دفاعِ پاکستان کا  ناقابل ِ تسخیر جذبہ 

 دفاعِ پاکستان کا  ناقابل ِ تسخیر جذبہ 

  

6ستمبر ہماری تاریخ کا ایک تابندہ اور تابناک دن ہے۔1965ء کو ہماری بہادر افواج نے جس جوانمری سے مادرِ وطن کا دفاع کیا اس کی یاد آج بھی دِلوں کو گرماتی اور شوقِ شہادت کو آواز دیتی ہے، پاک فوج کے افسروں اور جوانوں نے فرض کی ادائیگی سے میلوں آگے بڑھ کر شہادتیں پیش کیں۔جنگ ِ ستمبر میں پوری قوم بھی فوج کے شانہ بشانہ میدانِ عمل میں آ گئی تھی،شاعروں نے جو ملی نغمے تخلیق کئے، موسیقاروں نے جو دُھنیں بنائیں اور لازوال آوازوں نے جس طرح شوقِ شہادت کو اُبھارا، یہ سب روشن کارنامے ہم یوم دفاع کے موقع پر یاد کرتے ہیں، شہدا کی یاد گاروں پر پھول چڑھاتے ہیں، آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ مُلک و قوم کو جب بھی ہماری ضرورت پیش آئے گی، شہدا کے جذبے سے روشنی لے کر آگے بڑھتے رہیں گے، نصف صدی سے زیادہ عرصہ گذر جانے کے باوجود افواج کا یہ جذبہ آج بھی زندہ ہے۔ آج اگرچہ لڑائی کے محاذ اور انداز بدل گئے ہیں، جو جنگ سرحدوں پر لڑی جاتی تھی، دہشت گردی کی شکل میں ہمارے شہروں، قصبات اور کھیل کے میدانوں میں آ گئی، آج بھی کسی نہ کسی شکل میں یہ جنگ لڑی جا رہی ہے، فوج کے افسروں اور جوانوں کی شہادت کا تسلسل جاری ہے۔ آج بھی شہدا کی جبینیں روشن ہیں اور قوم کی پیشانیاں اُن کے احترام میں جھکی ہوئی ہیں،جنہوں نے اپنا آج پاکستانی قوم کے کل کے لئے قربان کر دیا۔

جنگ ِ ستمبر سے پہلے جس قسم کے حالات تھے اُن سے یہ اندازہ تو ہوتا تھا کہ بھارت کے ارادے ٹھیک نہیں ہیں۔ بھارتی وزیراعظم یہ دھمکی بھی دے چکے تھے کہ بھارت اپنی پسند کا محاذ کھولے گا،لیکن بعد میں جس طرح رات کی تاریکی میں کسی اعلانِ جنگ کے بغیر اس نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے پاکستان پر حملہ کیا اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا کہ بھارتی فوجیں لاہور میں ناشتہ کریں گی، واہگہ کی سرحد پر کھڑی ایک ڈبل ڈیکر بس کو پکڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ ”لاہور پر قبضے“ سے حاصل ہوئی ہے۔ بی بی سی جیسے خبر رساں ادارے نے بھی بھارتی خیالی کامرانیوں کے فسانے کو  خبر بنا کر نشر کر دیا، لیکن چھ ستمبر کا سورج جوں جوں طلوع ہوتا گیا بھارت کے عزائم خاک میں ملتے گئے اور حملے کے چند ہی گھنٹوں کے اندر اندر بھارتی سورماؤں پر واضح ہو گیا کہ پاکستان نے اُن کے راستے میں آتش و آہن کی ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کھڑی کر دی ہے جسے عبور کرنا اس کے بس میں نہیں، جب بھارت نے حملہ کیا پاکستان کے اندرونی سیاسی حالات یہ تھے کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتیں باہم دست و گریباں تھیں۔ اس وقت کی متحدہ اپوزیشن جنرل ایوب خان کے خلاف میدان میں اُتری ہوئی تھی،لیکن جونہی بھارت نے حملہ کیا اپوزیشن رہنماؤں نے سارے اختلافات بھلا کر حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا اور قوم نے اتحاد و یکجہتی کا ایسا مظاہرہ کیا، جو اِس سے قبل دیکھا نہیں گیا تھا، سترہ روزہ جنگ میں قوم، حکومت اور افواج کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی گئی۔ جنگ ِ ستمبر کی کامیابیوں میں شہدا کی قربانیوں کے ساتھ ساتھ اس جذبے کا بھی حصہ تھا،لیکن آج تک اس سوال کا مسکت جواب نہیں مل سکا کہ ہمارے دفتر خارجہ نے کن شواہد کی بنیاد پر یہ رائے قائم کر لی تھی کہ بھارتی افواج بین الاقوامی سرحد عبور نہیں کریں گی اور اُس وقت کی حکومت نے اس رائے سے کیسے اتفاق کر لیا؟ اس کے تجزیئے تو ماضی میں بھی ہوتے رہے اور آج بھی جب ہم یوم دفاع منا رہے ہیں، اس طرف دھیان جاتا ہے کہ کیا ہمارا دفتر خارجہ اور  جنرل ایوب خان کی حکومت ایک صفحے پر نہیں تھے اور یہ جنگ جیتنے کے تھوڑے ہی عرصے بعد ایوب حکومت کو منظر عام سے ہٹانے کی کوششیں کیوں شروع ہو گئیں اور چھ برس بعد ہی ہمیں سقوطِ ڈھاکہ کا صدمہ کیوں سہنا پڑا؟

