ماں اوراماں 

 ماں اوراماں 

  

ناصر اقبال خان

ایک ماں ہمارے نازاٹھاتی اور ہمیں لوریاں سناتی ہے جبکہ دوسری ماں یعنی سرزمین کی آغوش میں ہم ابدی نیندسوجاتے ہیں، دونوں صورتوں میں ماں کامقدس وجود اماں ہوتاہے۔ حساس انسان اپنی ماں اوردھرتی ماں دونوں سے والہانہ عشق اوران پررشک کرتاہے۔ ہمارے ملک کانظریہ اور جغرافیہ خاص اہمیت کاحامل جبکہ اس کی بنیادوں میں شہیدوں کا مقدس لہوشامل ہے۔ مدینہ منورہ کے بعد کلمہ طیبہ کے نام پرمعرض وجود میں آنیوالی دنیا کی دوسری اسلامی فلاحی ریاست بلاشبہ اللہ تعالیٰ کازندہ معجزہ ہے اورقدرت کامعجزہ کوئی حقیر انسان نہیں مٹا سکتا۔ انسان کی زندگی تقدیر اور تدبیر کی تصویر ہے، انسان کاکنویں میں گرناتقدیر جبکہ گہرائی سے باہرنکلنا تدبیر ہے۔ انسانوں کی تقدیر کے فیصلے کرنیوالے سچے معبود نے قیام پاکستان کے حق میں حکم صادرفرما دیا تھا مگر اس کے باوجود تدبیر کی ضرورت تھی جو بھرپور انداز سے کی گئی۔ دنیا کے نقشہ پر پاکستان کا معرض وجود میں آنا ہمارے بڑوں کے صادق جذبوں اور کٹھن جدوجہد کاثمر ہے۔ قیام پاکستان کیلئے ہمارے باپ دادانے توانائیاں اور قربانیاں دیں اور استحکام پاکستان کیلئے ہم اپنی جوانیاں اور قربانیاں دے رہے ہیں جبکہ ہمارے بچے مادروطن کے دوام کیلئے شہادت کے جام نوش کریں گے کیونکہ آزادی بیش قیمت نعمت ہے اور کوئی غاصب کسی مغلوب کو یہ نعمت پلیٹ میں رکھ کرپیش نہیں کرتا۔ قیام پاکستان کے بعد ہونیوالی تاریخی ہجرت کے دوران بھی پاک فوج  نے مستحسن کردار ادا کیا۔ آزادی کیلئے سراٹھانے اورکٹانے والے اس سے زیادہ دیرتک محروم نہیں رہتے۔ تحریک پاکستان درحقیقت سایہ ذوالجلال اور عزم واستقلال کی ایک دھڑکتی داستان ہے۔خالق اورمخلوق سے قرب کاراستہ کرب اور قربانی سے ہوکرگزرتا ہے۔ جوفوجی جوان مادروطن کی آن اورہم وطنوں کی جان بچانے کیلئے اپنی زندگیاں قربان کرتے رہے وہ یقیناً ہمارے قلوب کے قریب تر ہیں اوران سے روحانی قرب ہماراقیمتی اثاثہ ہے۔پاکستانیت کی رگ رگ میں اسلامیت اور روحانیت ہے۔ ہمارا ملک ہمارے نزدیک مادروطن کی حیثیت رکھتا ہے اور جانثار بیٹوں کے ہوتے ہوئے ان کی ماں پرآنچ نہیں آسکتی۔ مادروطن پرجان نچھاورکر تے ہوئے جام شہادت نوش کرنامحض بے نظیرسعادت نہیں بلکہ مقبول عبادت بھی ہے۔ ہماری سرزمین پرامن کے پھول کھلتے ہیں مگر ہمارا دشمن امن کے پھول مسلتا اور ہمارے خلاف زہراگلتا ہے۔ 6ستمبر1965ء میں بھارت نے طاقت کے زعم میں پاکستان کی سا  لمیت پر شب خون ماراتوہمارے جانباز اور شوق شہادت سے سرشار فوجی جوان دفاع وطن کیلئے دشمن کی توپوں کے مقابل اپنافولادی سینہ تان کرڈٹ گئے جس کے نتیجہ میں دشمن کو سرزمین پاک کی طرف بڑھتے اپنے ناپاک قدم روکنا پڑے اوروہ سترہ دن کی ناکام مہم جوئی کے بعد نامراد واپس پلٹ گیا، یوں پاک فوج کی پرجوش قیادت نے بروقت دفاعی تدبر اورتدبیر سے دشمن کاتکبر ملیا میٹ کردیا۔ ہمارے سرفروش اورکفن پوش فوجی آفیسرزاورجوان میدان جنگ میں دشمن کیخلاف پیشہ ورانہ مہارت سے تدبیر کر نے کے باوجود نعرہ تکبیر اللہ اکبرکی صدا بلندکرتے ہوئے نتیجہ اپنے معبودبرحق پرچھوڑدیتے ہیں جوکسی میدان اور امتحان میں ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا۔ پاکستان اور پاکستانیوں کیلئے نڈر اور پیشہ ورفوج کا دم غنیمت ہے۔ پاک فوج نے 1965ء کے تاریخی معرکے میں قصور،لاہور،سیالکوٹ اوربی آربی نہرسمیت ہر محاذ پر بزدل دشمن پرکاری ضرب لگاتے اور اسے کرارا جواب د یتے ہوئے اس کی کمر توڑ دی۔ پاک فوج کی بروقت اوردرست دفاعی مزاحمت کے سبب دشمن کے ارادے اورفوجی پیادے خاک میں مل گئے۔ 6ستمبر1965ء کی مہم جوئی میں بھارت کوبدترین رسوائی اورپسپائی کا سامنا کرنا پڑا، پاک فوج کے زبردست دفاع کے نتیجہ میں بھارتی آفیسرز جان بچانے کیلئے فوجی گاڑیاں اور اپنا اسلحہ چھوڑکر بھاگ کھڑے ہوئے، بھارتی سورماؤں کی چھوڑی ہوئی ایک جیپ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔1965ء میں بھارت نے پاکستان کے ساتھ جوجنگ'' چھیڑی ''تھی وہ بدترین ہزیمت اورشکست کے بعد اس کی'' چھیڑ ''بن گئی۔ دشمن ملک بھارت میں ہر سال ستمبر کامہینہ'' ستمگر ''کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1965ء میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کوجو زخم لگا وہ آج بھی تازہ ہے۔ 6ستمبر1965ء کی بدترین شکست کے بعد بھارت مسلسل مکاریاں اور تیاریاں کررہا ہے مگر جنگ کے میدان میں پاکستان کامردانہ وار مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔

