روٹی، نان مہنگے، فروٹ اور سبزیوں کے نرخ کم نہ ہوسکے

روٹی، نان مہنگے، فروٹ اور سبزیوں کے نرخ کم نہ ہوسکے

تنور مالکان نے ازخود روٹی اور نان کی قیمت بڑھا لی ہے، اب روٹی چھ روپے کی بجائے8روپے اور نان8 کی بجائے10روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے اور اب تک کسی نے نہیں پوچھا، نانبائی حضرات نے حکومت کی تجویز کے مطابق روٹی6روپے میں فروخت کرنے سے انکار کیا اور مذاکرات کی ناکامی کے بعد ہڑتال کر دی تھی جو انتظامیہ کی یقین دہانی پر موخر کی گئی، اور اب ان حضرات نے قیمت بڑھا لی ہے۔یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اس اقدام میں حکومت کی منشاء اور اجازت بھی شامل ہے کہ نہیں،نان بائیوں کا موقف ہے کہ آٹا مہنگا ہوا تو گیس اور بجلی کے نرخ بھی بڑھے ہیں،اس کی وجہ سے یہ ممکن نہیں رہا کہ حکومتی تجویز کے مطابق روٹی6روپے میں فروخت کی جائے۔روٹی کے نرخوں میں یہ اضافہ بھی براہِ راست عوام اور نچلے طبقے کو متاثر کرنے کا ذریعہ بنا ہے کہ عام طور پر مزدور پیشہ حضرات تنور کی روٹی اور دال یا سالن سے پیٹ کی آگ بجھاتے ہیں،جبکہ گرمی کی وجہ سے کئی گھروں میں بھی خواتین بھی تنور کی روٹی کو ترجیح دیتی ہیں،جبکہ شہروں میں ناشتہ میں نان چنے سے لے کر، لسی کلچہ تک بھی استعمال کیا جاتاہے۔ دودھ دہی والے لسی اور دہی کے نرخ بڑھا چکے ہیں،اب روٹی اور نان بھی زیادہ قیمت پر دستیاب ہوں گے، تو بوجھ اسی طبقے پر پڑے گا، بڑے لوگوں کا کچن تو ڈبل روٹی سے چلتا ہے۔حکومت نے معاشی حالت کو سدھارنے کے نام پر عوام کو صبر کی تلقین کی اور مسلسل کی جا رہی ہے، لیکن خود اس کے اپنے اقدامات سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے اور اب تو عوام آس ہی چھوڑ بیٹھے کہ حکومتی دعوؤں کے برعکس عوام کو کسی طرف سے ریلیف نہیں ملتی۔سبزی اور فروٹ کے نرخ بھی کم نہیں ہو رہے،جبکہ کاشتکار اور زمیندار کے مطابق ان کو فروخت میں نقصان ہو رہا ہے۔اس کا اندازہ یوں لگا لیں کہ بلوچستان میں اچھی قیمت نہ ملنے پر ٹماٹر ضائع کئے گئے اور لاہور میں پرچون کی دکان سے 80روپے کلو مل رہے ہیں۔یہی صورتِ حال دوسری سبزیوں اور پھلوں سے متعلق ہے،ضلعی انتظامیہ اعلانات کے باوجود قابو نہیں پا سکتی،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، جو گیس اور بجلی کے نرخوں کا کہہ کر مہنگائی کر رہے ہیں،انتظامیہ کو مربوط نظام کے تحت موثر اقدامات کرنا چاہئیں کہ پیداواری مالک کو بھی قیمت مل سکے اور عوام لٹنے سے بچ جائیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...