لیفٹیننٹ فراز ملک شہید

لیفٹیننٹ فراز ملک شہید
لیفٹیننٹ فراز ملک شہید

  

ہر سال جب بھی ستمبر کا مہینہ آتا ہے دفاع وطن کی خاطر  جان کا نذرانہ پیش کرنے والے عظیم مجاہدوں کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔وہ 1948 کی کشمیر کی جنگ ہویا  1965 کی پاک بھارت جنگ ، 1971 کی جنگ ہویا  1999 کا کارگل کا معرکہ،  اقوام متحدہ میں خدمات کے دوران شہید ہونے والے جوانوں کی داستان ہو، اندرون ملک سیکیورٹی  کا ٹاسک ہو، زلزلہ، سیلاب ، کوئی  قدرتی آفت  ہویا  خود کش دھماکہ ہو، یرغمال بنانے کا واقعہ ہو یا دہشت  گردی کے خلا ف جنگ،  ملک کے بہادر محافظوں نے ہمیشہ سینہ تان کر  ملک  کا دفاع  کیا تا کہ  ہمارے ملک کے شہری سکون سے سو سکیں۔دہشت گردی کے خلاف  جنگ میں فوج کے ساتھ ساتھ سول اداروں اور افراد کا تعاون بھی مثالی رہا ہے۔ایسا ہی ایک مجاہد لیفٹیننٹ فراز ملک شہید 1984 کو ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوا۔وہ بچپن سے ہی انتہائی فرمانبردار تھا۔ وہ عام بچوں سے مختلف تھا،اسے بندوق سے کھیلنے اور خاکی وردی پہننے کا جنون تھا۔ لیفٹیننٹ فراز ملک نے ابتدائی تعلیم ملٹری کالج جہلم سے حاصل کی۔

ایف ایس سی کرنے کے بعد ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت رہا اور 117 پی ایم اے لانگ کورس میں کمیشن حاصل کیا، جس کے بعد 2008 میں  ان کی پوسٹنگ  18 فیلڈ(اب ایس پی میڈیم)  رجمنٹ  آرٹلری میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ ہوئی۔یہ یونٹ سابقہ جنگوں میں اعلی کارکردگی دکھا چکی ہے۔یہ وہی یونٹ تھی جس کے کمانڈنگ افسر خود شہید کے والد(1988 سے 1990)  رہ چکے تھے۔ان کے والد لیفٹیننٹ کرنل(ریٹائرڈ)  ظفر سلطان ملک  نے 2 نومبر 1969 کو 18 فیلڈ رجمنٹ   جوائن کی اور  1971 میں برکی سیکٹر میں یونٹ کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا۔ سکول آف آرٹلری میں لیفٹیننٹ فراز نے اپنا بیسک  کورس پوری لگن اور پروفیشنل  دلچسپی سے مکمل کیا۔ ان کے ایک کورس میٹ میجر  اعزا ز نواز کے مطابق  وہ زندگی میں ایک عظیم مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے بہت انکسار پسند تھے اور دوسروں کی مدد کرنیکا جذبہ ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہواتھا۔ان کے یونٹ آفیسر کیپٹن بلال کے مطابق وہ ایک زندہ دل آفیسر تھا اور دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہتا تھا۔وہ اپنی ڈائری میں مختلف واقعات درج کرتا  رہتا تھا۔