 بھارت کے ہندوکھتری ہمارا فطری مگربزدل دشمن ہے، اس نے سوچا پاکستان ایک کمزور اور ناتواں ملک ہے اورپاک فوج کی خاص مزاحمت کے بغیر وہ ہم پرغالب آ جائے گا مگر ایسا ہوا نہ آئندہ ہوگا۔ دشمن ہونابھی ایک نعمت ہے مگردعا کریں کسی کادشمن کم ظرف نہ ہو،بھارتی ہندوبتوں اوربندروں سمیت مختلف جانوروں کے بھگت ہیں شاید اس لئے انہیں انسانیت کا درس یادنہیں رہا۔ بھارت میں جوں جوں انسان تعداد میں بڑھ رہے ہیں توں توں وہاں انسانیت ناپید بلکہ نابود ہوتی چلی جا رہی ہے۔ بھارت نے سات دہائیوں میں جوخطیر سرمایہ پاکستان کوکمزورکرنے پرصرف کیا اگر وہ پیسہ اپنے محروم طبقات کی بحالی وخوشحالی پر لگایا ہوتا توآج کروڑوں بھارتی ہندو جانوروں سے بدترزندگی نہ گزار رہے ہوتے۔ بھارتیوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کا معیار زندگی بہت بلند ہے۔ 1965ء میں بھارت نے پاکستان پر جوجنگ مسلط کی اس کاکوئی جواز نہیں تھا۔ بھارت کسی سانڈ کی طرف پاکستان کاامن روندنے کیلئے آیا تھا مگر اسے گیدڑ کی طرح میدان چھوڑکربھاگنا پڑا۔ چونڈہ بھارتی ٹینکوں اور اہلکاروں کیلئے موت کا پھندا بن گیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے ہرمحاذ پرخود سے کئی گنا بڑے دشمن کے سورماؤں کودھول چٹائی اور بھارت کے اندرکئی میل دورتک ان کا تعاقب کیا۔ 1965ء میں بھی دونوں ملکوں کی فوجی طاقت کاآپس میں کوئی موازنہ نہیں تھا اوراب بھی توازن نہیں ہے لیکن اس کے باوجود ایٹمی بھارت ایٹمی پاکستان کیخلاف جارحیت کی جسارت نہیں کرسکتا کیونکہ پاکستان کی جوہری صلاحیت دشمن کے ایٹمی ہتھیاروں سے بہت بہترہے۔ 1965ء میں بھارتی فوج نے اپنے حساب سے جنگ کا منصوبہ تیار کیاتھا اور وہ وہاں سے یقینی کامیابی کا سوچ کرچلے تھے، لاہورجمخانہ میں استراحت اور ضیافت کا پروگرام بھی تھا مگر ان کا ہر ایک خواب ان کیلئے عذاب بن گیا۔ بھارتی سینا کے میجر جنرل نرنجن پرشاد ٹینکوں اور توپوں کے ساتھ شہر لاہور پرترنگا لہرانے کی نیت سے روانہ ہو اتھا مگر میجر عزیز بھٹی نے اس'' نرنجن'' کا''منجن ''بنادیا۔ پاکستانیوں کے ہردلعزیزمیجر عزیزبھٹی نے بی آر بی نہر کا محاذ سنبھال لیا اور ان کی دفاعی تدبیر کے نتیجہ میں دشمن کی تقدیراس سے روٹھ گئی اور اسے بھاری نقصان برداشت کرناپڑا۔ ہمارے محبوب میجر عزیز بھٹی اپنے مدمقابل بھارتی میجر جنرل کی قیادت میں دشمن کومسلسل کئی روزتک روکے رہے اور انہوں نے12ستمبرکو بڑی آن بان اور شان سے شہادت کاجام نوش کیا۔ 