جنگیں جیتنے (یا ہارنے) کے بعد دُنیا کی ہر فوج یہ تجزیہ کرتی ہے کہ اُس نے اگر کامیابی حاصل کی تو اس کی وجوہ کیا تھیں اور اگر ناکامیوں کا مُنہ دیکھنا پڑا تو اس کے اسباب کیا تھے۔ ان کوتاہیوں کو دور کیا جاتا ہے، جو غیر جانبدار تحقیقی تجزیوں میں سامنے آتی ہیں، ان عوامل کو مضبوط سے مضبوط تر بنایا جاتا ہے، جن کی وجہ سے کامیابیاں حاصل ہوئیں اور ان کمزوریوں پر قابو پایا جاتا ہے،جن کے باعث وہ کامیابیاں حاصل نہ ہو سکیں جو سامنے نظر آ رہی تھیں، ہماری سرحدوں پر بیٹھے ہوئے دشمن کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا خطہ عدم استحکام کا شکار ہے، خطے کی اس صورتِ حال کی وجہ سے پاکستان کی آزمائشیں ختم نہیں ہو  رہیں، کشمیر کا مسئلہ آج بھی حل طلب ہے اور بھارت ایک غیر قانونی اقدام کے ذریعے ریاست کشمیر کو ضم کر کے اپنے تئیں یہ مسئلہ ختم کر چکا ہے،لیکن کشمیر کے عوام آج بھی سربکف ہیں اور آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں،کشمیری قوم کی طویل آزمائش کا سلسلہ بھی جاری ہے اور ریاست کے نوے لاکھ مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنانے کے بعد اب کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کا سلسلہ شروع ہے، مُلک کے دوسرے حصوں سے غیر کشمیریوں کو لا کر ریاست میں آباد کیا جا رہا ہے،ان نئے آباد کاروں کو جائیدادیں خریدنے کی اجازت دی جا رہی ہے، کشمیر کے اِن حالات سے توجہ ہٹانے کے لئے بھارت نے کنٹرول لائن پر محاذ بھی گرم کر رکھا ہے اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا، پاک فوج کے جوان اِس محاذ پر بھی دادِ شجاعت دے رہے ہیں، کنٹرول لائن سے متصل بستیوں میں مقیم عام شہری بھی حوصلے اور ہمت کے ساتھ اِن حالات کا مقابلہ کر رہے ہیں،لیکن ان کی آزمائش و ابتلا کا یہ سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آ رہا، بھارت جنون میں مبتلا ہو کر اربوں کھربوں ڈالر کا جنگی سازو سامان خرید رہا ہے۔ فرانس سے رافیل خریدے جا رہے ہیں تو اسرائیل سے جدید راڈار سسٹم حاصل کئے جا رہے ہیں، ان تیاریوں  کا مقصد خطے کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے سوا کیا ہے؟ لیکن پاکستان بھی پوری طرح تیار ہے جنگ ِ ستمبر سے ایک سبق یہ بھی ملا کہ ان دوستوں پراعتبار نہیں کیا جا سکتا، جنہوں نے عین ہنگام جنگ اسلحے اور فالتو پرزوں تک کی سپلائی بھی روک دی تھی، اس جنگ کے بعد پاکستان نے اپنی دفاعی تیاریوں کا رُخ موڑ دیا، اسلحے میں خود انحصاری پر توجہ دی اور دو ہی عشرے بعد اِس قابل بھی ہو گیا کہ نہ صرف ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی، بلکہ میزائل سازی میں بھی نئے نئے سنگ ِ میل عبور کر لئے، جس کی وجہ سے اب پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ پامردی سے کرنے کے لئے ہر دم تیار اور کامران ہیں۔ دفاعِ پاکستان کا یہ جذبہ پوری قوم کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے، ہمارے  راستے اسی جذبے سے روشن اور کشادہ ہوتے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -