صدر  شی کے دورۂ پاکستان کا التواء

صدر  شی کے دورۂ پاکستان کا التواء

  

مجھے معلوم نہیں، چین کے صدر شی کا دورہ جو اس برس متوقع تھا، کیوں ملتوی کیا گیا لیکن اس کی جو وجہ پاکستان میں چینی سفیر کے بیان سے منسوب کی گئی وہ ناقابلِ یقین حد تک عجیب و غریب ہے۔ جناب سفیر نے مبینہ طور پر بتایا تھا کہ یہ دورہ کووڈ۔19 کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا کووڈ۔19 کی کوئی شدید لہر آنے والے چار ماہ (ستمبر تا دسمبر) میں چین یا پاکستان میں متوقع ہے؟ انٹرنیشنل میڈیا میں تو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جو ممالک کورونا سے کمترین سطح پر متاثر ہوئے ہیں، ان میں چین اور پاکستان شامل ہیں۔ الحمدللہ کافی دنوں سے پاکستان میں کورونا کے سبب شرحِ اموات نہ ہونے کے برابر ہے۔ اور چین کا بھی حال یہی ہے اور جب بیجنگ اور اسلام آباد میں کووڈ۔19کا کوئی خطرہ آنے والی سہ ماہی میں متوقع نہیں تو پھر سفیر موصوف کا یہ بیان کہ جناب شی کا دورہ اس وبا کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ہے، محلِ نظر ہے!

جناب سفیر (یاؤ جِنگ) کا فرض تھا، بتاتے کہ یہ دورہ اگر کووڈ۔19 کے سبب ملتوی کیا گیا ہے تو آئندہ کے امکانات کیا ہیں۔ ہماری وزارتِ خارجہ نے صرف اتنا کہا ہے کہ وزارت ہائے خارجہ چین و پاکستان، باہمی رابطے میں ہیں اور جلد نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اب تازہ ترین خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ دورہ اگلے برس (2021ء میں) موسمِ گرما میں متوقع ہے۔ یعنی اب بھی 6ماہ (جنوری تا جون) کی بریکٹ دے دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ”کارِ جہاں دراز ہے، اب میرا انتظار کر“…… کیا اس سے بہتر یہ نہ تھا کہ اس ششماہی بریکٹ کو ختم کرکے دورے کی حتمی تاریخ دی جاتی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو شائد تشکیک کی فضا چَھٹ جاتی۔ اب جتنے منہ اتنی باتیں!

ان باتوں میں پہلی بات یہ ہے کہ بعض حلقوں کے مطابق اس دورے کے التوا کا سبب پاکستان کے میگاپراجیکٹوں میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے چینی بینکاروں کی ہچکچاہٹ ہے…… دیامر بھاشا ڈیم، ایم ایل ون، راوی ریور اربن ڈویلپمنٹ اور تھرکول وغیرہ ایسے منصوبے ہیں جن میں چینی سرمایہ کاری کا تناسب 80سے 90فیصد تک ہے۔ ان کی مدتِ تکمیل بھی مختلف ہے جو تین سالوں سے لے کر آٹھ سالوں تک پھیلی ہوئی ہے۔جنرل عاصم سلیم باجوہ اگرچہ دیامر بھاشا ڈیم کے بروقت آغاز کی یقینی دہانی کروا چکے ہیں اور شیخ رشید بھی اگرچہ اس قسم کی یاد دہانی ایم۔ ایل ون کے سلسلے میں بھی کروا چکے ہیں لیکن کچھ روز پہلے چینی سفیر نے جو یہ بیان دیا تھا کہ ایم ایل ون پر سرمایہ کاری کا حجم بہت زیادہ ہے اور اس لئے چینی بینکرز اس کے لئے زیادہ پُرجوش نہیں ہیں تو یہ بات دل کو لگتی ہے۔ اسی بیان میں سفیر موصوف نے یہ بھی کہا تھا کہ صدر شی کے دورے کو کسی میگاپراجیکٹ کے افتتاح کے ساتھ مربوط یا منسوب نہ کیا جائے۔ ہمارا ماتھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا کہ جناب شی کا دورہ شائد ملتوی ہونے جا رہا ہے…… اور یہی ہوا……

اس دورے کے التواء کی دوسری وجہ ساؤتھ چائنا سی میں امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی کشیدگی ہو سکتی ہے۔ چین، تائیوان کو اپنا اٹوٹ انگ تصور کرتا ہے اور امریکہ اگرچہ ’ون چائنا‘ پالیسی پر صاد کرتا ہے لیکن امریکی اربابِ اختیار حال ہی میں تائیوان کے دورے کرکے ایسے بیان داغ رہے ہیں جو ’ون چائنا‘ پالیسی کو سپورٹ نہیں کرتے۔ امریکہ، ہانگ کانگ کے معاملے میں بھی ٹانگ اڑانے سے باز نہیں آتا اور انڈیا کا ایک وارشپ بھی ساؤتھ چائنا پانیوں میں پہنچ چکا ہے، جاپان کے وزیراعظم نے اگرچہ خرابی ء صحت کی بناء پر استعفیٰ دیا ہے لیکن کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ نئے جاپانی وزیراعظم کی خارجہ پالیسی وہی ہو گی جو وزیراعظم ایبے کے 8سالہ دورِ حکومت میں تھی یا اس میں کوئی تبدیلی واقع ہوگی۔