ایک سال بعد فراز ملک شہید کو جنوبی وزیرستان میں آپریشن کا حکم ملا، لیفٹیننٹ فراز یہ حکم پا کر انتہائی خوش تھے کہ انہیں وطن کے لیے کچھ عملی  اقدام کرنے کا موقع ملے گا۔ شہید ایک ماہ پہلے ہی اپنے دوستوں کو بتا چکے تھے کہ میں جلد شہید ہو جاؤں گا۔ملک کی خاطر جان تک قربان کرنے کا عہد اس نے وفا کر دیا۔وہ اپنے دوستوں  کا بہت خیال رکھتا تھا۔اور  اپنی بات کا پکا تھا۔ اپنے چھوٹے بھائی  سلمان ظفر سے آخری ملاقات کے وقت   لیفٹیننٹ فراز ملک شہید  نے کہا کہ میں چونکہ آپریشن پر جا رہاہوں آپ نے گھر والوں کا خیال رکھنا ہے اور ذمہ داری کا ثبوت دینا ہے۔شہادت سے پہلے انہوں نے اپنے والد کو ایک میسج بھیجا تھا جس میں کہا کہ:"صرف ایک مقصد کے لیے میں نے آرمی جوائن کی اور وہ ہے اسلام اور پاکستان کی سربلندی،اس مقصد کے لیے لوگ اللہ کی طرف سے چنے جاتے ہیں۔میں آپکو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ اس فوج کا حصہ ہیں۔پاک فوج زندہ باد،پاکستان پائندہ باد"۔جب لیفٹیننٹ فراز آپریشنل ایریا میں گئے تو  ان دنوں دہشت گردی  عروج پر تھی۔لیفٹیننٹ فراز چونکہ آرٹلری یونٹ سے تعلق رکھتے تھے لہذا میدان جنگ میں دوبدو لڑنا انکا کام نہ تھا۔لیکن اسکے باوجود شہید نے علاقے میں آپریشن کرنے والی یونٹ(20سندھ) کے ساتھ تین کامیاب مشن مکمل کیے۔22 اکتوبر کے آپریشن میں  لیفٹیننٹ فراز نے  تور گھنڈائی  فیچر  کے قبضے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح 30 اکتوبر کو متائی گڑھ کے قبضے میں بھی لیفٹیننٹ فراز کا کلیدی کردار تھا۔اس کا جواں خون اس کے  جذبہ جہاد کا بھرپور ساتھ دے رہا تھا۔آپریشن راہ نجات کے دوران 4نومبر2009 کو انہیں جنوبی وزیرستان کے علاقے ساراروگا (جو کہ دہشت گردوں کا گڑھ تھا)میں قائم خوارج کے خفیہ کمپاونڈز کی اطلاع ملی۔موسم کی شدت کے باوجود ان کے پایہ استقلال نہ ڈگمگائے۔اگرچہ علاقہ پہلے سے کلئیر ہو چکا تھا لیکن دشمن کے گوریلہ گروہ ابھی بھی کاروائیاں کر رہے تھے۔

جونہی لیفٹیننٹ فراز ملک نے کمپاؤنڈ کا دروازہ کھولا، دروازے کے ساتھ لگی بارودی سرنگ پھٹ گئی  جس سے لیفٹیننٹ فراز ملک   شہید ہو گئے انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا اور وہ مراکیوال ضلع سیالکوٹ میں آسودہ خاک ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں ان کی بہادری  کی وجہ  سے  تمغہ بسالت  سے نوازا۔ سیالکوٹ کینٹ کے قریب سے لیفٹیننٹ فراز ملک شہید کے نام سے منسوب ایک خوبصورت  روڈ  ان کے آ بائی  گاؤں تک جاتی ہے۔ لاہور کینٹ میں پی اے ایف مارکیٹ کے پاس ایک مشہور چوک کا نام "لیفٹیننٹ فراز ملک شہید  چوک "ہے۔2014 میں گوجرانوالہ کے کور کمانڈر بھی شہید  کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے گئے۔

والدین کا لاڈلہ لیفٹیننٹ فراز ملک وطن کے روشن مستقبل کے لیے اپنا شاندار "آج" قربان کر گیا۔لیکن جوان بیٹے کی جدائی آج بھی شہید کی ماں نہیں بھلا سکی۔آج بھی لیفٹیننٹ فراز شہید کی والدہ اپنے بیٹے کی قبر کے ساتھ اسکی برتھ ڈے کا کیک کاٹتی ہے اس  وقت قبر سرخ پھولوں کا لباس اوڑھ لیتی ہے۔راقم  کو  2011 میں سیالکوٹ پوسٹنگ کے دوران شہید  کی  آخری آرام گاہ پر فاتحہ پڑھنے کا موقع ملا وہاں پر شہید کی بہادری  کی داستان پڑھ کر یہ حوصلہ ہوا کہ جب تک لیفٹیننٹ فراز ملک شہید  جیسے جوان اس ملک میں موجود  ہیں۔ملک کے اندرونی اور بیرونی دشمن اپنی ناپاک سازشوں میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔بعد میں شہید کے والد سے ملاقات ہوئی تو اس عظیم مجاہد وطن کی عظمت مزید آشکار ہوئی۔اور پتہ  چلا کہ وہ بچپن سے سپہ گری سے خصوصی دلچسپی رکھتا تھا۔شہید کی شخصیت اور جذبہ شہادت پر  ان کے گھر کی تربیت، ملٹری کالج جہلم کے ماحول، پی ایم اے  کی ٹریننگ، یونٹ کی روایات، سکول آف آرٹلری کی پروفیشنل  سکھلائی اور آپریشنل ایریا میں انفنٹری یونٹ  کی اعلی کارکردگی  نے خصوصی کردار ادا کیا۔ پاکستان  کے تما م علاقوں  بشمول پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان،گلگت بلتستان، اور کشمیر  کے شہداء ہماری عظمت کے نشان ہیں۔ہم کوئی شہادت بھولے نہیں اور ملک دشمن عناصر کے خاتمے تک یہ جدو جہد جاری رہے گی۔

مزید :

رائے -کالم -