گیم آن ہے

گیم آن ہے
گیم آن ہے

  

مریم نواز شریف نے ٹویٹ کیا ہے، ”اب کھیلیں گے، انشا اللہ“۔

میاں نواز شریف حکومت میں ہوں تو اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار رہتی ہے،جب اپوزیشن میں ہوں تو حکومت کی صفوں میں کھلبلی مچی رہتی ہے۔ عمران خان جتنا میاں نواز شریف کے بارے میں سوچتے ہیں اگر اس کاچوتھائی حصہ بھی اپنی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سوچیں تو کاروبارِ حکومت بہتر طریقہ سے چلا سکتے ہیں۔ اکثر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان کو نواز شریف فوبیا ہے۔شائد وہ اس پر قابو پا لیتے اگر ان کے مشیر اور معاونین سیاسی ذہن اور پس منظر رکھنے والے ہوتے، لیکن وہ تو ایسے دیدہ و نادیدہ دوستوں کے نرغہ میں ہیں جو انہیں ہر وقت ڈراتے رہتے ہیں اس لئے ان کا خوف کم ہونے کی بجائے بڑھتا جاتا ہے۔ دوسرے ممالک میں حکومتیں منصوبہ بندی اور کارکردگی سے چلتی ہیں، پاکستان کی موجودہ حکومت صرف زبانی جمع خرچ اور تقریروں سے چلانے کی کوشش پچھلے دو سال سے ہو رہی ہے۔ گذشتہ الیکشن میں بغض نواز شریف میں عمران خان کی حکومت بنوائی گئی۔ دھرنا اور اس کے بعد کے بہت سے واقعات پی ٹی آئی کے سابق صدر جاوید ہاشمی سناتے رہتے ہیں۔ الیکشن کے بارے میں اس وقت کی پی ٹی آئی میں نمبر ٹو پر براجمان جہانگیر ترین سے زیادہ معتبر گواہی کس کی ہو سکتی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ گھر کو درست رکھنے کی بات پر ڈان لیکس نامی جس رائی کا پہاڑ بنا کر میاں نواز شریف کو ہٹایا گیا تھا اب وہی باتیں موجودہ حکومت کو بحالت مجبوری کرنی پڑ رہی ہیں۔ گویا ہم بحیثیت قوم کسی مرض کا ابتدائی علامات کے ظاہر ہونے پر علاج کرنے کی بجائے اسے پہلے اس قدر پیچیدہ بنا دینے کے عادی ہو چکے ہیں کہ ریڈیکل سرجری کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں بچتا۔ دو تہائی اکثریت رکھنے والے منتخب وزیر اعظم کو نشانہ بنانے کے لئے پہلے پانامہ کے ڈرامہ سے اقامہ نکال کر نا اہل قرار دیا گیاجیسے جادوگر کرتب دکھاتے ہوئے ہیٹ میں سے خرگوش نکالتے ہیں اور پھر انہیں ان کی سیاسی جانشین مریم نواز شریف کے ساتھ جیل میں بند کر دیا گیا۔

جیل میں قید کے دوران ہی میاں نواز شریف نے اپنی اہلیہ اور مریم نواز شریف نے والدہ کی رحلت کا صدمہ سہا لیکن کسی قسم کا کمپرومائز نہیں کیا۔ پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے والوں کو یقین تھا کہ میاں نواز شریف جیل اور عمران خان ایوان وزیر اعظم میں ہوں گے تو مسلم لیگ (ن) کی اکثریت حکومت کے ساتھ جا ملے گی۔ عوام تو خیر سچے ووٹر اور سپورٹر ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنی وفاداریاں جلد تبدیل نہیں کرتے لیکن اسمبلی ممبران،ٹکٹ ہولڈر اور دوسرے لیڈران سے بہر حال توقع کی جا رہی تھی کہ وہ حکومتی پارٹی میں شامل ہو جائیں گے۔ آج کل شیخ رشید کی یہ ڈیوٹی لگائی گئی ہے کہ وہ بیان دیتے رہیں کہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو مسلم لیگ (ن) ٹوٹ جائے گی۔