یہ تمام ڈویلپمنٹ اس بات کی متقاضی تھی کہ چینی صدر بیجنگ ہی میں رہیں اور اس وقت تک رہیں جب تک واشنگٹن میں نئی امریکی قیادت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ اور کسی آنے والے ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدر کی چائنا پالیسی کے سٹرٹیجک خدو خال کسی بڑی تبدیلی کا باعث نہیں بنیں گے، لیکن صدر شی شائد دیکھنا چاہیں گے کہ نئی امریکی صدارت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے…… اگر صدر شی کے دورۂ پاکستان کے التواء کی وجہ یہی ہے تو اس کی اصابت میں شک نہیں۔

دورے ملتوی ہوتے رہتے ہیں لیکن انڈوپاک خطے کی سیاسی فضائیں گزشتہ پون صدی سے بڑی حساس ہیں۔ باتوں کا بتنگڑ بنا لیا جاتا ہے اور پہل ہمیشہ انڈیا کی طرف سے ہوتی ہے۔ اب یہی دیکھئے کہ جونہی صدر شی کے دورۂ پاکستان کے ملتوی ہونے کی خبر بریک ہوئی، انڈین میڈیا میں بریکنگ نیوز کا ’منگل بازار‘ لگ گیا! انڈین دفاعی مبصروں نے یہ استدلال شروع کر دیا کہ چین اور پاکستان دراصل انڈیا کے ساتھ جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کا سارا فوکس مئی/ جون سے لے کر اب تک پاگونگ جھیل اور وادی ء گلوان پر مرتکز ہے۔ یعنی چین اگر اپنا فوکس امریکہ پر رکھ رہا ہے تو انڈیا کا فوکس چین پر ہے۔ انڈین میڈیا دن میں کم از کم تین ہنگامی خبریں ایسی بریک کرتا ہے جس میں پاگونگ جھیل، وادیء گلوان،دولت بیگ اولدی، پٹرولنگ پوائنٹ 14، فنگر4،لیح اور لیح سے اس سڑک کا احوال ہوتا ہے جو پاگونگ جھیل کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی دولت بیگ اولدی تک جاتی ہے اور چونکہ دولت بیگ اولدی سے درۂ قراقرم صرف  8کلومیٹر دور ہے اور درۂ قراقرم کے اس پار شمال میں چین کا سنکیانگ ہے اور مغرب میں پاکستان کا دیوسائی پلبن، سکردو اور قراقرم ہائی وے ہے، اس لئے انڈین لیڈرشپ اندیشوں میں گھری رہتی ہے۔

انڈیا اپنے اور چین کے درمیان دفاعی فورسز کی صف بندی کا جو پلان صبح و شام اپنے میڈیا پر دکھا رہا ہے اس کی سمجھ نہیں آتی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ جنگ کی صورتِ حال اگر سامنے نظر آ رہی ہو تو پہلا کام اپنی فورسز اور اسلحہ جات کی پوشیدگی اور اخفا ہوتا ہے۔ لیکن انڈیا کی یہ کیسی جنگی تیاری ہے کہ اس میں ایک ایک یونٹ، ایک ایک بھاری، اسلحہ اور ایک ایک تحفظی اقدامات کی تفصیل کھول کر سب کے سامنے رکھی جا رہی ہے۔ کیا جنگ کی تیاری اسی کا نام ہے؟ انڈیا کی وہ سرجیکل سٹرائک اور کولڈ سٹارٹ سٹرٹیجی کدھر ہے جس کا ڈھنڈورا اکثر ہماری LOC پر پیٹا جاتا تھا۔ ہماری اسی LOC کے ساتھ ایک چھوٹا سا ٹکڑا LACکا بھی ہے…… کیا انڈو چائنا اور انڈو پاک LAC میں اتنا فرق ہے کہ چین کے خلاف کسی سرجیکل سٹرائیک یا کولڈ سٹارٹ اٹیک کا نام سننے میں نہیں آتا۔

