حکومت کی خارجہ، اقتصادی اور داخلی پالیسی ناکام ہو چکی ہے: مولان بخش چانڈیو 

حکومت کی خارجہ، اقتصادی اور داخلی پالیسی ناکام ہو چکی ہے: مولان بخش چانڈیو 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پیپلزپارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ حکومت کی خارجہ، اقتصادی اور داخلی پالیسی ناکام ہوچکی ہے حکومت کا ہر دن پاکستان پر بوجھ ہے لگتا ہے حکومت کو خود جانے کی جلدی لگی ہوئی ہے آپکو لانے والے بھی آپ سے مایوس ہوچکے ہیں پیپلزپارٹی قیادت کو علاج معالجے کی سہولت نہ دیکر حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے حکومت کو متنبہ کرتے ہیں کہ ایسی حرکتوں سے باز آجائے خواتین کی توہین ناقابل برداشت ہے۔ سیاست کو دشمنی میں تبدیل کرنے سے گریز کریں احتساب کو انتقام نہ بنایا جائے دس لاکھ روپے کا حساب مانگنے والے ادارے حکومت کی جانب سے معاف کئے گئے دو سو دس ارب روپے کا حساب کب مانگیں گے نیب کیوں خاموش ہے وہ  جمعہ کے روز پیپلزپارٹی میڈیا سیل بلاول ہاس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے پی رہنما فدا ڈھکن، سردار نزاکت و دیگر انکے ہمراہ تھے مولا بخش چانڈیو نے مزید کہا کہ میڈیا کے دوستوں نے ہمیشہ مجھے محبت دی ہے لوگوں نے سمجھا کہ تبدیلی آئیگی غریبوں کی حالت بدلنے سے متعلق کچھ بہتر ہوگا مگر تبدیلی آئی تو سوائے پریشانیوں اور ملکی سلامتی کے حوالے سے صرف پریشانیاں ہی ملیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری کو علاج معالجے کی سہولت نہ دیکر حکمران انتقامی سیاست میں اندھے ہوچکے ہیں میں مارشل لا کا حامی قطعی نہیں ہوں مگر یہ مارشل لا سے کم نہیں ہے اسپتال میں ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی، سابق صدر کو علاج معالجے کی سہولت نہ دیکر آپ کو جانے کی نجانے کیوں جلدی ہے۔جو لائے ہیں وہ بھیج بھی دینگے انکو بھی آپ نے مایوس کیا ہے انگلی اٹھا کر تھک گئے ہیں آج آپ سے لوگ پوچھ رہے ہیں من پسند لوگوں کو جو پیسے معاف کررہے ہیں کیا یہ ہیسے آپ کے باپ کے ہیں؟کیا یہ پیسے اداروں کو نظر نہیں آرہے کیا صرف احتساب بھٹو کا، بی بی کا اور بھٹو کے داماد کا ہوگا؟ ہماری باتوں کا ہمیشہ مزاق بنایا گیا آج بھی وہی دن درپیش ہیں۔ بی بی جب عدالتوں میں جاتی تھیں تو کچھ وزرا ہنستے تھے۔ ہم ایسی صورتحال ہر خوش نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ اگر آپ حکومت چھوڑ کر بھاگ گئے تو ٹھیک ورنہ آپ بھی اپنی ضمانتوں کا بندوبست کرنا پڑیگا۔ نیب کے چیئرمین کا بیان ریکارڈ پر ہے کہ حکومت کا احتساب کیا تو حکومت گر جائیگی ان بیانات کا مستقبل میں ضرور تزکرہ ہوگا۔ یاد رکھیں وقت کبھی خاموش نہیں ہوگا۔ آج ضیاالحق کو کوئی اپنا لیڈر نہیں مانتا، آپ ظلم کی روایت بند کریں۔ ہماری روایت میں خواتین کی تزلیل برداشت نہیں کی جاتی آپ نے بے نظیر بھٹو کی توہین کی، آج پر بھٹو کے داماد پر ملاقاتوں کے لئے پابندی عائد کررہے ہیں۔ بی بی آصفہ کوئی معمولی لڑکی نہیں ہے وہ بلاول بھٹو کی بہن ہیں۔ ملک میں جو جمہوریت ہے وہ آصف علی زرداری کے مرہون منت ہے، انہوں نے کہا کہ آپ ہر قومی دن پر انتشار پھیلاتے ہیں، آپ کشمیر ڈے پر قومی قیادت سے بات کرلیتے تو کیا حرج ہوجاتا؟ آپ نے کشمیر کا سودا کردیا ہے مودی کی کامیابی کی آپ نے کوشش اور دعا کی۔ مولا بخش چانڈیو نے مزید کہا کہ آج ہماری قومی سلامتی کے حوالے سے سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں آج کے دن کو ہم مناتے ہیں قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ ہمیں قومی سلامتی کے حوالے سے اہم فیصلے کرنا تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ایشو پر کیوں خاموش ہیں آپکی خارجہ، اقتصادی اور داخلی پالیسی ناکام ہوچکی ہے اس حکومت کا پر دن پاکستان پر بوجھ ہے۔ ہم کسی کو غدار نہیں کہتے مگر پالیسیوں پر بات کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے اسلام آباد لاک ڈان میں شرکت کا فیصلہ پارٹی کریگی مولانا صاحب اکیلے اسلام آباد لاک ڈان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے ہم حکومت پر بھی اور انکے این آر او پر بھی کرنے بھیجتے ہیں۔ این آر او تو آپ مانگ رہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری کو علاج معالجے کی سہولت اور کارکنوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے ہم اپنے مطالبات وزیراعظم سے نہیں بلکہ ریاست سے کررہے ہیں، جس دن قیادت نے فیصلہ کیا پیپلزپارٹی کو پھر پرانے رنگ میں دیکھیں گے۔ پیپلزپارٹی کسی سے ختم نئیں ہوئی موجودہ حکمرانوں میں بھی دم نہیں ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...