خیر، شیخ رشید کی ننانوے فیصد پیش گوئیاں غلط نکلتی ہیں۔ ہماری ماضی کی تاریخ یہ ضرور رہی ہے کہ پاکستان میں پچھلے ساٹھ ستر سال میں یہی سب کچھ ہوتا آیا ہے۔ اگر 1950 کی دہائی میں مسلم لیگ کی ساری قیادت راتوں رات ری پبلکن پارٹی میں چلی گئی تھی تو نصف صدی بعد بھی مسلم لیگی راہنماؤں کی بڑی تعداد مشرف بہ قاف ہو گئی تھی۔ میاں نواز شریف کو ہٹائے جانے، انہیں جیل میں بند کرنے اور عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کے بعد بھی ایسا نہیں ہوا اور ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ پارٹی اور قائد کے معتوب ہونے کے باوجود‘ کسی قابل ذکر لیڈر نے پارٹی نہیں چھوڑی۔ یہ ہے وہ اصل تبدیلی جو پہلی بار پاکستان میں دیکھنے میں آئی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی پذیرائی بھی عوام میں مزید بڑھ گئی ہے اور کا ثبوت وہ بہت سے سروے ہیں جو مختلف صحافتی اداروں اور تھنک ٹینکس کی طرف سے وقتاً فوقتاً کرائے جاتے ہیں اور سب میں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر آج الیکشن ہو جائے تو مسلم لیگ (ن) بھاری اکثریت سے الیکشن جیت کر ایک بار پھر اقتدار میں آ جائے گی۔ 

میاں نواز شریف جب جیل میں تھے تو ان کی بڑھتی مقبولیت کی وجہ سے حکومت اور ان کے خیر خواہ سخت پریشان رہا کرتے تھے۔ کچھ اہم مشیروں نے مشورہ دیا کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی عوامی مقبولیت چونکہ جیل میں رہنے کی وجہ سے بڑھ رہی ہے اس لئے ان  کے باہر آنے سے اس میں کمی آئے گی۔ میاں نواز شریف جب دوران قید سخت بیمار ہوگئے اورنہ صرف پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت کی زیر نگرانی کئی میڈیکل بورڈز (جن میں شامل تمام سپیشلسٹ ڈاکٹرز حکومت پنجاب کے ملازم ہیں) بلکہ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی میاں نواز شریف کی بیماری کی تصدیق کی کہ ان کا علاج صرف بیرون ملک ہی ممکن ہے تو عدالت عالیہ نے انہیں علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت دے دی۔

اب ظاہر ہے میاں نواز شریف علاج مکمل کروا کر ہی پاکستان واپس آئیں گے۔ اگر ان کا علاج ادھورا چھوڑ نے سے ان کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہوتے ہیں تو پھر انہیں علاج کے لئے باہر جانے کی اجازت دینے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ انہیں جیل میں ہی بیماری اور قسمت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا لیکن اس وقت بیرون ملک بھجوانے میں وزیر اعظم سمیت تمام حکومت اور ان کے خیر خواہ بہت زیادہ متحرک تھے۔ وزیر اعظم عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ذریعہ اپنی تسلی کروائی جنہوں نے طبی اعتبار سے تشویش ناک فیڈ بیک دیا۔ چونکہ وزیر اعظم عمران خان خود بھی چاہتے تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے پوری طرح تسلی کر لی ہے کہ میاں نواز شریف کی میڈیکل کنڈیشن واقعی سیریس ہے اس لئے وفاقی کابینہ اور وزیر اعظم نے میاں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔ ویسے بھی بہت سے حکومتی زعما کا خیال تھا کہ میاں نواز شریف کی بیماری پر سیاسی بیانیہ تشکیل دے کر ان کی سیاست کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جائے گا۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