29اور 30اگست کی درمیانی شب انڈیا کی طرف سے لداخ میں ایک ایکشن لیا گیا، شاید وہی سرجیکل سٹرائک یا کولڈ سٹارٹ اٹیک ہو!…… اس ایکشن کی تفصیل بڑے طمطراق سے انڈین میڈیا پر دکھائی گئی۔ اور ہاں یہ عرض بھی کرتا چلوں کہ انڈیا آج کل جو خبریں اپنے مین سٹریم میڈیا پر بریک کرتا ہے، وہی سوشل میڈیا پر رکھ دیتا ہے تاکہ جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جان لے کہ ہم نے 29اور 30اگست کی رات اقصائے چین کی ان چار چوٹیوں پر قبضہ کر لیا جس پر”کوئی“ چینی سنتری یا پہریدار تعینات نہ تھا…… بندہ پوچھے اس میں بھارتی سورماؤں کی دلیری کا کون سا مظاہرہ تھا جو اس رات انڈیا نے چینی علاقے پر ”شب خون“ مار کر کیا؟…… یہ سارا علاقہ تو سارے کا سارا چوٹیو چوٹی ہے۔ سوائے ننگی اور بے برگ و بار کوہستانی بلندیوں کے اس تمام ایریا میں اور کیا دھرا ہے اور آج کل تو ویسے بھی برف پگھل چکی ہے اور تمام چوٹیاں برفانی سے میدانی بن چکی ہیں۔ وہاں اگر کسی انڈین یونٹ کے سورماؤں نے ’قبضہ‘ کر ہی لیا ہے تو اس کا اثر چینی دفاعی صف بندی پر کیا پڑے گا؟…… اگر یہ علاقہ (اقصائے چین) چین کا علاقہ ہے اور اس وسیع و عریض علاقے میں تین چار بلندیوں پر انڈین سولجرز پہنچ گئے ہیں تو انڈین آرمی کو دھنے باد!…… کہ اس نے چینی سپاہ سے جم کر لڑائی کی اور چینیوں کے چھکے چھڑا دیئے اور درجنوں چینی سولجرز ہلاک و زخمی کئے اور بیسیوں کو جنگی قیدی بنا لیا!

ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند

لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان تین چار چوٹیوں پر جو انڈین سولجرز چڑھ کر بیٹھ گئے ہیں اور جن کی تصاویر ہر انڈین چینل اور سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی ہیں، وہ کب تک یہاں بیٹھے رہیں گے؟…… وسط ستمبر یا زیادہ سے زیادہ اواخر ستمبر میں برف باری شروع ہو جائے گی تو ان ”کالیوں“ کا کیا بنے گا؟…… سوال یہ بھی ہے کہ انڈیا اس طرح کی اوچھی حرکتیں کیوں کر رہا ہے؟ اور وہ بھی PLA کے خلاف؟…… اگر انڈین حکومت 15جون کے لگے زخموں کا کتھارسس کر رہی ہے یا اپنی مجروح اَنا کا اندمال (Healing) کر رہی ہے یا قوم کا مورال اونچا کر رہی ہے تو کیا آج کے دور میں مورال اونچا کرنے کی یہی تدابیر ہیں؟

بات چلی تھی صدر شی کے دورے کے ملتوی ہونے سے اور کہاں آ پہنچی ہے!…… پاکستان میں چین کے سفیر مسٹر یاؤ جِنگ شائد 2017ء میں یہاں آئے تھے۔ اس سے پہلے وہ کابل میں بیجنگ کے سفیر تھے۔ ان کو تین سال ہونے کو ہیں۔ انہوں نے آج تک پاک چین تعلقات کو دیرپا اور مضبوط بنانے میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔ جب CPEC کے بارے میں پاکستان کا ایک مخصوص حلقہ اس منصوبے پر طرح طرح کے خدشات کی پرچھائیاں ڈال رہا تھا اور جب ملک کے معتبر انگریزی اخبارات CPEC کے مستقبل پر انگلیاں اٹھا رہے تھے اور دھڑا دھڑا رنگین ایڈیشن شائع کرکے ہمسایوں کا ’حقِ نمک‘ ادا کر رہے تھے تو اس وقت جناب یاؤ نے ڈٹ کر اس راہ داری منصوبے کی حمائت کی تھی اور طول طویل پریس کانفرنسیں کرکے اور بریفنگز دے کر اس پراجیکٹ کے روشن مستقبل کی نوید دی تھی۔ راقم السطور نے وہ ساری کانفرنسیں اور بریفنگزسنی تھیں۔ وجہ یہ تھی کہ اس CPEC کے ساتھ پاکستان کا مستقبل وابستہ تھا…… آج ہم اس پراجیکٹ کے سفر کا ایک بڑا حصہ طے کر آئے ہیں اور الحمدللہ راستے کی بہت سی رکاوٹیں دورہو چکی ہیں …… ایم ایل ون بھی اگر دیامربھاشا ڈیم کی طرح پروان چڑھنا شروع کر دیتا ہے اور چینی بینکاروں کے وہ خدشات اور تحفظات دور ہو جاتے ہیں جن کا حوالہ جناب یاؤ نے دیا تھا تو صدر شی کا دورہ جب بھی ہو گا، اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا…… پاکستان کو آم کھانے سے غرض ہے، پیڑ گننے سے نہیں!!

مزید :

رائے -کالم -