دشمن ملک بھارت آج بھی اپنے زعم اور اپنی فوج کے بڑے'' حجم'' سے پاکستانیوں کے'' عزم'' کامقابلہ نہیں کرسکتا۔ میدان جنگ میں ہارجیت کافیصلہ جہازوں، ٹینکوں یاتوپوں نہیں جنون اور جذبوں سے ہوتا ہے۔ جنون پاک فوج کے نڈر جوانوں کی رگ رگ میں خون بن کردوڑتا ہے۔پاک فوج کے جرنیل اور جوان دشمن کی سرزمین کواس کیلئے جہنم بنانے کے خواہاں نہیں،وہ تواپنی پاک سرزمین کوجنت بنانے کیلئے سرگرم ہیں لیکن اگردشمن نے 1965ء کی طرح دوبارہ جارحیت کی جسارت کی تواس کی سرزمین کواس کیلئے جہنم بنا دیا جائے گا۔ ہمارے فوجی جوان سلطان محمودغزنوی ؒ اور محمدبن قاسم ؒ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے بھارت کے ہرایک سومنات کوپاش پاش کردیں گے۔ جنرل'' قمر''جاویدباجوہ نے جس روزدنیا کی بہترین پاک فوج کی کمانڈ سنبھالی، انہوں نے اسی دن اندرونی وبیرونی دشمنوں کیخلاف'' کمر'' کس لی تھی۔ ایک دشمن ہمارے ملک پردشمن کی طرح وارکرتا ہے جبکہ ہمارے محافظ وطن کادفاع کرتے ہوئے اس پرجوابی وارکرتے ہیں مگر کچھ نقاب پوش دشمن ہمارے اندرسے سیاست کی آڑ میں ملکی سالمیت پر ضرب لگاتے ہیں تاہم ان کی شناخت ان کے بیانات اور اقدامات سے باآسانی کی جاسکتی ہے۔ جو شرپسند اپنے ملک کے دفاعی اداروں کیخلاف زہراگلتا ہووہ آپ کے اعلانیہ دشمن سے زیادہ بدتراورناقابل رحم ہے۔ اندرونی وبیرونی دشمنوں کے وجود پر''قمر'' کی کاری ضرب ان کی پاکستانیت اور اعلیٰ پیشہ ورانہ کارکردگی کامظہر ہے۔ پاکستان کی بری فوج،بحریہ،فضائیہ اوررینجرز کے سربراہان سے ہماری سکیورٹی فورسزکے ہرایک فرض شناس جوان تک سبھی دشمنان وطن کودھول چٹانے کیلئے سربکف اورکمربستہ ہیں۔ہمارے ''قمر'' کی روشنی سے دہشت اوروحشت کا اندھیرا چھٹ گیا اورامن کاسورج طلوع ہواہے۔ جنرل قمرجاویدباجوہ کوباتیں بنانے یاڈینگ مارنے کا شوق نہیں کیونکہ ان کاکام بولتا جبکہ دشمن ملک کے ایوانوں میں ان کانام گونجتاہے۔دوسال قبل جنرل قمرجاویدباجوہ نے نجوت سنگھ سدھوکوعزت دی توالٹابھارت میں صف ماتم بچھ گئی اوروہاں آج بھی سوگ کی کیفیت ہے۔ پاک فوج کے پروفیشنل، زیرک اور نڈرسپہ سالارجنرل قمرجاوید باجوہ بجا طور پر اپنے منصب سے انصاف کررہے ہیں،پاکستان سمیت دنیا بھرمیں ان کی کمٹمنٹ اورکام کوقدرکی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے۔