور پر 45 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد منظور کر لیے گئے ہیں ۔ قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے 15 جبکہ صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں سے 30 امیدوار وں نے اپنے کاغذات نامزدگی کیجانچ پڑتال کروائی ۔ این اے 124 سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما غلام محی الدین دیوان ، محمد مدنی ، مسلم لیگ ن کی جانب سے سہیل شوکت بٹ سمیت 5 امیدواروں کے کاغذات نامذدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور کر لیے گئے ۔ این اے 131 سے تحریک انصاف کے رہنماء ہمایوں اختر ، مسلم لیگ ن کی رہنماء رابعہ فاروقی سمیت 10 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی پہلے روز منظور کیے گئے ۔ پی پی 164 سے سہیل شوکت بٹ ، صابر علی ، محمد فراز سمیت 15 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور کیے گئے ہیں جبکہ پی پی 165 سے عاطف ایوب میو سمیت 15 امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد  منظورکئے گئے ہیں۔

مزید : قومی