پچھلے دو تین ہفتوں سے وزیر اعظم عمران خان اور ان کے کئی وزیر میاں نواز شریف کے لندن رہنے کی وجہ سے اپنے آپ کو اچانک سیاسی طور پر غیر محفوظ سمجھنا شروع ہو گئے ہیں اس لئے لگاتار بیانات اور الزام تراشیوں کی گولہ باری کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ میاں صاحب کو ہر قیمت پر پاکستان واپس آنے پر مجبور کیا جائے۔ ایسے لگتا ہے جیسے کسی نے وزیر اعظم کے کان میں پھونک ماری ہے کہ نواز شریف کسی لندن پلان کی تیاری کر رہے ہیں۔ ویسے بھی شیخ رشید نے اپنی نئی کتاب ”لال حویلی سے اقوام متحدہ تک“ میں 2014 کے لندن پلان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے کہ کس طرح عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے میاں نواز شریف کی حکومت ختم کرنے کے لئے (جسے بنے ابھی صرف چند ماہ ہوئے تھے) لندن میں بیٹھ کر دھرنا پلان بنایا تھا۔ ویسے بھی پاکستان کی سیاست میں   ”لندن پلان“ کئی عشروں سے مختلف حکومتوں کے خلاف بنتے رہے ہیں۔ پتہ نہیں یہ گھر کے بھیدی شیخ رشید کا  ”لنکا ڈھانا“ ہے یا انہیں کہیں اور سے الہام ہوا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کی لندن میں موجودگی سے اچانک ہیجان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ عمران خان نواز شریف فوبیا انہیں مسلسل خوف کی حالت میں رکھتا ہے چاہے میاں صاحب پاکستان میں ہوتے ہوئے جیل میں ہوں یا جاتی عمرہ میں، یا پھر پاکستان سے باہر ہوں۔حکومت کے لئے ”نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن“ والی کیفیت ہے۔ 

مسلم لیگ (ن) کے راہنماؤں نے پارٹی اجلاس میں ہونے والا فیصلہ سنایا ہے کہ میاں نواز شریف علاج مکمل ہونے پر واپس آئیں گے۔ یہ بالکل درست فیصلہ ہے۔ حکومت میاں نواز شریف کے بارے میں ازل سے ہی بوکھلاہٹ کا شکار ہے لیکن گذشتہ کچھ دنوں میں ہونے والے واقعات نے اس کی کمزوری مزید نمایاں کی ہے۔ پہلے لیفٹنٹ جنرل (ر) ؑعاصم باجوہ پر لگائے جانے والے الزامات پر ان کی زبانی وضاحت پر اپنے ”اطمینان“ کا اظہار اور استعفی نا منظور کرکے عمران خان نے ”احتساب“ کے اپنے اس بیانیہ کی نفی کر دی ہے جس کاوہ سالوں سے لاؤڈسپیکر پر شور مچایا کرتے تھے،اور دوسرے کراچی جا کر 1100 ارب کے اس پیکج کا اعلان جس میں سے 802 ارب کے منصوبوں کا اعلان سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ پہلے ہی کر چکے تھے اور باقی کے 300 ارب کے بارے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کا کہنا ہے کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ان کا انتظام کہاں سے کیا جائے گا۔ یہ اپنے پلے سے ایک روپیہ خرچ کئے بغیر 1100 ارب کا بھونپو بجانے والی بات ہے۔ لگتا ہے منظر نامہ ایسا بن رہا ہے کہ حکومت کی چولیں ڈھیلی ہوچکی ہیں اور آنے والے ہفتوں میں حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلے گی اور جب میاں نواز شریف اپنا علاج مکمل کرکے واپس آئیں گے تو دمادم مست قلندر ہو گا۔ مریم نواز شریف اسی لئے اتنا با اعتماد نظر آرہی ہیں کہ ”اب کھیلیں گے، انشا اللہ“۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ گیم آن ہے۔  

مزید :

رائے -کالم -