جنرل قمرجاویدباجوہ کی قیادت میں شرپسندعناصر کیخلاف آپریشن اورپائیدارامن کیلئے ان کی دوررس اصلاحات سے پاک فوج کاوقاراورمورال دن بدن بلند ہو رہاہے۔ باوفا اور باصفا جنرل قمرجاویدباجوہ کی شخصیت کے اوصاف حمیدہ دیکھتے ہوئے پاکستانیوں کی پاک فوج سے محبت اورعقیدت مزیدبڑھ گئی ہے۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل بابر افتخار بیشک سرمایہ افتخار ہیں۔ میجرجنرل بابر افتخار کے ٹیم ممبرز اپنے ملک اوردفاعی ادارے کیلئے انتہائی اہم محاذ بااحسن اندازسے سنبھالے ہوئے ہیں،آئی ایس پی آر کے نغموں سمیت ان کی پاکستانیت سے بھرپور تخلیقات اورتقریبات کوبہت سراہاجاتا ہے۔ یوم دفاع کے سلسلہ میں پاک فوج کے زیراہتمام جی ایچ کیومیں ہونیوالی ہر پروقار اور شاندار تقریب قوم ہمیشہ یادرکھتی ہے۔ آئی ایس پی آر کے انتھک اورزیرک ڈی جی میجرجنرل بابر افتخار اپنے شعبہ کو جدیدتقاضوں سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔جو مٹھی بھربکاؤنادان افواج پاکستان کیخلاف زہراگل رہے تھے،آئی ایس پی آر نے ان کازہر بے اثرکردیاہے۔پاکستان کے لوگ آج بھی پاک فوج کی پشت پرکھڑے ہیں،وہ اپنے شہیدوں،غازیوں اورڈھول سپاہیو ں کی قربانیوں سے چشم پوشی نہیں کرسکتے۔ مادروطن پاکستان اورافواج پاکستان کے ساتھ ہماری محبت سودوزیاں سے بے نیازہے۔ یوم دفاع درحقیقت یوم تجدیدعہد وفا ہے،جوفوجی آفیسراورجوان مادروطن سے وفاکاحق اداکرتے ہوئے حق رحمت سے جاملے اس وطن اورہم وطنوں نے ان شہیدوں کوفراموش نہیں کیا۔ پاکستان کے یوم آزادی کی طرح یوم دفاع بھی ایک بڑا تاریخی دن اورہم سے تجدیدعہدکامتقاضی ہے۔ پاکستان اورافواج پاکستان کی شایان شان کچھ لکھنا آسان نہیں۔ راقم کاایمان ہے پاک فوج سے بے پایاں محبت کے بغیر پاکستان سے عشق کادعویٰ صادق نہیں ہوسکتا۔میں اپنی محبوب پاک فوج کے بدخواہ کو پاکستان کاخیرخواہ نہیں مانتا۔ہم اپنے محبوب جانبازوں کی وفاؤں کے مقروض ہیں،امن اوردفاع وطن کیلئے ان کے مقدس مشن کوجاری رکھنااب ہمارافرض ہے۔ہم اپنی جوانیاں مادروطن پرنچھاورکرتے ہوئے اس کی بے پایاں محبت کاقرض ضروراداکریں گے۔

مزید :

رائے -کالم -